شفقنا اردو: شفقنا اردو: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دو سال تک سرگرم رہنے والے مسلح کمانڈر جنید صحرائی وادی کی سب سے پُرانی عسکری تنظیم کے آخری نمایاں رہنما تھے۔

انڈیا کے ایک پیشہ ورانہ کالج سے نظمِ تجارت کی ڈگری حاصل کرنے والے جنید معروف علیحدگی پسند رہنما محمد اشرف خان صحرائی کے فرزند تھے۔

صحرائی کشمیر کی انڈیا مخالف مزاحمتی تحریک کا چہرہ کہلانے والے سید علی گیلانی کے دست راست ہیں اور گیلانی کی علالت کے بعد اُن کے جانشین مقرر ہوئے۔

ان کی ہلاکت محض اس لیے اہم نہیں کہ وہ علیحدگی پسند رہنما یا اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ اُن کی ہلاکت اس لیے معنی خیز ہے کہ وہ قدغنوں میں محصور کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ تیسری نسل کے بظاہر آخری نمائندہ تھے، جو کشمیر کا مسئلہ مسلح مزاحمت کے ذریعہ حل کرنے کے لیے جان دے چکے ہیں۔

کشمیر میں انڈیا مخالف تحریک کی تاریخ

ایل او سی کے قریبی ضلع کپوارہ سے تعلق رکھنے والے محمد مقبول بٹ کو انڈیا مخالف مسلح مزاحمت کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ وہ پاکستان اور انڈیا دونوں کے زیر انتظام کشمیری خطوں کو ایک آزاد مملکت بنانا چاہتے تھے۔

اُنھیں قتل اور وطن دُشمنی کے الزام میں دلی کی تہاڑ جیل میں قید کیا گیا اور 11 فروری 1984 کو جیل کے احاطے میں ہی پھانسی کے بعد دفن کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ سوویت مخالف جہاد عروج پر تھا اور انڈیا آپریشن براس ٹیکس کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

اسی سال سیاچن پر فتح کا اعلان ہوا۔ افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا سے ذرا قبل کشمیر میں انتخابات کا بگل بجایا گیا۔

مقبول بٹ کی پھانسی اور جیل میں اُن کی تدفین نے کشمیری نوجوانوں میں ارتعاش پیدا کردیا تھا اور شیخ عبداللہ کے انتقال کے بعد نیشنل کانفرنس کمزور حالت میں تھی۔

کشمیر میں مذہبی و سیاسی تنظیم جماعت اسلامی اور بعض طلبہ تنظیموں نے مسلم متحدہ محاذ قائم کر کے انتخابات میں حصہ لیا۔

لیکن انتخابات میں ’شرمناک دھاندلی‘ ہونے کا الزام لگایا گیا اور محاذ کے نمایاں اُمیدوار اور جماعت اسلامی کے معروف خطیب محمد یوسف شاہ کو شکست ہوئی۔ انتخابات کے یہ نتائج کشمیری نوجوانوں پر شاک گزرے۔

انتخابات میں شاہ کی سیاسی مہم میں یاسین ملک اور اُن کے دوست پیش پیش تھے۔ اُدھر کابل نے آزادی کا اعلان کردیا، اِدھر یاسین ملک اور دیگر نوجوانوں نے سرحد عبور کر کے پاکستان میں تربیت حاصل کی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ قائم کر لی۔

سرینگر میں پہلا دھماکہ انڈین حکومت کے ٹیلیفون ایکسچینج (تار گھر) میں جولائی 1989 میں ہوا۔

یاسین اور اُس کے دوستوں سے عمر میں بڑے یوسف شاہ نے 12ویں صدی کے مسلم فاتح صلاح الدین کا نام مستعار لیا اور اُسی تنظیم کے سالارِ اعلیٰ بن گئے جس کا علم لیے منگل کے روز جُنید صحرائی سرینگر کے نوا کدل میں مارے گئے۔

تار گھر سے نواکدل تک کی 30 سالہ تاریخ ظلم و ستم، آتشزنی، ہلاکتوں، جنسی زیادتیوں، گمشدگیوں اور قدغنوں سے بھری پڑی ہے۔

مقبول بٹ نے کشمیریوں کی جس نسل کو مسلح مزاحمت کے لیے متاثر کیا وہ گروہی تصادم، سازشوں اور انڈین فوج کی جانب سے باغیوں کے خلاف ترکیبوں کے ہتھے چڑھ گئی۔

بالآخر یاسین ملک کی جے کے ایل ایف نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور سیاسی مزاحمت کے اتحاد حُریت کانفرنس کے ساتھ جُڑ گئی۔

یاسین ملک فی الوقت تہاڑ جیل میں درجنوں دیگر علیحدگی پسندوں کے ساتھ قید ہیں۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ عدم تشدد کے مظاہرے کو انڈیا نے سختی سے کچل کر نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کردیا۔

یاسین ملک کے جو معاصرین حزب المجاہدین کے ساتھ مسلسل سرگرم رہے وہ سینکڑوں کی تعداد میں مارے گئے۔

جولائی 2000 میں حزب المجاہدین نے بھی جنگ بندی کا اعلان کر کے انڈین حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے۔ لیکن یہ سیز فائر صرف دو ہفتوں تک جاری رہا اور حزب نے فوج پر معاہدے کی خلاف ورزی میں نوجوانوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کر کے دوبارہ کارروائیوں کا اعلان کردیا۔

نائن الیون کے بعد نوجوانوں کی وہ دوسری نسل بھی فوجی کارروائیوں کا لقمہ بن گئی جس نے مقبول بٹ کی تقلید میں بندوق تھامی تھی۔

لیکن عوام کے اندر مسلح مزاحمت کی پذیرائی اس قدر شدید تھی کہ اسے دبانے کے لیے سرکاری کارروائیاں کبھی بند نہیں ہوئیں۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوں یا دلی سرینگر بات چیت، پس نظر فوجی زیادتیوں، گمشدگیوں، ہلاکتوں، قید و بند اور بندشوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے اواخر میں کشمیر میں نئی دہلی کی مبینہ کشمیر کُش پالیسیوں کے خلاف غیر مسلح احتجاجی تحریک برپا ہوئی، جو 2010 تک جاری رہی۔

اس تحریک کو دبانے کے لیے فورسز نے بڑے پیمانے پر طاقت کا استعمال کیا اور قریب دو سو نوجوان ہلاک ہوگئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوگئے۔

جب کشمیر مسلح مزاحمت کو پہنچے نقصان پر نادم تھا اور لوگ پُرامن سیاسی جدوجہد کرنے پر آمادہ معلوم ہوئے، عین اُسی وقت فروری 2013 میں ایک اور کشمیری عسکریت پسند افضل گُورو کو پُراسرار حالات میں پھانسی دی گئی اور مقبول بٹ کی طرح ہی تہاڑ جیل میں دفن کردیا گیا۔

تاریخ اپنے آپ کو گویا مختصر وقفے کے بعد دوہرا رہی تھی۔ جس طرح مقبول بٹ کی پھانسی نے کشمیر میں پک رہے لاوے کو ابھارا اُسی طرح گُورو کی پھانسی نے خطے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ایک بار پھر عسکری تجربے پر مائل کر دیا۔

برہان لہر

کل اگر مقبول بٹ واقعے نے یاسین ملک کو نوجوانوں کے لیے مثال بنایا تو اب کی بار گُورو کی پھانسی نے برہان وانی کو اُن کا ہیرو بنا دیا۔

یہ سوشل میڈیا کا بھی زمانہ تھا۔ اس مرتبہ کشمیری عسکریت پسندوں نے نہ چہرہ چھپایا اور نہ نام۔ ایک لہر چل پڑی اور اس کے خلاف فوجی منصوبہ بندی کا سیلاب بھی اُمڑ رہا تھا۔

سنہ 2016 میں جب نئی عسکریت کے پوسٹر بوائے کہلائے جانے والے برہان مظفر وانی بعض ساتھیوں سمیت جھڑپ میں مارے گئے تو کشمیر نوجوانوں پر اس کا گہرا اثر پڑا۔

سرکاری ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ برہان کے جنازے میں کرفیو اور سختیوں کے باوجود لاکھوں کی شرکت نے مسلح تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

پھر ایک روایت چل پڑی۔ جو بھی عسکریت پسند محصور ہوجاتا تو عوامی ہجوم جائے تصادم کے باہر مظاہرہ کرتا، درجنوں مارے جاتے اور پھر ہلاک شدہ عسکریت پسند کے جنازے میں لاکھوں کی شرکت ہوتی۔ کئی روز تک زندگی معطل ہوجاتی۔

برہان لہر کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بندوق اُٹھائی۔ اُن میں انجینئر بھی، محقق بھی اور پروفیسر بھی تھے۔

حالیہ دنوں مارے گئے ریاض نائیکو ریاضی کے اُستاد تھے اور جُنید صحرائی علمِ تجارت کے ماہر۔ ریاض نائیکو اور جُنید صحرائی کی ہلاکتوں نے کشمیر کی دیرینہ عسکری تنظیم حزب المجاہدین کو قیادت کے فقدان سے دوچار کردیا ہے، جس پر یہاں کی فورسز فخر سے کہتی ہیں کہ اس بار گرما کا موسم پُرامن رہے گا۔

پچھلے دو ماہ سے جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ایل او سی کے قریب ویرانوں میں دفن کیا جاتا ہے۔

گذشتہ 30 سال کے دوران انڈیا مخالف مسلح مزاحمت کے تینوں ادوار ہلاکتوں اورتباہ کاریوں پر ختم ہوگئے ہیں۔ کئی سال سے کشمیر میں تحریک سے متعلق کئی متوازی بیانیے عام ہیں۔

نوجوانوں کا ایک سرگرم طبقہ کہتا ہے کہ مسلح تشدد کے بغیر کوئی چارہ نہیں جبکہ کچھ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت انڈین طاقت کے سامنے یکطرفہ لڑائی ہے، جس میں لڑائی کے اصول غالب فریق ہی طے کرتا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں انڈیا نے کشمیر میں ظلم کی انتہا کر کے اور جمہوریت، انصاف اور انسانیت کے اصولوں کی مٹی پلید کر کے عالمی بدنامی مول لی ہے۔

لیکن اس مبینہ اخلاقی شکست نے ابھی تک نئی دہلی کو کشمیر میں عام زندگی بحال کرنے پر مجبور نہیں کیا، یہاں تک کہ مسائل حل کرنے کے لیے کسی اقدام کا ذکر ہوجائے۔

اس صورتحال کے پیش نظر متاثرین اور دیگر حساس عوامی حلقے 30 سال میں پہلی مرتبہ جنگ کی خواہش کرتے ہیں۔

نواکدل میں جُنید صحرائی اور طارق شیخ کی ہلاکت کے بعد تباہ شدہ بستی کے مناظر نے اس خواہش میں شدت پیدا کردی ہے۔

نواکدل کے ایک رہائشی بشیر احمد متو کہتے ہیں کہ ’کم از کم جنگ کا یہ فائدہ ہے کہ فیصلہ ہوجاتا ہے، پھر ہمارے حق میں ہو یا ہمارے خلاف۔ لیکن ہر دن سروں پر موت کی تلوار تو نہ لٹکے گی۔‘

مبصرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ نئی دہلی کے اقتدار پر براجمان ہند و قوم پرستوں کی یہ خواہش کہ مسلم اکثریتی کشمیر کو دبا کر انڈیا میں انتخابات جیتے جائیں گے۔

تجزیہ نگار اعجاز ایوب کہتے ہیں کہ ’کشمیریوں نے کبھی جنگ کی خواہش نہیں کی۔ لیکن اب زیادیتوں کی حد ہوگئی ہے۔

انڈیا نے مسلح مزاحمت اور سیاسی مزاحمت دونوں کو کچلنے میں کسی اخلاقی اصول کی پاسداری نہیں کی۔ کشمیریوں نے الیکشن لڑے، مذاکرات کیے، فرقہ ورانہ بھائی چارے کا ثبوت دیا۔‘

’لیکن ہوا کچھ نہیں۔ اب تو سب چاہتے ہیں کہ ایک بار میں سب کچھ ہوجائے، رہ رہ کے مرنے سے بہتر ہے کہ سب کچھ ایک ساتھ ختم ہوجائے۔‘

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے