شفقنا اردو: انڈیا اور چین کی سرحد پر تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔ دونوں ممالک لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اپنی فوج کی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اکسائی چن میں موجود وادی گالوان کے سبب دونوں ممالک کے مابین تناؤ کی ابتدا ہوئی تھی۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ وادی گالوان کے اطراف میں چینی فوج کے کچھ خیمے دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا نے بھی وہاں فوج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی چین کا الزام ہے کہ انڈیا وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔

مئی میں دونوں ممالک کے مابین سرحد پر مختلف مقامات پر تصادم ہوا ہے۔

9 مئی کو شمالی سکم میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ اسی دوران لداخ میں ایل اے سی کے قریب چینی فوج کے ہیلی کاپٹر دیکھے گئے۔ اس کے بعد انڈیا نے بھی دوسرے لڑاکا طیارے بشمول سوکھوئی کے ساتھ بھی گشت شروع کر دیا۔

پیر کو ایئر فورس کے سربراہ آر کے ایس بھڈوریا نے بھی چین کا ذکر کیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’وہاں کچھ غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں۔ اس طرح کے واقعات پر ہم گہری نظر رکھتے ہیں اور ضروری کارروائی بھی کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں زیادہ تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اسی دوران آرمی چیف جنرل ایم ایم ناروانے نے گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کی فوجوں کے مابین تصادم کے بعد کہا تھا کہ چین کی سرحد پر انڈین فوج اپنی جگہ پر قائم ہے اور سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے لیے ترقیاتی پروگرام پر کام جاری ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان جھڑپوں میں دونوں ملکوں کی افواج کے جوانوں کا سلوک جارحانہ تھا لہذا انھیں معمولی چوٹیں آئیں ہیں۔

چین کا انڈیا پر الزام
چین نے انڈیا کو اس تناؤ کی وجہ قرار دیا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں پیر کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں انڈیا کو دریائے گالوان (وادی) کے خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اخبار نے چینی فوج کے حوالے سے کہا ہے کہ ’انڈیا نے اس علاقے میں دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کی ہیں۔ اس کی وجہ سے چین کو وہاں فوجی تعیناتی میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔‘

’انڈیا نے اس کشیدگی کی ابتدا کی ہے۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہان ڈوکلام جیسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی جیسا کہ سنہ 2017 میں ڈوکلام میں ہوا تھا۔ انڈیا کووڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی پریشانیوں سے دوچار ہے اور اس نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے گالوان میں تناؤ پیدا کیا۔‘

گلوبل ٹائمز نے یہ بھی لکھا ہے کہ وادی گالوان ایک چینی علاقہ ہے۔ انڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے انڈیا اور چین کے مابین سرحدی امور سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انڈیا مئی کے آغاز سے ہی وادی گالوان میں سرحد عبور کرکے چینی سرزمین میں داخل ہورہا ہے۔

گالوان وادی کیوں اہم ہے؟

وادی گالوان کا متنازع علاقہ اکسائی چن میں ہے۔ گالوان وادی لداخ اور اکسائی چن کے درمیان ہند-چین سرحد کے قریب واقع ہے۔

یہاں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) چین کو انڈیا سے الگ کرتا ہے۔ انڈیا اور چین دونوں اکسائی چن پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ وادی چین میں جنوبی سنکیانگ اور انڈیا میں لداخ تک پھیلی ہوئی ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ایس ڈی منی نے بتایا کہ یہ علاقہ انڈیا کے لیے سٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے کیونکہ یہ پاکستان، چین کے سنکیانگ اور لداخ کی سرحدوں سے متصل ہے۔ یہاں تک کہ 1962 کی جنگ کے دوران دریائے گالوان کا یہ علاقہ جنگ کا مرکز تھا۔

کورونا کے بحران کے دوران سرحد پر تناؤ
ایک طرف پوری دنیا کورونا وائرس سے لڑ رہی ہے۔ انڈیا میں اس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور چین پر یورپ اور امریکہ بار بار سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے تنازعے میں پڑنے کی کیا وجہ ہے؟

ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ اس وقت انڈیا ان علاقوں میں اپنے دعوے کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ وہ اس کا اپنا علاقہ ہے۔ لیکن درحقیقت یہ متنازع علاقہ ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’اس کی شروعات سنہ 1958 میں اس وقت ہوئی جب چین نے اکسائی چن میں ایک سڑک بنائی جو شاہراہ قراقرم سے جڑتی ہے اور پاکستان کی طرف بھی جاتی ہے۔‘

’جب سڑک تعمیر ہو رہی تھی تو اس وقت انڈیا کی توجہ اس طرف نہیں گئی لیکن سڑک تعمیر ہونے کے بعد انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ اس وقت سے ہی انڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ چین نے اکسائی چن پر قبضہ کر لیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
وہ کہتے ہیں کہ لیکن اس وقت انڈیا نے اس پر کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔ اب کارروائی کی جا رہی ہے کیونکہ انڈیا کو اپنا دعویٰ کرنا ہے۔ جس طرح انڈیا نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق اپنے دعوے کو مستحکم کرنا شروع کردیا ہے۔ اسی تناظر میں اکسائی چن میں بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ لیکن اب چین کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے۔

ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ چین گالوان کی وادی میں انڈیا کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے کیونکہ انڈیا اور چین کے مابین ایک معاہدہ ہوا ہے کہ وہ ایل اے سی قبول کریں گے اور وہاں نئی تعمیرات نہیں کریں گے۔ لیکن چین پہلے ہی وہاں ضروری فوجی تعمیرات کر چکا ہے اور اب وہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کی بات کرتا ہے۔ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اب انڈیا بھی وہاں سٹریٹجک عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

انڈیا کی بدلتی حکمت عملی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے لے کر اکسائی چن تک انڈیا کی حکمت عملی میں تبدیلی کی کیا وجہ ہے؟ کیا انڈیا غیر محفوظ محسوس کررہا ہے اور آیا وہ جارحانہ ہوگیا ہے؟

ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ انڈیا جارحانہ نہیں ہوا بلکہ اب کھل کر بولنے لگا ہے۔ وہ جن مقامات پر اپنے حقوق کا دعویٰ کر رہا ہے اب ان پر اپنا اختیار جتانے بھی لگا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1962 کے مقابلے آج کا انڈیا ایک بہت مضبوط انڈیا ہے۔ یہ معاشی نقطہ نظر سے بھی مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ جس طرح سے چین سامنے آیا ہے، خطرہ بڑھا ہے۔

’پاکستان کے ساتھ انڈیا کے تعلقات بھی بہت خراب ہیں اور اس سے خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومتِ ہند یہ محسوس کررہی ہے کہ اسے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔ اگر اکسائی چن میں انڈیا فوجی تعمیرات کرتا ہے تو پھر وہاں سے وہ چینی فوج کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے گا۔‘

دوسری جانب گلوبل ٹائمز نے ایک ریسرچ فیلو کے حوالے سے بتایا ہے کہ وادی گالوان میں ڈوکلام جیسی صورتحال نہیں ہے۔ اکسائی چن میں چینی فوج مضبوط ہے اور کشیدگی بڑھانے کے لیے انڈین فوج کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

اس سلسلے میں ماہرین کا خیال ہے کہ چین وہاں مضبوط حالت میں ہے اور وہ انڈیا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے چین سفارتی طور پر کمزور ہوچکا ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ اس پر کھلے عام الزامات عائد کررہے ہیں جبکہ انڈیا نے ابھی تک چین سے متعلق کچھ نہیں کہا ہے۔

ایسی صورتحال میں چین انڈیا سے متوازن طرز عمل کی توقع کر رہا ہے۔ انڈیا اس محاذ پر چین سے مذاکرات کرنے کی حالت میں ہے۔

کیا ان ممالک پر دباؤ بڑھے گا؟

چین نے انڈیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ کورونا کے معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک سرحدی تنازع پیدا کررہا ہے۔

اس پر ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ ’کورونا وائرس کے خلاف جنگ اپنی جگہ اور ملکی سلامتی اپنی جگہ ہے۔‘

’چین بحیرہ جنوبی چین میں اپنی فوجی تعمیر کو بھی بڑھا رہا ہے۔ دنیا کورونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف ہے لیکن فوج کورونا وائرس سے لڑ نہیں رہی ہے۔ فوج اپنا کام کرے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ سٹریٹجک اہمیت کے امور ہیں جو کورونا سے پہلے تھے، اب بھی ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے۔ لہذا چین کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے