گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو عملاً ” بے اختیار” کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اہم ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اعلیٰ سطح سے جاری کئے گئے خصوصی احکامات کے تحت گورنر چوہدری سرور کے زیر سرپرستی زیر تکمیل صاف پانی منصوبے پر غیر اعلانیہ اور غیر محسوس انداز میں کام روک دیا گیا ہے۔

اس اہم غیر رسمی پیش رفت سے پی ٹی آئی کے "پاور” گروپوں کی آپسی لڑائی میں تیزی آجانے اور پارٹی کی بعض مقتدر شخصیات کے خلاف قیادت کے شدید تحفظات کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ اس صورتحال سے گورنر پنجاب چوہدری سرور شدید disturbed یعنی غیر معمولی ذہنی دباؤ اور فرسٹریشن کا شکار بتائے جاتے ہیں۔ چند روز قبل ایک بیان میں انہوں نے اپنی فرسٹریشن کا کھل کر اظہار بھی کیا تھا لیکن قیادت کے رویہ پر اپنی شدید برہمی کا اظہار اسی طرح بیوروکریسی کی آڑ لے کر کیا تھا جس طرح پچھلے دنوں کپتان کے قریب ترین ساتھی جہانگیر ترین نے اپنا ردعمل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو نشانے پر رکھ کر دکھایا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ پرائم منسٹر ہاؤس کو پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کی طرف سے گورنر چوہدری سرور بارے مالی بدعنوانی اور اقربا پروری کی سنگین شکایات موصول ہورہی تھیں جس پر ” کپتان ” نے خود چیف سیکرٹری پنجاب کو خفیہ اور غیر رسمی طور پر گورنر پنجاب کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے ” آب پاک ” کو ” شیلف ” کر دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس لئے کہ اعلیٰ قیادت کو پارٹی کے اندرونی حلقوں کی طرف سے بتایا گیا کہ موصوف نے اس منصوبے کے علاوہ بطور چانسلر صوبے کی ہر یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ باڈی اور تمام تر سیاسی تقرریاں اپنے "مخصوص معیار” یا مخصوص میرٹ کے تحت کی ہیں اور یہ ” میرٹ ” ہے پارٹی میں گورنر چوہدری سرور کی لابی یا دھڑے سے تعلق کے علاوہ امیدوار کا ارائیں یا پھر برطانیہ سے تعلق کا حامل ہونا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے علم میں لایا گیا تھا کہ گورنر ہاؤس سے ایل ڈی اے سمیت پنجاب کے بڑے شہروں کی ترقیاتی اتھارٹیز اور دوسرے سرکاری ، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں میں وائس چیئرمین جیسی پوسٹوں پر سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی تقرریاں مبینہ طور پر رشوت ، ذات برادری و اقربا پروری یا پھر لندن سے تعلق کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ اس طے شدہ ” میرٹ ” پر پورا اترنے والے ” نون ” لیگ کے لوگوں کو بھی سیاسی تقرریوں سے نواز دیا گیا ہے ، اس سلسلہ میں ایک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا نام بھی لیا جاتا ہے جو سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کے چیمبر میں ان کے جونیئر تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ صاف پانی پراجیکٹ میں عطیات کی وصولی سے لے کر افسران و دیگر سٹاف کی تقرریوں اور بھرتیوں تک میں ” مال بنانے ” کے سنگین الزامات وزیراعظم کے علم میں لائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صاف پانی منصوبہ گورنر چوہدری سرور کا ” برین چائلڈ ” ہرگز نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں بھی بطور گورنر انہوں نے پنجاب حکومت کا صاف پانی منصوبہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی لیکن وزیر اعلیٰ شہباز شریف نہیں مانے اور انہوں نے یہ منصوبہ اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے