شفقنا اردو: معیشتیں ٹھیک ہوسکتی ہیں، مردے ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ جب تاریخ کی کتابیں لکھی جائیں گی تو لکھنے والا، ان رہنماؤں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا جنہوں نے کورونا وائرس کو آتے دیکھا اور اس سے نمٹنے کے لئے کام کیا اور ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گا جنہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

نیوزی لینڈ جس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے وہاں کی وزیر اعظم نے کورونا کے متعلق بروقت اقدامات کئیے اور اپنے ملک میں کورونا کی تباہی کو محدود کر دیا ۔جب دوسری معیشتیں ابھی بھی چل رہی تھیں، نیوزی لینڈ نے اپنے مالز ، کھانے پینے والے مراکز، اسکول، دفاتر بند کر دئیے۔ لوگوں کو صرف گھر کے قریب ضروری نقل و حمل کی اجازت تھی۔ گوگل کے کمیونٹی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی اور کھانے پینے کی جگہوں والے علاقوں کے قریب ، پارکوں اور ساحلوں کے قریب لوگوں کی سرگرمیاں تقریباً نوے فیصد کم ہو گئیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ملک میں کورونا کے کل ایکٹیو کیسز کی تعداد صرف 164 ہے

جبکہ مرنے والوں کی کل تعداد اکیس ہے۔ یورپ میں اٹلی کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ وہاں بھی حکومت کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن کی پالیسی کے بعد کورونا کیسز کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ جس کی وجہ سخت لاک ڈاؤن کی پالیسی اور اس پر عملدرآمد تھا۔ اٹلی میں لوگوں کے گھر سے نکلنے پر سخت پابندی عائد کی گئی۔ میڈیکل سٹور اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے والی دکانوں کے علاوہ تمام دکانیں بند کر دی گئی تھیں۔ سفر کرنے سے پہلے پولیس کی جانب سے اجازت نامہ لینا ضروری قرار دیا گیا۔

جیلوں میں ملاقاتیں بند کر دی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اموات رپورٹ ہوتی رہیں اب روزانہ کی بنیاد پر اوسط اموات اڑھائی سو سے کم ہو گئی ہیں۔ پاکستان کی کہانی اس سے برعکس ہے۔ چودہ مارچ کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا لیکن عملاً کبھی مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی پر عمل نہ ہوا۔ صرف کنفیوژن بھرے بیانات سامنے آتے رہے کہ لاک ڈاؤن ہو گا نہیں ہو گا ، جزوی لاک ڈاؤن ہو گا، مکمل لاک ڈاؤن ہو گا، کچھ کاروبار کھول دئیے جائیں گے وغیرہ۔

جہاں دنیا کے زیادہ تر ممالک میں لاک ڈاؤن کے بعد کورونا کیسز میں کمی دیکھنے میں آئی ہے وہاں پاکستان میں مسلسل اضافہ نظر آ رہا ہے۔ مئی کے آغاز سے اب تک روزانہ تقریباً آیک ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں اور اموات کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ یہ بھی کہ لاک ڈاؤن کا مقصد بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کرنا اور بیمار لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ کرنے بعد ان کا علاج کرنا تھا۔ لیکن حکومت نے ایسا کچھ نہ کیا۔ اس صورتحال میں 7 مئی کو وزیراعظم کا لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کرنے کا فیصلہ درست ہو گا یا غلط یہ تو اگلے دس دن میں معلوم ہو جائے گا۔

لیکن وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ حکومت ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کرے گی۔ لوگوں کو خود سماجی روابط میں احتیاط برتنی ہو گی سے مراد یہی ہے کہ جاگدے رہنا ، ساڈے تے نہ رہنا۔ لوگوں کو خود احتیاط کا مشورہ ایسا ہے جیسے ہندوستان کے ساتھ کوئی دوستانہ جنگ لڑنے کی خواہش کرنا، جیسے جمہوری مارشل لاء لگانا۔

آسان الفاظ میں یہی کہ خان صاحب کے مطابق سواری سامان کی اب خود زمہ دار ہے، کورونا پھیلے یا نہ پھیلے لوگ مریں یا نہ مریں حکومت کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یاد رہے۔ معیشتیں ٹھیک ہوسکتی ہیں ، مردہ ٹھیک نہیں ہوسکتے ۔ جب تاریخ کی کتابیں لکھی جائیں گی تو لکھنے والا ، ان رہنماؤں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا جنہوں نے کورونا وائرس کو آتے دیکھا اور اس سے نمٹنے کے لئے کام کیا اور ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گا جنہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

محمد اویس

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے