شفقنا اردو: دنیا میں کووڈ۔19 کے کیسز بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ذہنوں میں ہسپتالوں کی تصاویر بھی نقش ہوئی ہیں۔

لیکن جب ہم انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں مریضوں کو سانس لینے میں مدد کے لیے جدید وینٹیلیٹروں کے ساتھ دیکھتے ہیں تو جو ایک چیز ہمیں بڑی عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ کیوں ان میں سے اکثر اپنے پیٹ کے بل الٹے لیٹے ہوئے ہیں۔

اس پرانی تکنیک کو ‘پروننگ’ کہتے ہیں اور سامنے آیا ہے کہ یہ کچھ مریضوں کو جنھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو مدد دیتی ہے۔

یہ پھیپھڑوں میں زیادہ آکسیجن پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن اس تکنیک کے کچھ مسائل بھی ہیں۔

آکسیجن کے بہاؤ کا بڑھنا

مریضوں کو اس حالت میں کئی گھنٹے رکھا جا سکتا ہے تاکہ ان کے پھیپھڑوں میں موجود مایہ کو آگے بڑھایا جا سکے جو ان کی سانس لینے میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

پرون لاطینی زبان کے لفظ پرونس سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے آگے کی طرف جھکنا۔ اس تکنیک کو ان کووڈ۔19 کے مریضوں پر کافی آزمایا جا رہا ہے جن کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پھیپھڑوں اور انتہائی نگہداشت کی ادویات کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر پناگیس گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ ’اکثر کووڈ۔19 کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے انھیں نقصان پہنچتا ہے۔’

’اگرچہ انھیں آکسیجن دی جا رہی ہوتی ہے لیکن کئی مرتبہ وہ کافی نہیں ہوتی۔ سو ہم یہ کرتے ہیں کہ انھیں منہ نیچے کر کے معدے کے بل لٹا دیتے ہیں تاکہ ان کے پھیپھڑے پھیل سکیں۔’

ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ پھیپھڑوں کے سب سے وزنی حصے ہماری پشت پر ہوتے ہیں، اس لیے جو مریض اوپر کی طرف منہ کر کے لیٹتے ہیں ان کا وزن پشت پر ہوتا ہے اور ان کے لیے ضرورت کے مطابق آکسیجن لینا ذرا مشکل ہوتا ہے۔

اس کے برعکس پروننگ کی تکنیک سے آکسیجن کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور یہ پھیپھڑوں کے مختلف حصوں کو بھی کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ ‘اس سے واضح تبدیلی آ سکتی، ہم نے اس کا اثر کئی مریضوں میں دیکھا ہے۔’

مارچ میں عالمی ادارۂ صحت نے ان کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے دن میں 12 سے 16 گھنٹے پروننگ کو تجویز کیا تھا جن کو اکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے آر ڈی ایس) ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ بچوں کے لیے بھی یہ تکنیک استعمال کی جا سکتی ہے لیکن اس کو کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور اضافی ماہرانہ صلاحیت کی ضرورت ہے۔

کووڈ 19 جیسی اے آر ڈی ایس بیماری کے بارہ مریضوں پر امیریکن تھوراسک سوسائٹی کی طرف سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ جن مریضوں نے پرون کی حالت میں وقت نہیں گزارا ان کے پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت دوسروں کی نسبت کمزور تھی۔

پیچیدہ تکنیک

اگرچہ دیکھنے میں یہ ایک عام سا طریقۂ کار لگتا ہے لیکن پروننگ میں بہت سی ممکنہ پیچیدگیاں بھی ہیں۔

کسی بھی مریض کو اس کے معدے کے بل لٹانے میں وقت لگتا ہے اور اس کے لیے کئی تجربہ کا پروفیشنلز کی ضرورت پڑتی ہے۔

ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ ‘یہ آسان نہیں ہے۔ اس کو مؤثر طریقے سے کرنے کے لیے چار یا پانچ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔’

یہ ان ہسپتالوں کے لیے اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جن میں کووڈ 19 کے مریض تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کے مطابق جان ہاپکنز یونیورسٹی نے کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر پروننگ کے لیے ایک ٹیم مختص کی ہوئی ہے۔

‘تو اگر کووڈ 19 کے مریض اس انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہوں جہاں عملے کو اس پروسیجر کا تجربہ نہیں ہے تو وہ سپیشلسٹ ٹیم کو بلائیں گے جو مریض کو پرون کی حالت میں لٹائے گی۔’

لیکن مریض کی لیٹنے کی حالت بدلنے سے بھی بہت سی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔

’ہماری سب سے بڑی تشویش موٹاپا ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے متعلق احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جنھیں سینے پر چوٹیں ہوں اور جو مریض پہلے ہی وینٹیلیشن ٹیوب یا کیتھرٹر ٹیوب پر ہوں۔’

اس تکنیک کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے دل کے زیادہ دورے پڑتے ہیں اور کئی مرتبہ اس سے ایئرویز یا سانس میں رکاوٹ بھی آ سکتی ہے۔

‘اس کا اب استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے’
سب سے پہلے پروننگ کے فوائد کے متعلق 1970 کی دہائی کے وسط میں پتہ چلا تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے ہسپتالوں میں اس کا عام استعمال 1986 میں جا کر ہی عمل میں آیا۔

لوسیانو گیٹینونی ان ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اس تکنیک پر کام کیا اور کامیابی سے اسے مریضوں پر استعمال کیا۔

وہ اس وقت میلان کی یونیورسیٹا سٹاٹیل کے اعزازی پروفیسر ہیں اور اینیستھیسیولوجی اور ریسسیٹیشن کے ماہر بھی۔

پروفیسر گیٹینونی نے بی بی سی کو بتایا کہ پروننگ پر شروع شروع میں بہت سے اعتراضات کیے گئے، جن کا ذمہ دار وہ میڈیکل کمیونٹی کے بہت زیادہ قدامت پسند رویے کو ٹھہراتے ہیں۔

لیکن اب اس کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے

وہ کہتے ہیں کہ پروننگ کا واحد فائدہ پھیپھڑوں کو زیادہ آکسیجن پہنچانا ہی نہیں ہے۔

پروفیسر گیٹینونی کے مطابق ‘جب مریض اوندھا پڑا ہوتا ہے تو اس کے پھیپھڑوں میں قوت زیادہ مساوی انداز سے پھیلتی ہے۔

‘ذرا اس پھیپھڑے کے متعلق سوچیں جس کو وینٹیلیٹر کی مکینیکل اینرجی دی جا رہی ہے: یہ اس طرح ہے جیسے اسے لگاتار مکے مارے جا رہے ہوں۔ صاف ظاہر ہے کہ جتنا متوازی طریقے سے قوت کو تقسیم کیا جائے گا، اتنا ہی کم نقصان ہو گا۔‘

سنہ 2000 میں فرانس میں کی گئی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ جو مریض پرون ہوئے تھے ان کی نہ صرف آکسیجینیشن بہتر ہو گئی بلکہ ان کے بچنے کے امکانات بھی بہتر ہو گئے۔

آخر کار یہ بھی اس عالمی بیماری کے خلاف لڑائی کا ایک ذریعہ ہے جس سے دسیوں ہزار افراد کی موت ہوچکی ہے اور ابھی تک اس کا کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔

ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ ‘اس وقت جو سب سے بہتر چیز ہم کر سکتے ہیں وہ اس طرح کی تھیراپیز کو استعمال کرنا ہے۔’

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے