مرجع تقلید وقت حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے کرونا وائرس اور ماہ مبارک رمضان کے قریب ہونے کے پیش نظر کئے گئے استفتاآت کے جواب میں کہا: رمضان المبارک کا روزہ ہر شخص کا فردی فریضہ ہے ، لہذا ہر وہ شخص جس میں وجوب کی شرائط موجود ہیں اس پر روزہ واجب ہے، اس سے قطع نظر کہ کسی دوسرے پر واجب ہے یا نہیں، روزہ رکھے۔

آپ کے جواب میں ایا ہے:

آنے والے رمضان المبارک میں اگر کسی مسلمان کو یہ خوف ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو کرونا لگ جائے گا خواہ وہ باقی تمام لازمی احتیاط کر بھی لے، تو ایسی صورت میں ہر وہ دن جس میں اس کو روزہ رکھنے کی وجہ سے کرونا لگنے کا خوف ہو اس دن کا روزہ ساقط ہوگا ۔ لیکن اگر کسی بھی طریقے سے اس کے لئے یہ ممکن ہو کہ وہ کرونا لگنے کے احتمال کو اس حد تک کم کرسکے کہ اس احتمال کو عقلاء اہمیت نہیں دیتے، جیسے گھر میں رہ کر، دوسرے لوگوں سے قریبی رابطے نہ رکھ کر، ماسک اور گلوز پہن کر ، اسی طرح مسلسل اسپرے وغیرہ لگا کرکے جبکہ ایسا کرنے میں اس کو زیادہ مشقت و دشواریوں کا سامنا بھی نہ ہو جو عام طور پر قابل تحمل نہ سمجھا جاتا ہو ، تو ایسی صورت میں اس پر ان امور کا بجا لانا ضروری ہے اور روزہ ساقط نہیں ہوگا ۔

جہاں تک ڈاکٹرز کی طرف سے باربار پانی پینے کی نصیحت کی بات ہے تاکہ حلق خشک نہ ہو اور کرونا لگنے کا احتمال کم ہوسکے، تو یہ باتیں ” درست ہونے کی صورت میں” لوگوں پر روزہ واجب ہونے سے نہیں روک سکتیں، البتہ وہ لوگ جن تک ڈاکٹرز کی یہ باتیں پہنچنے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر کرونا لگنے کا خوف پیدا ہوجائے نیز خوف کے اس احتمال کو کم کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہ ہو، جیسے گھر میں رہنے کا یا دیگر تمام احتیاطی تدابیر کے اختیار کرنے کا تو ان سے روزہ ساقط ہوگا جیسا کہ اوپر بھی بیان ہوا ہے ۔ لیکن ان کے علاوہ (جن تک ڈاکٹر کی یہ نصیحت نہیں پہونچی ہے یا ان کو کرونا لگنے کا اتنا زیادہ احتمال نہیں یا احتیاط وغیرہ کے ذریعے اس احتمال کم کرسکتے ہوں ) ان پر روزہ رکھنا واجب ہے ۔

اور ممکن ہے روزہ دار جسم میں پانی کی کمی کو سحری کے وقت ہری سبزیوں اور آب دار پھلوں کا استعمال کر کے پانی کی کمی پورا کرسکتا ہے ۔

اسی طرح شوگر سے خالی چیوینگ گم وغیرہ چبا کر بھی حلق کو خشک ہونے سے بچایا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کے اجزاء حلق سے نیچے نہ اترنے دے ۔

لہذا جو لوگ رمضان المبارک میں گھر میں رہ کر اپنی ڈیوٹی انجام دے سکتے ہیں اورکرونا وائرس میں مبتلا ہونے سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، روزہ ان پر سے ساقط نہ ہوگا ۔ لیکن جو لوگ کسی بھی وجہ سے ڈیوٹی نہیں چھوڑ سکتے اور انہیں اس بات کا خوف ہو کہ بار بار پانی نہ پینے کی وجہ سے انہیں کرونا لگ جائے گا اور اس سے بچنے کا کوئی اور راستہ بھی نہ ہو تو پھر ان کے اوپر روزہ واجب نہیں ہے، مگر ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ سرعام افطار کریں ۔ بلا شک ماہ مبارک رمضان کا روزہ، اہم ترین شرعی فریضہ ہے جس کا بغیر کسی حقیقی عذر کے ترک جائز نہیں ہے، ہر شخص اپنی حالت کے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ اس کے پاس روزہ  ترک کرنے کی حقیقی وجہ ہے یا نہیں ہے ۔

خلاصہ یہ کہ ماہ مبارک رمضان کا روزہ اس پر سے ساقط  ہے جس کے پاس شرعی عذر موجود ہو جیسے کہ بیمار ہو یا ڈاکٹر کی نصحیتوں کی وجہ سے خوف مند ہو کہ روزہ رکھنے کی صورت میں بیمار ہوجائے گا اور اس کے پاس خود کی حفاظت کا بھی کوئی راستہ نہ ہو، اس کے علاوہ خود کی حفاظت کے اسباب فراھم کرے اور روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے