شفقنا اردو: یہ کہانی ایک ایسے دشت کی بےحس داستان ہے جہاں آپ دوسروں کے لئے تو آواز بلند کر سکتے ہیں لیکن خود کے لئے چاہتے ہوئے بھی لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ بول سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا خود کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ لیکن کچھ ایسے بہادر بھی ہیں جو یہ جوکھم لے لیتے ہیں۔

ناچیز نے صحافت کا اغاز ایک مقامی اخبار سے بطور رپورٹر کیا اور شروعات میں ہی کوئی خبر لگتی تو کسی میں میرے نام کے ساتھ بیورو چیف کا نام لکھ دیا جاتا لیکن مجبوری تھی، برداشت کیا اور پھر جب کرپشن سمیت مزید سماجی مسائل پر لکھنا چاہا تو اکثراوقات خبریں روک دی جاتیں۔ بالآخر تنگ آ کر مدیر کو فون کیا جو اس اخبار کا مالک بھی تھا۔ شکایت سننے کے بعد اس نے کہا ایک تو آپ بزنس نہیں دیتے، دوسرا آپ کی رپورٹنگ سے ہمیں اشتہارات دینے والے بھی خفا ہوتے ہیں۔

لہٰذا آپ ایسا کرو جو لوگ ہمارے اخبار کو اشتہار دیتے ہیں ان کی زیادتیوں اور کرپشن پر مت لکھو بلکہ ان سے متعلق اچھی خبریں دو اور جو لوگ اشتہار نہیں دیتے ان کی دھلائی کرو۔ اس طرح تم خود بھی کماؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ۔ یہ بات سنتے ہی میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی کیونکہ آغاز میں ہی اختتام دکھائی دینے لگا۔ اور دوسرا صحافت میرے لئے پیشہ نہیں بلکہ ایک جنون تھا اور ہے بھی تو میں کیسے محض اشتہارات کی خاطر دوسروں کی بندوق کا کاندھا بنتا؟ لہٰذا اس صاحب سے معذرت کرتے ہوئے فون کاٹ دیا اور مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ جناب صحافی نہیں بلکہ ایک کاروباری ہے۔ اور دوبارہ اس اخبار میں آج تک نہیں لکھا۔

دل میں ہزاروں وسوسے اور میڈیا سے متعلق سینکڑوں سوالات نے جنم لے لیا لیکن پھر میں نے محسوس کیا کہ سب جگہ ایسا نہیں، کیونکہ میڈیا میں چھپی کالی بھیڑیں جنہیں صحافی کہنا بھی صحافت کی توہین ہے کا براجمان ہونا جیسے آج کل کچھ مالک مدیر بن بیٹھے ہیں۔ جنہیں صحافت کی الف ب بھی نہیں آتی۔ اور یوں ایسے لوگوں نے پاکستانی میڈیا کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں دیکھتے ہیں ایسے ناسوروں کی وجہ سے رپورٹنگ کے بجائے ریٹنگ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

نوجوان صحافی عبداللہ مومند نے اس بارے میں بتایا کہ: میں نے تقریباً چار اداروں کے ساتھ کام کیا جس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ انسانی حقوق اور سکیورٹی کے بارے بات نہیں کر سکتے، دفاعی بجٹ، اور مسنگ پرسنز پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری باتیں ہیں جنہیں حساس موضوعات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں کچھ کاروباری ٹائکون جنہوں نے میڈیا پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اب ان کاروباری شخصیات نے یہ چینل اپنی کاروباری دلچسپی کی وجہ سے بنائے تاکہ حکومت پر بوقت ضرورت دباؤ ڈال سکیں۔

عبداللہ نے ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ: میں نے ایک دفعہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اٹینڈ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹیلی کام کمپنی جاز کے پاس 4جی کا لائنس نہیں ہے اور نہ انہوں نے حکومتی احکامات کی پیروی کی بلکہ جاز نے ایک اور ٹیلی کام کمپنی وارد سے 4جی کی سروس غیر قانونی طور پر لے لی جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

مومند کے مطابق جب یہ سٹوری تیار کی تو اس میں جاز انتظامیہ کا مؤقف بھی شامل کیا گیا یعنی تمام صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھا گیا لیکن جب یہ خبر میں نے اپنے اس وقت کے ادارے کو میل کی تو مجھے ای میل آئی کہ آئندہ سے آپ خبریں فائل نہ کریں۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو علم ہوا کہ جاز ہمارا اشتہارات کا نمبر 1 ذریعہ ہے۔ اس لئے ان کے خلاف کوئی بھی خبر برداشت نہیں کی جائے گی۔

پاکستانی میڈیا ملازمین کے استحصال پر بات کرتے ہوئے معروف صحافی اور اینکرپرسن عاصمہ شیرازی نے بتایا کہ: میرے خیال میں جو میڈیا ورکرز کا استحصال ہو رہا ہے اس میں سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ جو میڈیا سب کی آواز بلند کرتا ہے وہ اپنی آواز بلند نہیں کر سکتا۔ کئی ادارے ایسے ہیں جہاں بڑے میڈیا گروپس سے لے کر چھوٹے تک ملازمین کو تنخواہ تین تین چار چار ماہ کے وقفے سے ملتی ہے۔ اور وہ بھی ایک بھرپور احتجاج کے بعد کیونکہ جب سے صحافت کے اندر گھس بیٹھیے آ بیٹھے ہیں جن میں مختلف لوگ اور گروپس ہیں، میں سب کی بات نہیں کرتی، بلکہ کچھ ایسے عناصر ہیں جن کو صحافت کے اندر گھسایا گیا ہے تاکہ اس معزز پیشے کو بدنام کیا جا سکے۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق جب مالکان خود مدیر بن جاتے ہیں اور ان کے پاس ادارتی کنٹرول ہوتا ہے تو پھر صاف ظاہر ہے صحافت کا جنازہ ہی نکلنا ہے، جوکہ اس وقت نکل بھی رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آہستہ آہستہ صحافتی معیار پر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں، تاکہ صحافت یا ابلاغ عامہ سے عوام کا اعتماد ختم یا پھر کم کیا جائے۔ اور پاکستانی میڈیا کے ساتھ بھی درحقیقت یہی ہوا ہے۔

عاصمہ نے مزید کہا کہ میڈیا ورکرز کے استحصال کے بارے میں ورکرز کو جدوجہد کرنی چاہیے، اور جو مالکان اپنے فائدے ملازمین کے ذریعے سے اٹھاتے ہیں انہیں ڈھال بنا کر، ان کو سامنے رکھتے ہیں اور پھر فیصلے نیوز روم میں نہیں بلکہ بند کمروں میں کرتے ہیں چاہے وہ خبر کا معاملہ ہو یا باقی چیزیں، اس بیماری کا علاج بہت ضروری ہے اور حل یہ ہے کہ فیصلے واپس پروفیشنل ایڈیٹرز کے پاس جائیں جو نیوز روم میں ہوں۔ تب جا کر کہیں ملازمین کا استحصال بھی ختم ہوگا اور ساتھ میں صحافت بھی باوقار انداز میں کام کر پائے گی۔

کیا میڈیا ورکرز کے استحصال کی ایک بڑی وجہ حکومتی عدم توجہ بھی ہے؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لئے معروف صحافی و میزبان کیپٹل ٹاک حامد میر سے رابطہ کیا جنہوں نے بتایا کہ: میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ مسئلہ اٹھایا اور مارچ 2018 میں میری سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جس میں ہم نے اس وقت اس اہم مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن اس وقت مسلم لیگ ن اقتدار میں تھی اور ان کی حکومت نے تعاون نہیں کیا۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ: میں نے اگست 2018 کو ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ جیو نیوز سے استعفا دے دیا تھا کیونکہ جیو انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ 10 مارچ 2018 تک تنخواہیں ادا کر دیں گے لیکن انہوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا یا نہ کر سکے تو میں نے اسی مقررہ تاریخ کو استعفا دے دیا تھا لیکن پھر جب جیو انتظامیہ نے کہا کہ تمام ملازمین کو وقت پر تنخواہیں ادا کر دیں گے تو میں پھر جیو میں واپس آ گیا۔ اس دوران تحریک انصاف اقتدار میں آ گئی جنہوں نے کبھی اس معاملے کو حل نہیں کیا۔

حامد میر کے مطابق یہ معاملہ بہت آسان ہے اور وہ ایسے کے حکومت اخبارات اور ٹی وی چینلز کے بل ادا کر دے تاکہ اس کرائسس پر قابو پایا جا سکے۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ: میڈیا میں مسائل کے حوالے سے بہت ہی درد ناک کہانیاں ہیں۔ میڈیا کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے دو رخ ہیں جنہیں جاننا انتہائی ضروری ہے۔ جہاں تک خبر کی خبریت کو جانچنا اور سمجھنا ہے، اس کے لئے بنیادی طریقہ کار یہ ہے آپ کے جو میڈیا کے ادارے ہیں انہیں پیشہ وارانہ انداز میں چلایا جائے۔ یعنی پیشہ ور لوگ وہاں پر موجود ہوں اور اس میں سب سے اہم پوزیشن ہے مدیر کی کیونکہ وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کون سی خبر کتنی اہم ہے اور اسے کس پیج پر کس انداز سے چھپنا چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں جو مدیر کا مقام ہے وہ روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اب اس جگہ کو جو مالکان ہیں وہ پر کرنا چاہتے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ مالک مدیر بننا چاہتے ہیں یا بنے ہوئے ہیں۔

اقبال خٹک کے مطابق جب مالک مدیر بن جائے تو وہاں ذاتی مفاد آڑے آ جاتا ہے اور پھر وہ ریٹنگ کی بات کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس پر پیسے خرچ ہو رہے ہیں اور پھر اس سے پیسے کمانے بھی ہیں جو کہ کسی حد تک بات ٹھیک ہے کیونکہ میڈیا ہاؤسز چلانے کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔

اقبال خٹک نے مزید بتایا کہ: ہم اور آپ جو اخبار خریدتے ہیں اس کمائی سے تو اخبار کے ایک کوارٹر کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا اور ٹیلی وژن چینلز تو سبھی بالکل مفت میں ہی دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ اس کے لئے ہمیں کوئی فیس ادا نہیں کرتی ہوتی۔ لہٰذا جب آپ کو کنٹنٹ مفت میں ملے گا پھر یہ ان کی صوابدید پر منحصر ہوگا جو آپ کو یہ دے رہے ہیں۔ اور اگر آپ کنٹنٹ کے پیسے دیتے ہیں تو پھر آپ کی پسند کا بھی خیال رکھا جائے گا۔

اقبال خٹک یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں اہم کردار ریگولیشن یعنی سلف ریگولیشن کا ہے، اس میں عوام کی شراکت داری بہت ضروری ہے اور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جسے حل ہونا چاہیے اور ایسے انداز میں کہ صارفین اور میڈیا ورکرز سمیت تمام لوگوں کے جائز مفادات محفوظ ہوں۔

ناچیز کی ذاتی رائے میں حکومت کو چاہیے کہ ایسے کسی فرد کو ٹی وی چینل یا اخبار کا لائسنس مہیا نہ کیا جائے جس کا صحافت میں کوئی کردار نہ ہو اور نہ ہی ایسے لوگوں کو اینکر بنایا جائے جنہوں نے کبھی رپورٹنگ نہ کی ہو۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے