شفقنا اردو: افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے ’دی ہندو‘ کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انڈیا کو طالبان کے ساتھ براہ راست بات کرنی چاہیے۔ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی اہلکار نے انڈیا کو طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی پیشکش کی ہو۔ انڈیا خطے میں وہ واحد ملک ہے، جس کے طالبان کے ساتھ باضابطہ رابطے نہیں ہیں۔

اگرچہ افغانستان میں طالبان کے دور میں چین، ایران اور روس نے بھی اُن کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا تاہم اب تینوں ممالک طالبان کے ساتھ نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ روس نے تو افغان امن عمل کے سلسلے میں نومبر 2018 میں بین الافغان کانفرنس کی میزبانی بھی کی تھی۔

انڈیا نے پچھلے 20 برس میں افغانستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور افغانستان نے بھی انڈٰیا کے ساتھ اپنی دوستی کو ہر ممکن طور برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ کابل میں انڈین سفارتخانے کے مطابق اب تک انڈیا افغانستان میں دو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔

نئی دہلی اور کابل کی دوستی اس لیے بھی مضبوط ہوتی گئی کہ دونوں اسلام آباد پر طالبان اور کشمیر میں لڑنے والے جنگجؤوں کی مدد کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

افغان امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق دو بڑی وجوہات ہیں جس کے باعث اب تک انڈیا نے طالبان کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا۔ ایک طالبان کا پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات یا پھر پشت پناہی کا الزام اور دوسری طالبان کی کشمیر میں انڈیا کے خلاف لڑنے والے جنگجؤوں کی حمایت ہیں۔ 2001 میں طالبان دور کے خاتمے کے ساتھ ہی انڈیا نے واپس افغانستان میں پانچ سال کے بعد اپنا سفارتی عملہ بھیجا تھا۔

افغانستان میں سابق انڈین سفیر گوتم موکوپادیا اُن سفارتکاروں میں سے ایک تھے جنہوں نے افغانستان میں انڈین مشن کو دوبارہ کھولا۔ موکوپادیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈیا کے لیے ایک فرینڈلی میسج ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ طالبان عنقریب افغانستان کی سیاست میں آسکتے ہیں اور انڈٰیا کو بھی آن بورڈ آنا چاہیے۔

افغانستان پر تین کتابیں لکھنے والے امریکی مصنف برنیٹ آر ریوبن کے مطابق زلمے خلیل زاد نے یہ نہیں کہا ہے کہ انڈیا طالبان کو افغان حکومت کے متوازی قبول کرلے بلکہ جس طرح باقی ممالک کے طالبان اور دوسرے دھڑوں کے ساتھ رابطے ہیں اسی طرح انڈیا بھی طالبان کے ساتھ رابطہ کرلیں اور اُنہیں اسلحہ پھینکنے کے لیے اور عملی سیاست میں آنے کو کہیں۔

ریوبن کے مطابق ’اب جب طالبان افغان پولیٹیکل سسٹم میں داخل ہورہے ہیں تو یہ انڈیا کے لیے اچھا ہوگا کہ وہ اُن کے ساتھ رابطے میں رہے، ایسے ہی جیسے وہ جمعیت اسلامی، جنرل دوستم یا پھر پشتون قوم پرستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

ریوبن کے مطابق انڈیا کی طالبان پالیسی پہلے ہی تبدیل ہوچکی ہے، جب اُنہوں نے نومبر 2018 میں ماسکو میں ہونے والی بین الافغان کانفرنس میں دو سابق سفارتکار بھیجے تھے۔ اگرچہ انڈین وزارت خارجہ نے اُس وقت کہا تھا کہ یہ دو سفارتکار ’نان آفیشل‘ طور پر اس کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں۔

دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا سیاسی دفتر اسی لیے بنایا گیا ہے کہ دنیا کے ممالک کے ساتھ اُن کی پالیسی شئیر کریں۔ ’جو بھی ہم سے رابطہ کرے گا ہم اُنہیں اپنی حالیہ اور مستقبل کی پالیسی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔‘

افغان صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دور میں القاعدہ سے زیادہ کشمیری اور پنجابی ’مجاہدین‘ افغانستان میں گھس گئے تھے اور اُس وقت انڈیا کی تشویش اسی وجہ سے جائز تھی۔ اُن کے مطابق ’اب طالبان انڈیا کے ساتھ اپنی مشکل آسانی سے حل کرسکتے ہیں۔‘

سابق انڈین سفیر گوتم کے مطابق انڈیا نے آج تک طالبان کو ریجیکٹ نہیں کیا ہے البتہ اُن سے رابطے میں نہیں رہے ہیں۔ گوتم کے مطابق طالبان کی انڈیا سے بات چیت سے پہلے افغان حکومت سے بات کرنی چاہیے اور اُنہیں ماننا چاہیے۔ ’میں انڈین حکومت کی نمائندگی سے بات نہیں کر رہا لیکن اتنا کہوں گا کہ طالبان کو انڈیا سے پہلے افغان حکومت کو تسلیم کرنا چاہیے اور اُن سے بات کرنی چاہیے۔‘

افغان صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق اگر طالبان انڈیا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تو وہ یہ تاثر ایک حد تک رد کرسکتے ہیں کہ اب اُن پر پاکستان کا اتنا اثر ورسوخ ہیں۔ اُن کے مطابق دوسری جانب انڈیا کو بھی اب یہ احساس ہوا ہے کہ طالبان کو صرف اور صرف پاکستان کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

افغان حکومت کا کیا ہوگا؟

اگرچہ امریکہ، جرمنی، روس، ایران، چین اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے طالبان کے ساتھ بلواسطہ یا بلاواسطہ رابطے ہیں، تو اگر افغانستان کا قریبی دوست ملک انڈیا طالبان کے ساتھ رابطہ کرتا ہے کیا افغان حکومت کو تشویش ہوگی؟

انڈیا میں سابق افغان سفیر شیدا محمد ابدالی کے مطابق انڈیا خطے میں افغانستان کا وہ قریبی اور مخلص دوست ملک ہے جو اگر طالبان سے رابطے میں بھی رہے تو دیگر ممالک کے برعکس اپنے مفادات سے زیادہ افغان حکومت کے مفادات کو دیکھے گا۔

ان کے مطابق ’اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انڈیا کن شرائط پر طالبان سے بات کرنے پر رضامند ہوتا ہے لیکن انڈٰیا اور افغانستان کی دوستی کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اگر بات کرتے بھی ہیں تو افغان حکومت کی ہم آہنگی سے کریں گے۔‘

سابق افغان سفیر شیدا محمد ابدالی سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت کی شروع ہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ افغان امن عمل میں خطے کے ممالک بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اُن کے مطابق ان ممالک میں پھر اگر انڈیا جیسا دوست ملک طالبان سے رابطہ کرتا ہے تو افغان حکومت کو کوئی تشویش نہیں ہوگی۔

پاکستان کے خدشات کیا ہوسکتے ہیں؟

افغانستان میں ایک جانب اگر انڈیا نے دو بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے تو دوسری جانب پاکستان کے سابق جہادی لیڈروں اور طالبان کے ساتھ کسی بھی دوسرے ملک سے اچھے اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ بعض پاکستانی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سابق مجاہدین اور طالبان افغانستان میں پاکستان کے مفادات کا ہر ممکن دفاع کرسکتے ہیں۔

2001 کے بعد جوں جوں انڈیا اور افغانستان کے ’تاریخی تعلقات‘ ایک بار پھر بڑھتے گئے پاکستان میں تشویش بھی بڑھتی گئی۔ پاکستان کو اس پر تشویش ہے کہ انڈیا آخر کیوں افغانستان میں اربوں کی سرمایہ کاری کررہا ہے اور افغان حکومت کو انڈیا سے زیادہ پاکستان کے قریب ہونا چاہیے۔ جبکہ اس کے جواب میں افغانستان کا موقف ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اُن کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات پر پاکستان کے تحفظات کا کوئی حق نہیں بنتا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ بلوچ مزاحمت کار بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب افغان عوام میں آج بھی پاکستان سے زیادہ انڈیا قابل قبول ہے اور وہاں آج بھی شدت پسندی کے اکثر واقعات کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

برنیٹ آر ریوبن کے خیال میں اگر پاکستان یہ سوچتا ہے کہ افغانستان میں طالبان پاکستان کے مفادات کا دفاع کریں گے تو یہ پاکستان کی بڑی بھول ہوگی۔ اُن کے مطابق طالبان نے مجبوری کے عالم میں پاکستان میں پناہ لی تھی اور جوں جوں وہ واپس افغانستان میں مرکزی دھارے میں شامل ہوجائیں گے، اُن کا پاکستان پر انحصار کم ہوتا جائے گا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے