شفقنا اردو: سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس گلزار احمد خان نے کرونا سے نمٹنے کے متعلق پہلا از خود نوٹس لیا تھا۔ اب تک اس کیس میں بینچز بھی تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ پچھلے دن اس کیس کے متعلق چیف جسٹس نے سخت ریمارکس بھی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک نہیں جو کورونا وائرس سے زیادہ بری طرح متاثر ہو، کورونا وائرس بظاہر پاکستان میں وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا۔ چیف جسٹس گلزار احمد کا مزید کہنا تھا کہ کورونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسا اٹھا کر لے جائے، اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے، پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہیے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ۔ انہوں نے پچھلے روز سماعت کے دوران این ڈی ایم کے چیئرمین سے سوال بھی کیا کہ ہر مریض پر 25 لاکھ کیسے خرچ ہوئے ؛ 500 ارب روپے کہاں گئے؟ یہ تو رہی عدالتی کارروائی، اب دیکھتے ہیں کہ حکومت کو اب تک کل کتنی رقم موصول ہوئی ہے۔

اب تک حکومت نے کتنی رقم وصول کی ہے؟

عالمی امداد
ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپریل میں 8 ملین ڈالرز کرونا وائرس سے لڑنے کے لئے حکومت پاکستان کو دینے کا اعلان کیا؛ کل ملا کے اس بینک نے اب تک 1.7 بلین ڈالرز فراہم کیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو کرونا وبا سے لڑنے کے لئے 1.4 بلین ڈالرز سامان اور سروس خریدنے کے لئے قرض کے طور پر دیے۔ ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز نے بھی 2 سو ملین ڈالرز فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ سلطنت برطانیہ نے پاکستان کے لئے 2.67 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا تھا جس سے 27 اضلاع میں کرونا سے متاثرہ غریبوں کی مدد کی جانی تھی۔

اس کے علاوہ برطانوی راج نے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے بھی 1 ملین پاؤنڈز فراہم کیے ہیں۔ مزید براں، اسلامی ترقیاتی بینک نے حکومت پاکستان کو کرونا وبا سے لڑنے کے لئے 2.3 بلین ڈالرز کا ایک بڑا پیکج فراہم کیا ہے۔ عالمی بینک نے 370 ملین ڈالرز کا قرضہ کرونا وائرس کی جنگ کے لئے پاکستان کو فراہم کیا ہے۔ یہ رقوم تو عالمی طور پر پاکستان کو ملی ہیں لیکن کچھ رقوم ایسی بھی ہیں جو باقاعدہ امداد کی مد میں حکومت کو ملی ہیں جن پر نا تو کوئی سود ہے اور نا ہی کوئی واپسی کی قید۔

سود اور واپسی کی قید سے آزاد رقم!

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے حکومت پاکستان آغاز سے ہی امداد اکٹھا کر رہی ہے۔ جس کو وزیر اعظم کرونا ریلیف فنڈ کا نام دیا گیا ہے۔ فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے کئی طریقے اپنائے گئے۔ موبائل فونز سے پیسے وصول کیے گئے ؛ ٹیلی تھون منعقد کیا گیا۔ اور فنڈ کو خوب سیراب کیا گیا۔

اس امدادی فنڈ میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 20 ملین روپے جمع کرائے ؛ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی نے 10 ملین؛ فینسا مائکرو فنانس بینک آف پاکستان نے 2 ملین کا حصہ ڈالا؛ پاکستان میں کویت انویسٹمنٹ کمپنی نے 10 ملین روپے اس فنڈ کو عطیہ کیے ؛ موبائل سم کمپنی ”جاز“ نے کرونا ریلیف فنڈ میں 50 ملین روپے جبکہ ”ٹیلی نار“ نے بھی 50 ملین روپے جمع کیے ہیں۔ اس کے ساتھ اوپو موبائل کمپنی نے 6.2 ملین روپے فنڈ کو عطیہ کیے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس فنڈ میں 10 ملین روپے ؛ پاکستان سٹیٹ آئل نے 50 ملین روپے ؛ دن گروپ آف کمپنی نے 10 ملین روپے جبکہ ایک بسکٹ کمپنی ای بی ایم نے 100 ملین روپے اس فنڈ کو عطیہ کیے ہیں۔ ایک اور کمپنی بلیو ورلڈ سٹی نے پرائم منسٹر کرونا ریلیف فنڈ میں 20 ملین روپے امداد کے طور پر دیے۔ زلمی فاؤنڈیشن نے ایک کروڑ جبکہ لاہور کالج فار وومن کے تمام ملازمین نے 1.5 ملین روپے فنڈ میں جمع کرائے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ملازمین نے بھی اس فنڈ میں تین ملین روپوں کا حصہ ڈالا۔ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے 5.1 ملین روپے جمع کرائے۔ یو ای ٹی کے تمام ملازمین نے 2.5 ملین جبکہ وائس چانسلر نے ذاتی اخراجات سے ایک لاکھ روپے جمع کرائے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم، اظہر علی اور آل راؤنڈر عماد وسیم نے ایک ایک ملین روپے عطیہ کیے۔

پاکستان ریلوے ملازمین نے اپنی ایک دن کی تنخواہ اس فنڈ میں جمع کرائی جس کا چیک خود شیخ رشید نے عمران خان کو تھمایا تھا۔ ان کی ایک دن کی تنخواہ تقریباً 5 کروڑ کے قریب بنتی ہے۔ نیب نے 4.6 ملین روپے فنڈ کو امداد کے طور پر پیش کیے۔ اس طرح فیصل ایدھی سمیت کئی سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے اس فنڈ میں حصہ ڈالا۔ یہ فنڈ 3.5 بلین روپوں سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہزاروں این جی اوز بھی کام کر رہی ہیں۔ کئی دیگر ذرائع سے بھی رقوم جمع ہو رہی ہیں۔ یہی نہیں ہر صوبہ الگ سے فنڈ جمع کر رہا ہے لیکن یہ علم کسی کو نہیں کہ یہ رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے!

لیکن سوال تو ہوگا!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری رقم کہاں چلی گئی؟ چیف جسٹس صاحب کا سوال بجا ہے کہ پانچ سو ارب روپے کہاں گئے؟ اگر اتنی رقم آنے کے بعد بھی ہزاروں لوگ مر رہے ہیں تو مطلب یہ رقم حقدار تک نہیں پہنچ رہی۔ ہسپتالوں میں جان کے لالے پڑے ہیں۔ مریضوں کے لئے بیڈز نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز پریشان ہیں۔ ان کے لئے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹیسٹ نہیں ہو رہے۔ تو پھر یہ رقم کہاں چلی گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا نظام ہی خراب ہے۔ اوپر سے نیچے سب کمائی کی غرض سے جمع ہوئے ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں لیکن ان کو مستقبل کے الیکشنز کے لئے پیسہ کمانا ہے۔

ایک عام پاکستانی اس بات سے خوب واقف ہے کہ کیا ہو رہا ہے لیکن حکومت کی یہ بات کانٹے کی طرح چبھتی ہے کہ وسائل کم ہیں ؛ پیسے نہیں ہیں! یہ جو اتنی امداد ابھی تک ملی وہ کہاں گئی؟ کبھی ان کا ماسک سکینڈل آتا ہے تو کبھی کیا!

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے