شفقنا اردو: نیپال کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اس کی سرزمین پر جس سڑک کی تعمیر کی ہے، وہ زمین انڈیا کو لیز یا کرائے پر تو دی جاسکتی ہے لیکن اس پر دعویٰ نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔

بدھ کے روز لپو لیکھ تنازع کے حوالے سے نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا جس میں سابق وزرا اعلی نے بھی شرکت کی تھی۔

نیپال مزدور کسان پارٹی کے ممبر پارلیمان پریم سوال نے اس میٹنگ کے بعد بتایا ’وزیر اعظم نے سبھی رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انڈیا کی حمایت میں اس زمین پر اپنا دعوی نہیں چھوڑیں گے۔‘

نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گاہوالی نے کہا، ’وزیر اعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ حکومت اپنے آباؤ اجداد کی زمین کی حفاظت کرے گی۔ انھوں نے سبھی لیڈران سے اس معاملے پر تحمل سے کام لینے کی گذارش بھی کی ہے۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 8 مئی کو لپو لیکھ کے قریب ہوکر گزرنے والے اتراکھنڈ مانسرور روڈ کا افتتاح کیا تھا۔

نیپال کا احتجاج

لپو لیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین، نیپال اور انڈیا کی سرحدوں سے متصل ہے۔

نیپال انڈیا کے اس قدم کے بارے میں ناراض ہے۔ لپو لیکھ میں مبینہ ‘قصبے’ کے معاملے پر نیپال میں انڈیا مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے اس سلسلے انڈیا کے سامنے لپو لیکھ علاقے پر نیپال کے دعوی کے دوہراتے ہوئے سخت الفاظ میں سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔

اتراکھنڈ کے دھارچولہ علاقے کے مشرق میں مہا کالی ندی کے کنارے نیپال کا دارچولہ علاقہ واقع ہے۔ مہا کالی ندی انڈیا کی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے .

نیپال کی حکومت کا کہنا ہے بھارت نے اس کے لپو لیکھ علاقے میں 22 کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے.

بھارت چین معاہدہ

نیپال نے اس قبل بھی 2019 کے نومبر میں بھارت کے سامنے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔

جموں و کشمیر کی تقسیم کے وقت جو سیاسی نقشہ جاری کیا گیا تھا اس میں سرکاری طور پر کالہ پانی علاقے کو بھارتی سرحد کے اندر دکھایا گیا تھا۔

کالہ پانی کا علاقہ اسی لپو لیکھ کے مغرب میں واقع ہے۔ ایک لمبے وقت سے نیپال کا اس علاقے پر دعوی ہے .

سال 2015 میں جب چین اور بھارت کے درمیان کاروبار کو فروغ دینے کے لیے معاہدہ ہوا تھا تب بھی نیپال نے دونوں ممالک کے سامنے سرکاری طور پر اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔

نیپال کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پہلے نہ تو بھارت اور نہ ہی چین نے اسے بھروسے میں لیا ہے جب کہ مجوزہ سڑک اس کے علاقے سے ہوکر گزرتی ہے۔

دھار چولہ سے لپو لیکھ کو ملانے والی سڑک۔ یہ سڑک کیلاش مانسرور روڈ کے نام سے بھی مشہور ہے
فوج بھیجنے پر نیپال کا فیصلہ

اس ہفتے جب دارالحکومت کٹھمنڈو میں انڈیا مخالف مظاہرے اپنے عروج پر تھے تو نیپال نے بدھ کے روز ایک اور بڑا فیصلہ کیا .

اس نے پہلی بار مہا کالی ندی سے متصل سرحدی علاقے میں آرمڈ پولیس فورس( اے پی ایف) کی ٹیم بھیجی ہے۔ کالہ پانی کے قریبی دیہات چھانگرو میں اے پی ایف نے ایک چوکی قائم کی ہے۔

اے پی ایف انڈیا کی بارڈر سیکورٹی فورس اور بھارت تبت سرحدی پولیس کی طرز کا نیم فوجی دستہ ہے۔

سنہ 1816 میں سوگولی کے معاہدے پر دستخط کے 204 سال بعد نیپال نے آخرکار تین ممالک کی سرحد سے متصل اپنے اس علاقے کی حفاظت کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے۔

دو سال جاری رہنے والی برطانیہ- نیپال جنگ کے بعد یہ معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت مہاکالی ندی کے مغرب میں واقع علاقے کی جیتی ہوئی زمین پر نیپال کو اپنا قبضہ چھوڑنا پڑا تھا .

بھارت نیپال رشتے

کالہ پانی تنازعے کے بعد اس ہفتے لپو لیکھ کےبارے میں کٹھمنڈو میں ہوئے مظاہرے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی گھمسان سے ایک بار پھر دونوں کے رشتوں میں تلخی ہے۔

حالانکہ اختلافات کے ایک دو معاملات کو اگر چھوڑ دیا جائے تو حال میں دونوں ممالک کے رشتے سازگار رہے ہیں۔ اس مہینے دونوں ممالک کے وزرا اعلی نے کورونا وائرس سے ایک ساتھ مل کر نمٹنے کا عہد کیا تھا۔

لیکن لپولیکھ میں بھارت کی جانب سے سڑک تعمیر کرنے کے واقعے نے متعدد نیپالیوں کو ناراض کیا ہے۔

یہاں تک کہ وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ ’نیپال اپنی زمین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑے گا .‘

1800 کلومیٹر لمبی سرحد

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اچانک پیدا ہونے والے لپو لیکھ تنازعے کے بعد کیا انڈیا اور نیپال کی دوستی ختم ہوجائے گی؟

مہاکالی ندی کا یہ پہاڑی علاقہ نیپال کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ اور یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ لپو لیکھ کا علاقہ بھارت کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟

نیپال اور بھارت کے رشتوں کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے ’تہذیب، ثقافت، تاریخ اور جغرافیہ کے اعتبار سے کوئی بھی دو ممالک اتنی قربت نہیں رکھتے ہیں جتنا کہ نیپال اور بھارت۔‘

لیکن 1800 کلو میٹر لمبی سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والے کئی سرحدی تنازعات بھی ہیں۔

دونوں ممالک کی سرحدیں بیشتر کھلی ہوئی ہیں اور آڑی ترچھی بھی ہیں۔ حالانکہ اب سرحد پر چوکسی کے لیے سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔

پریشانی اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدوں کو مکمل طور پر تعین نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مہاکالی (شاردہ) اور گنڈک (نارائنی) جیسی ندیاں جن علاقوں میں سرحدوں کی حدود طے کرتی ہیں وہاں مون سون کے دنوں میں آنے والا سیلاب تصویر بدل دیتا ہے۔

ندیوں کا رخ بھی سال درسال بدلتا رہتا ہے۔ کئی مقامات پر تو سرحدوں کے تعین کے لیے پرانے کھمبے ابھی بھی کھڑے ہوئے ہیں لیکن مقامی لوگ ان کی پاسداری نہیں کرتے ہیں۔

معمولی حالات میں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک آتے جاتے رہتے ہیں .

سوگولی کا معاہدہ

بھارت اور نیپال کے سروے کرنے والے اہلکار اور تکنیکی ماہر برسوں کی مشترکہ کوششوں کے باوجود ابھی تک ایسا ایک نقشہ نہیں بنا پائے ہیں جس پر دونوں ممالک متفق ہوں۔

نیپال کے سروے کے محکمے کے سابق ڈائریکٹر بدھی نارائن شریشٹھ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1850 اور 1856 میں انڈیا اور نیپال کے اہلکاروں نے مل کر ایک نقشہ تیار کیا تھا۔

ان کے مطابق مہاکالی ندی لمپیا دھورا (کالہ پانی سے شمال مغرب میں 16 کلومیٹر دور) سے بہہ کر نکلتی ہے اور سوگولی کے معاہدے میں اس ندی کو دونوں ممالک کی سرحد قرار دیا گیا تھا۔ اس لیے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کالہ پانی نیپال کا حصہ ہے۔

لیکن بھارت اس نقشے کو ثبوت کے طور قبول کرنے نے انکار کرتا ہے۔ بھارتیہ موقف ہے کہ اس کے بدلے 1857 کے نقشے پر غور کرنا چاہیے جس میں مہا کالی ندی کو کالہ پانی کے مشرق میں دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 1857 کے نقشے پر نیپال کے دستخط نہیں ہیں۔

لپو لیکھ کا نتازعہ

کٹھمنڈو میں اس معاملے کو سمجھنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ نیپال اور انڈیا کے درمیان سرحد کے تعین کا بیشتر کام پورا ہوگیا ہے حالانکہ ندی والے علاقوں میں یہ کام پورا نہیں ہوا ہے۔

نیپال کی مغربی سرحد پر مہاکالی ندی اور جنوبی سرحد پر گنڈک ندی دونوں ممالک کی سرحد طے کرتی ہیں لیکن اس نقشے کو طے کرنے کا کام ابھی نامکمل ہے۔

دونوں ممالک کے اہلکار مہاکالی اور گنڈک ندی پر سرحد طے کرنے والے پہلوؤں پر متفق نہیں ہورہے ہیں کیونکہ ندیوں کے بہنے کا رخ بدلتا رہتا ہے۔

گذشتہ دہائیوں میں ان ندیوں کا رخ بدلتا رہا ہے۔ لپو لیکھ کا تنازعہ ایسے ہی علاقے سے منسلک ہے۔

نیپال کا کہنا ہے کا لپولیکھ پہاڑ مہاکالی ندی کے شمال میں واقع ہے جس کی وجہ سے قدرتی طور پر یہ علاقہ نیپال کا حصہ بن جاتا ہے اور یہ بات سوگولی معاہدے میں واضح طور پر کہی گئی ہے .

مہاکالی ندی کا ذریعہ

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکہ کے مطابق سوگولی معاہدے کے ساتھ ہی برطانیہ اور نیپال کی جنگ کا باقاعدہ اختتام ہوا تھا۔ معاہدے کی شرائط کے تحت نیپال نے تیرائی کے متنازعہ علاقے اور مہاکالی ندی کے مغرب میں ستلج ندی کے کنارے تک فتح یافتہ زمین پر اپنا دعوی چھوڑ دیا تھا۔

اگر سوگولی کا معاہدہ واضح طور پر کہ کہتا ہے کہ مہاکالی ندی کا پورا علاقہ نیپال ہے تو پھر پریشانی کیا ہے؟

نیپالی مورخین اور سروے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمی اس حوالے سے ہے کہ مہاکالی ندی کا اصل میں کس علاقے سے نکلتی ہے؟ اور تنازعہ کی اصل وجہ یہی ہے۔

اس لیے سوال یہ اٹھتا ہے کہ مہاکالی ندی کہاں سے بہہ کر نکلتی ہے؟ لمپیادھورا کے پہاڑیوں سے یا پھر لپو لیکھ سے؟

نیپالی کی قومی سیاست

گنجی گاؤں کے قریب، جہاں لپو لیکھ جانے والے سرحدی سڑک گزشتہ جمعہ کو کھولی گئی تھی وہاں دو چھوٹی ندیوں آکر ملتی ہیں۔ ایک ندی جنوب مشرق کی پہاڑیوں سے نکل کر آتی ہے تو دوسری ندی جنوب میں لپو لیکھ سے آتی ہے۔

نیپال کی قومی سیاست میں تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے مہاکالی- کالہ پانی کا معاملہ اٹھتا رہا ہے۔

نیپال کے ماہرین اور اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مہاکالی ندی لمپیا دھورا سے نکل کرشمال مغرب میں انڈیا کے اتراکھنڈ علاقے کی جانب بڑھتی ہے۔

لیکن اس کے برعکس بھارتیہ موقوف یہ ہے کہ مہاکالی ندی کا نیپال کی جانب شمال مشرق میں ہے۔ اس کے مطابق لپو لیکھ سے بہ کر نکلنے والی دھار ہی دراصل مہکالی ندی کا ذریعہ ہے اور اسی سے دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین ہوتا ہے۔

کیلاش مانسرور یاترا کا روٹ

آٹھ مئی کو لپو لیکھ کے لیے سڑک کا راستہ کھول دیے جانے کے بعد نیپال کی جانب سے ظاہر کیے گئے سخت ردعمل پر بھارت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نیپالی علاقے میں مداخلت نہیں کی گئی ہے اور یہ سرحدی سڑک کیلاش مانسرور کے روایتی عبادت کے روٹ پر ہی تعمیر کی گئی ہے۔

لیکن نیپالی مورخین، اہلکاروں اور گنجی دیہات کے لوگوں (جہاں سے انڈیا نے آٹھ مئی کو لپو لیکھ جانے والی سڑک کا راستہ کھولا ہے) کا کہنا ہے کہ نیپال کے پاس اس کے بارے میں پختہ ثبوت ہیں کہ سوگولی کے معاہدے کے مطابق لپو لیکھ اور اس علاقے کے متعدد دیہات نیپال کے علاقے میں ہیں۔

اس کے علاوہ بھی دیگر علاقوں سے متعلق بھی تنازعہ ہے۔ نیپال کی حکومت لگاتار اس بات پر زور دیتی رہی ہے لپو لیکھ اور گنجی گاؤں کے علاوہ انڈیا نے مہاکالی ندی کے شمال میں اس سے متصل دیگر علاقوں پر ‘قبضہ’ کررکھا ہے جس میں کالہ پانی بھی شامل ہے۔

کالہ پانی میں بھارت اور چین جنگ کے دوران 1950 میں آئی ٹی بی پی نے اپنی چوکی قائم کی تھی۔ اس کے علاوہ مغرب میں واقع لمپیادوھورا سے متعلق بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ ہے .

مالگزاری رسید اور شناختی کارڈ

نیپال کے محکمہ سروے کے اہلکاروں کا کہنا ہے لپو لیکھ اور کالا پانی ہمالیہ سلسلے کے سودور علاقے میں ہے جہاں پہنچ پانا بہت مشکل ہے اور وہاں کوئی انسانی آبادی بھی نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ سیکورٹی فورس کی چوکی قائم نہیں کی اور نہ ہی سڑک اور پل جیسی بنیادی سہولیات پر دھیان دیا۔

اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے سوگولی معاہدے کے علاوہ نیپال کے پاس اور بھی ثبوت ہیں جن میں معاہدے سے قبل برطانوی اہلکاروں کی جانب سے لکھا گیا خط اور اس دور کے دستاویزات شامل ہیں۔

نیپال کالا پانی اور گنجی کے مقامی لوگوں کی مالگزاری رسیدیں اور نیپال کے ووٹر ہونے کا شناختی کارڈ بھی ثبوت کے طور پر پیش کررہا ہے۔

اس کے علاوہ سنہ 1908 میں مانسرور یاترا کرنے والے انڈین سادھو یوگی بھگوان شری ہنس اور تیس اور چالیس کی دہائی وہاں جانے والے سوامی پروانند نے بھی اپنے سفری یادداشتوں میں لپو لیکھ کے جنوب میں چھانگرو گاؤں میں نیپال سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

انڈیا کی پہل

بعض نیپالی اہلکاروں اور صحافیوں نے گذشتہ دہائیوں میں کالا پانی کے دورے کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں کے پاس موجود ان کے نیپالی دستاویز جمع کیے ہیں۔

ان میں لپو لیکھ سے متصل گنجی گاؤں اور کالا پانی سے قریبی دیہات بھی شامل ہیں۔ انڈیا نیپال کے دعوی کو خارج کرتا رہا ہے۔

کٹھمنڈو میں انڈین سفارتخانے اور اس کی وزارت خارجہ نے اپنی جانب سے ماحول کو پرامن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکریٹری کی سطح کی مذاکرات میں ان معاملات پر بات کی جائے گی۔

نیپال میں پارلیمان سے سڑک تک انڈیا مخالف نعرے گونج رہے ہیں اس کے باوجود کالا پانی یا لپولیکھ کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان جو تنازعہ پیدا ہو ا وہ فی الحال حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے