شفقنا اردو: سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ افغان مجاہدین کی مدد کا مقصد یہ تھا کہ سوویت یونین کو پاکستان پر یلغار سے روکا جاسکے۔ القاعدہ کی تشکیل میں امریکا اور سعودی عرب کا کوئی کردار نہیں تھا۔

سعودی عرب کے نیوز چینل کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے ترکی الفیصل نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں سعودی عرب، امریکا اور پاکستان اتحادی تھے۔ سوویت یلغار روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں عرب مجاہدین کو پاکستان میں قائم کردہ پناہ گزین کیمپوں میں رکھا گیا۔ یہ تمام رضاکار جنگجو تھے جو سوویت یلغار کو روکنے کے لیے ہمارا دست و بازو تھے۔

انہوں نے کہا کہ افغان جہاد کے عرصے میں القاعدہ کے چوٹی کے کمانڈر اور افغان مجاہدین پشاور میں جمع ہوئے اور انہوں نے القاعدہ کی بنیاد رکھی۔ القاعدہ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا نتیجہ تھی۔ اس دہشت گرد تنظیم کی تشکیل میں سعودی عرب اور امریکا کا کوئی کردار نہیں تھا۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ میری اسامہ کے ساتھ پاکستان میں سعودی سفارت خانے میں مختلف مواقع پر ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد اسامہ سے ایک ملاقات جدہ میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں اسامہ بن لادن نے کمیونسٹ طرز عمل کے خلاف جنوبی یمن میں عرب مجاہدین کو انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے کی درخواست کی مگر میں نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی۔

انہوں نے کہا کہ 1995ء میں سوڈان کے سابق صدر عمرالبشیر نے خرطوم میں پناہ حاصل کرنے والے اسامہ بن لادن کو اس شرط پر سعودی عرب کے حوالے کرنے کا اعلان کیا کہ بن لادن کے خلاف سعودیہ میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی مگر سعودی حکومت نے سوڈانی صدر کی پیش کش مسترد کردی۔ اس کے بعد اسامہ بن لادن افغانستان چلے گئے۔ اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مجھے افغانستان میں ملا عمر کے پاس بھیجا تاکہ میں انہیں اسامہ بن لادن کی سعودی عرب کو حوالگی پرقائل کروں مگر اس میں ناکامی ہوئی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے