شفقنا اردو: پاکستان میں چینی سفارتخانے نے پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے امریکی سفیر ایلس ویلز کے بیان کو غیرذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے پاک چین تعلقات خراب کرنے کی ناکام کوشش کی۔

ایک دن قبل امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے آن لائن میڈیا بریفنگ میں پاک چین اقتصادی راہداری اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتےہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے شکاری قرض کی شرائط سے ممالک کو آزاد کرے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام شکاری قرضوں سے جو ملک مشکلات کا شکار ہیں، چین انہیں شفاف طریقے سے ان سے ریلیف فراہم کرے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ شفافیت کی کمی اور اس منصوبے میں شریک چینی کمپنیوں کو منافع کی جس نامناسب شرح کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اس کی وجہ سے امریکا کو پاک-چین اقتصادی راہداری پر تحفظات ہیں۔

پاکستان میں چینی سفارتخانے نے ایلس ویلز کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بالکل بے بنیاد اور ان کے سابقہ لہجے کی تکرار قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم پاکستان کو برابر کا شراکت دار سمجھتے ہیں اور ہم نے پاکستان سے کبھی بھی ‘ڈومور’ کا مطالبہ نہیں، پاکستان کے ترقی کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے مقامی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی، ہم نے ہمیشہ خطے میں پاکستان کے ذمے دارانہ کردار کو اجاگر کیا اور کبھی بھی ان پر دباؤ نہیں ڈالا۔

چین نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری دراصل پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی ایک منصوبہ ہے، اس میں ہمیشہ باہمی فوائد، تعاون اور شفافیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین نے سائنسی تحقیق اور برابری کی بنیاد پر کی گئی مشاورت کے بعد منصوبے کی منصوبہ بندیاور اس پر عملدرآمد شروع کیا، اس منصوبے میں کام کفرنے والی تمام چینی کمپنیاں اپنے اپنے شعبوں میں صل اول کی حیثیت رکھتی ہیں اور مقامی قوانین کی مکمل طور پر پیروی کرتے ہوئے کام کررہی ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ سی پیک میں ڈھائی کروڑ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی جائے گی اور پاکستان میں 75ہزار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، چین پچھلے پانچ سالوں سے لگاتار پاکستان میں براہ غیرملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کورونا وائرس کے سلسلے میں بھی پاکستان کی مدد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں نے پاکستان میں طبی امداد کے لیے بھاری عطیات دیے، چین میں 20ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں جو چینی حکومت کی جانب سے دی گئی اسکالر شپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

بیان میں بتایا کہا اگلے مرحلے میں دونوں ممالک صحت عامہ، تعلیم، صنعتی شعبے اور زراعت میں تعاون کو فروغ دیں گے اور کورونا وائرس کے بعد بھی سی پیک پاکستان کی معیشت کی بحالی میں اہم محرک ثابت ہو گا۔

چین نے واضح کیا کہ وہ پاکستان پر قرض کی واپسی کے لیے کبھی بھی دباؤ نہیں ڈالے گا اور قرض کے حوالے سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ہمارا پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر تبصرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکا دونوں ملکوں کو کم از کم بنیادی احترام کی نگاہ سے دیکھے گا اور چین امید کرتا ہے کہ امریکا سرد جنگ اور ایک کا فائدہ اور دوسرے کے نقصان کی سوچ کو ترک کر کے پاکستان کی کچھ ٹھوس امداد کرے گا۔

چین نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں کسی استاد کی ضرورت، خصوصاً امریکا جیسے استاد کی ضرورت نہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے