شفقنا اردو: صوبہ پنجاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرتے ہوئے کچھ کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی گئی لیکن مجموعی طور پر لاک ڈاؤن میں 31 مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے ہفتے کو لاک ڈاؤن میں توسیع کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت اب 31 مئی تک صوبے بھر میں لاک ڈاؤن رہے گا۔

تاہم لاک ڈاؤن میں توسیع کے ساتھ ہی لوگوں کو ہفتے میں چار دن کاروبار کا استثنیٰ دیا گیا ہے اور اب عوام پیر سے جمعرات کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کاروبار کر سکیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں تعمیراتی صنعت، اسٹیل، اور پی وی سی پائپ کے کاروبار، بجلی کی مصنوعات، اسٹیل اور المونیم سے اشیا بنانے والوں، سیرامکس اور رنگ کی صنعت، سینیٹری، پینٹ، المونیم اور اسٹیل کا کام کرنے والوں اور ہارڈویئر کی دکانوں کو مکمل ایس او پیز کے ساتھ کام کی اجازت ہو گی۔

اس سلسلے میں بتایا گیا کہ برآمدی سمیت ہر طرح کی فیکٹریوں کو کاروبار کی اجازت ہوگی البتہ اس سلسلے میں تفصیلی اعلامیہ محکمہ صنعت جاری کرے گا۔

پنجاب حکومت نے واضح کیا کہ بڑے شاپنگ مالز کے سوا تمام کاروباروں کو کھلنے کی اجازت ہو گی جبکہ کچھ کاروباروں کو ہفتے کے ساتوں دن اور 24 گھنٹے کام کا استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ نائی، بال کاٹنے والے سیلون اور جمنازیم بھی ہدایات پر عمل کرنے کی صورت میں کام کر سکتے ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ پرچون کی دکانیں، جنرل اسٹورز، کریانہ اسٹورز، بیکری، آٹا چکی کی دکانیں، دودھ، گوشت، پھل، سبزی کی دکانیں، تمام تر سبزی اور پھل منڈیاں اور تندور کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی ورکشاپس کو پورا ہفتہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کام کی اجازت ہوگی۔

البتہ ٹائر پنکچر کی دکانوں، اسپیئر پارٹس کی دکانوں، ہوٹل کے ڈرائیورز، پیٹرول پمپ، ریسٹورنٹ (صرف ڈیلیوری اور ٹیک اوے) کے لیے ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے کاروبار کر سکیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ پوسٹل اور کوریئر سروس، پک اینڈ ڈراپ سروس یا اندرون شہر گاڑیوں کی آمد و رفت کی بھی پورا ہفتہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک اجازت ہو گی۔

لیکن پنجاب حکومت نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی اداروں، بڑے شاپنگ مالز، ہوٹلز، شادی ہال، تقریبات و اجتماعات، کھیلوں کے مقابلوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر مکمل طور پر پابندی ہو گی۔

خیال رہے کہ پنجاب میں 23 مارچ کو کورونا وائرس کے باعث صوبے میں جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا تھا جس کے بعد صوبےمیں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بعد ازاں اس لاک ڈاؤن میں 14 اپریل کو توسیع کردی گئی تھی لیکن بڑھتے ہوئے کیسز کی شرح کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے 14اپریل کو لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کردیا تھا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے 24 اپریل کو لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کا اعلان کیا تھا جس پر تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا تھا۔

البتہ چند دن قبل وزیراعظم عمران خان نے 9 مئی سے سخت احتیاط کے ساتھ کاروبار زندگی کی مشروط بحالی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بیشتر کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

صوبہ پنجاب ملک میں سندھ کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں وائرس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 191 افراد ہلاک اور 10 ہزار 471 متاثر ہو چکے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے