شفقنا اردو: کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد صحت کے شعبے کے اعلی حکام عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے آج سے شروع ہونے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس ورچوئل اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ دنیا کو اس بحران سے کیسے نمٹنا چاہیے۔

رواں برس کے اجلاس میں ڈبلیو ایچ او کی جوڈیشل کمیٹی اُن ممالک کو مدعو نہیں کر رہی ہے جہاں کے حکام اپنے عوام کو کورونا وائرس سے بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔

دنیا بھر میں تائیوان کی کوششوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو تیزی سے روکنے کے لیے سراہا جا رہا ہے۔ لیکن تائیوان کا کہنا ہے کہ اسے اپنے تجربات دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم ملنا چاہیے۔

لیکن تائیوان کو اپنا علاقہ کہنے والے چین نے سنہ 2016 کے بعد سے تائیوان کی اس اجلاس میں موجودگی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ، یورپی یونین، جاپان اور بہت سے دوسرے ممالک نے آج سے شروع ہونے والی اس میٹنگ میں تائیوان کو ایک سامع کی حیثیت سے شامل کیے جانے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

چین کو فی الوقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بننے اور ابتدائی سطح پر غلط اقدامات کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین نے اس مطالبے کی سخت مخالفت کی ہے۔

تائیوان سے متعلق جاری تنازع بہت قدیم ہے۔ لیکن ڈیوڈسن کالج کی پروفیسر اور تائیوان پر تحقیق کرنے والی شیلی ریگرز کا کہنا ہے کہ اس موقع پر کچھ ممالک میں ’صبر کم‘ ہوتا نظر آ رہا ہے کیونکہ چین کی جانب سے کیا جانے والا اعتراض ’عالمی بحران کے وقت بہت ہی فرضی اور نظریاتی‘ لگ رہا ہے۔

سنہ 1949 میں جب کمیونسٹ پارٹی نے چینی حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا تو اس وقت کی عبوری حکومت نے جزیرے میں جا کر حکومت تشکیل کی تھی۔

چینی حکومت اپنی ’ون چائنا‘ پالیسی کے تحت اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ تائیوان قانونی طور پر اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور ایک دن اسے چینی حکومت کے ماتحت لایا جائے گا اور اگر اس کے لیے طاقت کے استعمال کی ضرورت ہوئی تو ایسا کیا جائے گا۔

تائیوان کی موجودہ حکومت خود مختاری کی حامی ہے اور جب سے سائی اینگ وین کی ڈیمو کریٹک پروگریسیو پارٹی نے اقتدار سنبھالا ہے چین کے ساتھ تائیوان کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

تائیوان کی اپنی فوج ہے اور کچھ ممالک اسے بطور ریاست دیکھتے ہیں۔

چین، تائیوان اور منگولیا کو امور کے ذمہ دار امریکی وزارت دفاع کے سابق عہدیدار ڈریو تھامسن کا کہنا ہے کہ ’چین اس مسئلے کے بارے میں واضح ہے۔ اس کا عوامی صحت کے موضوع سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا سیدھا تعلق تاپیئي اور اینگ وین کے چین سے رشتوں پر ہے کیونکہ چین تائیوان کی خود مختاری کا منکر ہے۔‘

تائیوان کے ساتھ چین کے تعلقات

چین کے دباؤ میں 15 ممالک نے تائیوان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں۔ لیکن تائیوان نے بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے اور اس نے عالمی سطح پر ڈبلیو ایچ او جیسی کثیر جہتی تنظیم اور دیگر ممالک میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ تائیوان ہمیشہ ہی باہر رہا ہو۔ تائیوان کی سابقہ حکومت، جس کے چین کے ساتھ بہتر تعلقات تھے، کو عالمی ادارہ صحت میں ’چینی تائپے‘ کے نام سے آبزرور کا درجہ حاصل تھا۔ لیکن سنہ 2017 کے بعد سے جب سائی اینگ وین اقتدار میں آئے اس کے بعد سے اسے وہاں مدعو نہیں کیا گيا۔

اس کے بعد سے ہر سال تائیوان نے عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک سے بات کی ہے اور اجلاس میں شامل ہونے کی کوشش کی ہے اور رواں برس تائیوان کی حمایت میں آنے والی آوازیں واضح اور بلند ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے قبل دوسرے ممالک یہ خیال کرتے تھے کہ تائیوان کی خاطر چین کو ناراض نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ حساب کووڈ 19 کے بعد بدل گیا ہے۔

پروفیسر شیلی ریگرز کا کہنا ہے کہ ’اب یہ صرف تائیوان کے لوگوں کی صحت کی بات نہیں ہے۔ یہ ہمارے ممالک میں ہمارے لوگوں کی صحت کی بات ہے۔ تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسے ایسے ہی جانے دیں؟‘

کووڈ نے حالات کیسے بدلے؟

تائیوان کو کورونا وائرس سے نمٹنے میں قابل ستائش کامیابی ملی ہے۔

تائیوان کی دو کروڑ 30 لاکھ آبادی میں کورونا کے صرف 440 متاثرین سامنے آئے ہیں اور فقط سات افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے لیے تائیوان حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات، جیسا کہ سرحدوں پر کنٹرول، غیر ملکی شہریوں کی آمدورفت پر پابندی اور تائیوان واپس آنے والوں کے لیے لازمی قرنطینہ، کو سراہا جا رہا ہے۔

اس کامیابی نے تائیوان کو دنیا کی صحت کے معاملے میں فیصلہ کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کا ایک نیا موقع اور ایک اہم وجہ فراہم کی ہے۔

آٹھ مئی کو امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی نے تقریبا 60 ممالک کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ’یہ یقینی بنانا کہ تمام ممالک عالمی سطح پر صحت اور حفاظت کو سیاست سے بالاتر رکھیں کبھی بھی اتنا اہم نہیں تھا (جتنا اب ہے)۔‘

اس خط میں کہا گیا ہے کہ چین کی ڈرانے دھمکانے والی حکمت عملیوں سے بین الاقوامی سطح پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تائیوان کے کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو کم کیا جا رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں تائیوان کو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

اس کے متعلق کئی بڑی طاقتوں نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ ان میں یورپی یونین، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ تاہم کسی نے بھی ’ون چائنا‘ پالیسی کو ترک کرنے کی بات نہیں کی ہے اور یہی وہ پالیسی ہے جس نے تائیوان کو اس صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔

امریکہ حمایت کرتا رہا ہے

تائیوان نے کورونا وائرس کے معاملات کو دنیا کے ساتھ شفافیت سے شیئر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ماسک وغیرہ دے کر دوسرے ممالک کی مدد بھی کی ہے۔ یہاں تک کہ ان ممالک کو بھی امداد فراہم کی ہے جو تائیوان کو بطور ملک تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ تائیوان کو ان اقدامات پر پذیرائی ملی ہے۔

امریکہ ایک طویل عرصے سے تائیوان کی حمایت کر رہا ہے۔

ایسے میں تائیوان کو عالمی ادارہ صحت میں شامل کرنے کے لیے کورونا وائرس ایک نیا بہانہ ہو سکتا ہے۔

چین تائیوان دفاعی اور خارجہ پالیسی کے موضوعات کے ماہر اور پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر الیگزینڈر ہوانگ کا کہنا ہے کہ چین اور تائیوان کے مابین تنازع کے بارے میں جو ممالک واضح رائے نہیں رکھتے تھے اب وہ بھی اس پر بات کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران امریکہ اور چین کے تعلقات کو بگڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ لیکن وہ عالمی وبائی مرض کے بعد کیا ہو گا اور چین کی جانب سے مکمل معلومات نہ دینے جیسے شبہات سے بھی پریشان ہیں۔

سنگاپور کی لی کوآں یے سکول آف پبلک پالیسی کے پروفیسر ڈرائیو تھامپسن کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں چین کے بارے میں رویہ منفی ہو گیا ہے۔ اور یہ چین کی جانب سے اپنی پالیسیوں پر دباؤ ڈالنے کا نتیجہ ہے۔‘

چینی رد عمل کیا ہے؟
چین نے ہمیشہ اس طرح کی سرگرمیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ لیکن اس بار چین نے جارحیت اور دھمکیوں میں اضافہ کیا ہے اور عالمی ادارہ صحت میں تائیوان کی موجودگی کو اس کی خود مختاری کے ساتھ منسلک کر کے دیکھ رہا ہے۔

چینی سرکاری میڈیا ’شن ہوا‘ میں شائع ہونے والے ایک مضموں میں بطور خاص امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس مضمون میں لکھا ہے کہ ’دنیا میں صرف ایک چین ہے۔ پیپلز ریپبلک آف چائنا کی حکومت پورے چین کی نمائندگی کرتی ہے اور تائیوان چین کا ایک ناقابل تقسیم حصہ ہے۔‘

اس مضمون میں امریکہ کو کورونا وائرس کے معاملے پر سیاست کرنے سے باز رہنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

قوم پرست کہے جانے والے اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک اداریہ شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں چین طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے جو ایک متوقع خطرہ ہے۔

اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’اس سے صرف ایک ہی نتیجہ اخذ ہو سکتا ہے کہ چینی حکومت غیر پُرامن طریقے سے تائیوان کے معاملے کو ہمیشہ کے لیے سلجھا کر اس فضول کھیل کو ختم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔‘

چین کی دھمکیاں

اس وبا سے پہلے ہی دونوں ممالک کو الگ کرنے والی 180 کلومیٹر وسیع تائیوان آبنائے میں فوجی موجودگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ لیکن طاقت کا مظاہرہ اب دھمکی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ہوانگ کا کہنا ہے کہ ’چین نے گذشتہ تین مہینوں میں بمبار طیاروں، جاسوس طیاروں اور لڑاکا طیاروں نے جتنی مشقیں کی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھیں۔‘

جب بھی بات دوسرے ممالک کی ہوئی ہے تو چین نے دھمکیاں ہی دی ہیں۔

لیکن جب نیوزی لینڈ نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں تائیوان کی شمولیت کی حمایت کی تو چین نے غصے سے کہا کہ اس سے دوطرفہ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمیں اپنے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔ اور ایک سچی دوستی کی بنیاد برابری پر ہوتی ہے۔ اس دوستی میں مختلف رائے ہونے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔‘

پروفیسر ہوانگ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں چین کے خارجہ تعلقات میں زیادہ قوم پرستی، اپنی شناخت کا تحفظ اور کسی بھی قسم کی تنقید کو برداشت نہ کرنا نظر آیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس وبا کے تعلق سے چین پر جو بیرونی دنیا کی تنقید ہو رہی ہے اس کے تعلق سے چین زیادہ حساس ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ چین اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہے۔‘

کیا عالمی ادارہ صحت تائیوان کو مدعو کرسکتا ہے؟
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ تائیوان کی رکنیت کا انحصار کُلی طور پر رکن ممالک پر ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے تائیوان کے محکمہ صحت سے وابستہ عہدیداروں سے بات کی ہے اور معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل نے حال ہی میں تائیوان کو دعوت دی تھی لیکن عالمی ادارہ صحت کے پرنسپل لیگل دفتر سے تعلق رکھنے والے اسٹیوین سولومن نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل اسی وقت کسی کو مدعو کرتے ہیں جب یہ واضح ہو کہ ممبر ممالک اس کی حمایت کرتے ہیں، اور یہ حمایت ابھی تک واضح نہیں ہے۔

لیکن ریگرز کا کہنا ہے کہ تائیوان پہلے بھی اس میٹنگ میں شریک ہو سکتا تھا جیسا کہ فلسطین کے علاقوں اور ویٹیکن کو آبزرور کا درجہ حاصل ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ایک ایسے ملک کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو صرف ایک وجہ سے باہر ہے۔‘

اس دو روزہ اجلاس سے بالاتر ہو کر دیکھیں تو اس وبا نے عالمی سطح پر تائیوان کی شرکت کے سوال کو نئی معنویت دی ہے۔

جب تک تائیوان کی حیثیت واضح نہیں ہوتی اس وقت تک یہ ممکن ہے کہ خودمختاری کا معاملہ چین کے ساتھ جاری تنازعات میں بالواسطہ میدان جنگ کا کردار ادا کرتا رہے گا اور یہ وائرس کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہے گا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے