شفقنا اردو: سید محسن نقوی کو اگر وطن عزیز کے ادبی حلقوں میں ڈیرہ غازی خان کی پہچان اور شناخت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ محسن محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک طاقتور وتوانا آواز ہے ایک ایسی آواز جس نے مظلومو ں کی حمایت میں ظالموں کو سرعام اور ہر سطح پر للکارا۔ ببانگ دہل ظلم وجبر کے خلاف لکھا۔ محسن نقوی کا شعری سفر ایک شعوری انداز میں منزل کی طرف گامزن رہا۔ بند قبا سے لے کر فرات فکر تک کے فکری سفر میں محسن نے زندگی کو بہت قریب سے پرکھا، دیکھا اور باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور اپنے اس تجربے کو شاعری کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔

ایک انٹر ویو میں اپنی پیدائش سے متعلق سید محسن نقوی کچھ یوں بیان کرتے ہیں ”ڈیرہ غازی خان کی پسماندہ سرزمین، چھوٹا سا شہر، شہر کا ایک چھوٹا سا بلاک یا محلہ جسے بلاک نمبر 45 یا محلہ سادات کہتے ہیں اس محلے کی ایک چھوٹی سی گلی اور اس گلی میں ایک نیم تاریک مکان جہاں 5 مئی 1947 کی صبح کی پہلی کرن کے ساتھ دنیا کے بے شمار جانداروں میں ایک اور معمولی سی جان کا اضافہ ہوا۔ چھوٹا سا گھر تھا حسب روایت خوشی منائی گئی دو چار لمحوں کی، مبارک باد اور پھر سناٹا۔

بچے کا نام گھروالوں نے غلام عباس رکھا جو آٹھویں جماعت پاس کرتے ہی غلام عباس محسن نقوی بن گیا۔ محسن نقوی نے پرائمری تعلیم اپنے محلے کے ساتھ ہی ایک پرائمری سکول نمبر 6 میں حاصل کی، میٹرک ڈیرہ غازی خان گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 سے فسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ ایف اے اور بی اے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے کیا اور ایم اے گورنمنٹ کالج بوس روڈ ملتان سے 1970 میں پاس کیا۔ نامور شاعر پروفیسر اسلم انصاری ان کے استاد تھے۔

اس عرصہ میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف نظم لکھنے کے جرم میں مقدمات میں ملوث بھی ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان کے کالج کے مجلہ“ الغازی ”کے دو مرتبہ مدیر بھی رہے۔ ملتان میں ایم اے کے دوران ملتان کالج کے رسالہ نخلستان کے ایڈیٹر بھی رہے۔ امروز ملتان میں مسعود اشعر کے زمانے میں کام بھی کیا۔ محسن ان کا تخلص تھا جبکہ لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ تاہم ادب کی دنیا میں انہوں نے محسن نقوی کے نام سے شہر ت پائی اور یہی نام زبان زد عام ہوا۔

پہلا شعر آٹھویں جماعت میں کہا۔ شاعری کی طرف رحجان سے متعلق ایک بار محسن نقوی نے جواب دیا کہ“ طبیعت بچپن سے ہی شاعرانہ تھی۔ آپ سے ایک بھید کہیں کہ چاندنی ہماری کمزوری ہے اور جب سے ہوش سنبھالا ہے ہر چاند کی چودہویں کو بھی نہیں سوئے۔ خدا جانے کیا وجہ ہے؟ عجیب وغریب کیفیت ہوتی ہے۔ ”گھر رہیں تو ویرانی دل کو کھانے کو آوئے“ والا معاملہ ہوتا ہے، چاندنی، سگریٹ کا دھواں اور آوارگی ہماری تین شدید کمزوریاں ہیں جواب تک پوری تابندگی سے جاری ہیں۔

سفر، سگریٹ اور چاندنی، تینوں بے وجہ ذہن کو الجھا کر رکھ دیتے ہیں اور ہماری شاعری ان کے بغیر سانس لینا بھی گوارا نہیں کرتی ”۔ انہی قلبی کیفیات میں 1969 ء میں محسن نقوی کا پہلا مجموعہ کلا م بند ِ قبا منظر عام پر آیا اور اس وقت کے شعراء میں محسن نے اس کلام کی بدولت اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلایا۔ محسن نقوی کو شاعر آلِ محمد ﷺ بھی کہا جانے لگا۔ محسن لاہور منتقل ہوئے اور لاہور کی ادبی محفلوں میں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی اور اس دوران 1978 ء میں محسن نقوی کی دوسری کتاب برگِ صحرا اس کے بعد 1985 ء میں ریزہ حرف، 1990 ء میں عذابِ دیداور اس کے دوسال بعد 1992 ء میں طلوع اشک، 1994 ء میں رختِ شب، 1996 ء میں خیمہ جاں اور اس کے بعد موجِ ادراک اور فرات ِ فکر محسن نقوی کے فکری اور علمی اثاثہ کے طورپر آج بھی تشنگان علم کے لیے زادِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ردائے خواب کے دیباچے میں محسن نقوی نے اپنی شاعری کا مرکز محبت اور امن کو قرار دیا۔ کیونکہ بقول محسن نقوی کے“ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں جی بھر کے محبت کرنے کی بھی مہلت نہیں ملتی خداجانے لوگ نفرت کے لئے وقت کہاں سے بچا لیتے ہیں ”۔ محسن نقوی نے محض اردو میں ہی اشعار نہیں کہے بلکہ محسن نقوی کا سرائیکی میں بھی بہت سا کلام موجود ہے اور محسن نقوی نے سرائیکی شاعری میں ڈیرہ غازی خان کے شفقت کاظمی سے رہنمائی لی۔

ڈیرہ غازی خان بلاک 46 کے رہائشی شفقت کاظمی کی ایک مدت تلک مولانا حسرت موہانی سے شاگرد بننے کے لیے خط وکتابت رہی اور اس دوران شفقت کاظمی نے ایک کتاب داغ حسرت لکھ کر بطور تحفہ مولانا حسرت موہانی کو بھیجی جس کے بعد مولانا حسرت موہانی نے شفقت کاظمی کو اپنا شاگر د تسلیم کرلیا۔ شفقت کاظمی اردو اور سرائیکی کے قادرالکلام شاعر تھے اور محسن نقوی بھی شفقت کاظمی سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ محسن نے سرائیکی کی کافی اصناف میں طبع آزمائی کی۔

محسن نقوی جب بھی ڈیرہ غازی خان آتے ان کی اردو کے شعرا کے علاوہ سرائیکی شعراء کے ساتھ ملاقاتیں اور محفلیں عروج پر ہوتیں۔ محسن نقوی کی سرائیکی میں آزاد نظم“ ہن کیا تھیسی؟ ”نے سرائیکی شاعری کے ادبی حلقوں میں کافی شہرت پائی۔ اس نظم سے محسن نقوی کی سرائیکی وسیب سے متعلق معلومات اور آشنائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ بکروال ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی ومفہوم سرائیکی زبان سے گہری واقفیت رکھنے والے کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔

بکروال شمال مغربی کونے سے نکلنے والا وہ بادل ہوتا ہے جس کی رنگ بالکل سیاہ ہوتا ہے اور یہ بادل جب نمودار ہوتا ہے تو برستا ضرور ہے اور موسلا دھار بارش ہوتی ہے۔ اسی نظم میں محسن نقوی نے سرائیکی کا لفظ “واچھڑ” استعمال کیا ہے جس کے معنی موسلادھار بارش کے ہیں اور یہ لفظ اس وقت متروک ہوچکا ہے۔ صرف اردو ہی نہیں سرائیکی کے الفاظ بھی محسن کی سرائیکی شاعری میں اپنی خوبصورتی، موقع محل، معنویت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

محسن نقوی کی شہرت کا یہ بھی ہے کہ محسن نے کربلا کو اپنا موضوع سخن بنایا اور شاعر اہلبیت کے نام سے بھی شہرت پائی۔ خانوادہ نبوت سے محسن کی محبت نے جنون کی شکل اختیار کرلی اور واقعات کربلا اور ذکر اہلبیت نے محسن کی شاعری کو عظمتوں سے ہمکنار کردیا۔ محسن کے سرائیکی کلام میں بھی اہل بیت سے محبت کی خوشبو کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اہل بیت کی محبت اور غلامی کے طفیل روز محشر بخشش کے لیے پر امید محسن نقوی کا یہ انداز بھی ایسا ہے جیسے موتی لڑی میں پروئے ہوئے ہوں۔

سرائیکی غزل میں بھی محسن نے زندگی کی تلخیوں کو بہت ہی شاندار اور خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ اور سرائیکی وسیب کے ہرممکنہ استعارے اور کیفیت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں محسن نقوی کامیاب بھی رہا ہے۔ محسن کی سرائیکی شاعری کو پڑھ کر جدید اور قدیم کا ایک حسین امتزاج محسوس ہوتا ہے۔ رات کی غربت کا ذکر کرتے ہوئے ”ہنج دی زکواۃ“ دینے کا مشورہ محسن نقوی جیسا شاعر ہی دے سکتا ہے۔ محسن نقوی صرف اردو شاعری کا ہی بڑا نام نہیں ہے اگر محسن نقوی کے سرائیکی کلام کو جمع کیا جائے تو یہ سرائیکی ادب اور سرائیکی زبان کی ایک بہت بڑی خدمت ہوگی اورمحسن نقوی کا کلام سرائیکی ادب میں ایک بہترین اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی محفل شعروسخن کا یہ عظیم نام 15 جنوری 1996 کو محبت، امن کا شاعردہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں دنیا ے فانی سے کوچ کرگیا۔ محسن نقوی آج ہم میں موجود نہیں ہے مگر ان کی شاعری آج بھی زبان زد عام ہے

ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے