شفقنا اردو: اس سال یوم القدس ایسے عالم میں آرہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت تاریخ کے بدترین سیاسی بحران کا شکار ہے۔ تین بار کے انتخابات کے باوجود کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوسکی اور اس وقت اسرائیل کی صورت حال افغانستان سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

اسرائیل میں نومبر 2018ء سے شروع ہونے والا سیاسی بحران اب اس مقام پر آپہنچا ہے کہ نتن یاہو اور بنی گانتر کے درمیان وزارت عظمیٰ کی مدت کی تقسیم پر معاہدہ ہوگیا ہے۔ دونوں باری باری صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیں گے۔ اس معاہدے کی روشنی میں نتن یاہو نومبر 2021ء تک وزیراعظم رہیں گے اور اسکے بعد باقی مدت کیلئے بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ بنی گانتر وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔

غاصب صیہونی حکومت داخلی سیاسی بحران کے باوجود فلسطین کے خلاف اپنی غیر انسانی اور غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حمایت کیوجہ سے غرب اردن کی 35 فیصد سرزمین کو ہڑپنے کا صیہونی خواب روز بروز حقیقت کا روپ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

صیہونی حکومت کی اس سازش پر فلسطین اور امت مسلمہ کے علاوہ یورپی یونین نے بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ غاصب صیہونی حکومت کا یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد کی مخالف کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ سیاست کے سربراہ جوزب بوریل نے کہا ہے کہ اسرائیل کو 1967ء کے قبضے کے بعد کی اراضی کو اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، کیونکہ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیلی ریاست کے ساتھ شامل کرنے کا حق تل ابیب کا ہے اور اسرائیل نے اس بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک ایسے وقت جب پوری دنیا میں یوم القدس کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

ایسے میں اسرائیل اور امریکہ کا یہ اقدام امت مسلمہ اور فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والوں کو مشتعل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس غیر قانونی عمل کو روکیں، لیکن لگتا ایسا ہے کہ اسرائیل کی غاصب حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس سال کے یوم القدس میں اسرائیل کا سیاسی بحران چھپ جائے اور ہر طرف غرب اردن کا مسئلہ سرفہرست رہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے