شفقنا اردو: ایک چینی لیبارٹری میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے ایک دوا تیار کی جا رہی ہے اور اس کے تیار کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وبا کی صورت میں پھیلے وائرس کو ختم کرنے کے لیے یہ ایک طاقتور دوا ہو گی اور اس کے استعمال سے کرونا وائرس یقینی طور پر ہلاک ہو جائے گا۔

چین کی معتبر پیکنگ یونیورسٹی کے حیاتیات سے متعلق ایک شعبے میں کرونا وائرس کے علاج کی دوا کے ابتدائی ٹیسٹ شروع ہو چکے ہیں۔ اس دوا کو تیار کرنے والی محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک مکمل میڈیسن ہو گی جو کرونا وائرس کا دورانیہ کم کرنے کے ساتھ ساتھ کم مدت ہی میں کسی مریض کو بیماری سے نجات دے گی۔ اس کے علاوہ صحت یاب ہونے والے شخص میں کم مدت کے لیے قوتِ مدافعت بھی پیدا کرے گی۔

دوا بنانے والے ادارے کے ڈائریکٹر سنی شی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ فی الحال جانوروں پر اس دوا کی آزمائش کامیاب رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کرونا وائرس کی لپیٹ میں آئے ہوئے چوہے کو یہ دوا دی گئی تو پانچ روز میں اس میں انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے اور اس میں مرض کی شدت واضح طور پر کم ہو گئی۔

چینی دارالحکومت میں واقع تحقیقی ادارے کی جاری ریسرچ کے ابتدائی مثبت نتائج پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ سائنسی جریدے ‘سیل‘ میں شائع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک مکمل دوا کی جانب قدم اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور جلد ہی دنیا کو اس تناظر میں خوشخبری دی جائے گی۔ محققین پُرامید ہیں کہ اس دوا کے استعمال سے مریض کے اندر موجود وائرس اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور یہی دوا دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کا باعث بنے گی۔

ایڈوانس انوویشن سینٹر برائے جینومکس کے ڈائریکٹر کے مطابق دوا کی تیاری کے تجربات سے نتائج حاصل کرنے کا عمل رات دن جاری ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ چینی ادارے کے ریسرچرز وائرس کے انسداد کی دوا تیار کر رہے ہیں اور یہ کوئی مدافعتی ویکسین نہیں ہو گی۔

اس دوا کے انسانوں پر کلینیکل ٹیسٹس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آزمائشی تجربات آسٹریلیا اور دوسرے ممالک میں کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا چکی ہے۔

خیال رہے کہ چین کے شہر ووہان میں گذشتہ برس دسمبر میں پیدا ہونے والا وائرس اب ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اس کی لپیٹ میں لاکھوں افراد آ کر بیمار ہیں اور کئی ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اس وائرس نے تین لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیوں کے چراغ گُل بھی کر دیے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے