دنیا مجھے مسلمان کہتی ہے، اسلام میرا دین بھی اور دیس بھی ہے، لوگوں کے درمیان مجھے مصطفوی سمجھا جاتا ہے،لیکن اب میں اپنی مصطفوی شناخت کھو چکا ہوں، میں اپنی تاریخ سے غافل ہوں، میں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، دنیا کے ہر خطے میں، میں پریشان حال ہوں، بلکہ عقب ماندہ اور پسماندہ بھی ہوں۔

میں خود بھی اپنی اصلی شناخت کو مسل رہا ہوں، میں اپنے آپ کو مصطفوی نہیں کہتا بلکہ شیعہ، سنی ، اہلحدیث، سلفی، دیوبندی، لبرل، سیکولر۔۔۔ وغیرہ وغیرہ کہتا ہوں۔
میں سوچتا ہوں کہ شایدلبرل،کیمونسٹ، سوشلسٹ، شیعہ، سُنی، یا اہلحدیث کہلوانے سے میرے مسائل حل ہوجائیں گے۔ میں اپنے مسائل کو بھی علاقوں، ممالک اور خود ساختہ فرقوں میں تقسیم کرتا ہوں۔

میں کشمیر کو پاکستان کا ، فلسطین کو عربوں کا ، امریکہ کو ایران کا اور یمن کو یمنیوں کا مسئلہ سمجھتا ہوں۔
میری پوری کوشش ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف اور صرف میرے ہی فرقے کے ہاتھوں حل ہو ورنہ بے شک اِسی طرح پڑا رہے، میری زندگی کی سب سے بڑی تمنّا یہ ہے کہ بیت المقدس کی ریلیوں میں صرف اور صرف میرے ہی قائدین کے بینرز اور پوسٹر نظرآئیں ورنہ بے شک یہ ریلیاں نہ نکلیں،اور میرے دل کی ایک ہی آرزو ہے کہ مسلمانوں میں میرے مقدس فرقے کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان نہ کہلائے، باقی سب کو کافر، مشرک ، نجس اور مرتد گردانا جائے۔
میری اِن ننھی مُنھی خواہشات نے مجھے اس حال میں پہنچادیا ہے کہ میں ہجوم میں بھی تنہا ہوں،اور میں تعداد کے اعتبار سے اربوں میں ہوکر بھی صفر ہوں، کہنے کو تو میرے اکابرین نے سعودی پرچم کے نیچے عالمی اسلامی فوج تشکیل دے رکھی ہے، لیکن کشمیر ہو یا فلسطین یہ فوج اس بارے میں ایک بیان تک نہیں دیتی۔
میرے کشمیری اور فلسطینی بھائی ساری دنیا میں اپنے حقوق کیلئے واویلا کر سکتے ہیں، مغربی ممالک کی پارلیمنٹس میں اُن کے حق میں تقاریر ہو سکتی ہیں لیکن بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میں وہ اپنے حقوق اور آزادی کیلئے کوئی کانفرنس نہیں بلا سکتے۔مطمئن رہیے کہ آج سرزمینِ حرم یعنی حرمین شریفین میں یوم القدس نہیں منایا جائے گا۔
میرے جیسے مسلمانوں کو آج بھی یہ پتہ نہیں کہ مسئلہ قدس ہے کیا!؟ بہت سارے تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ یہودیوں اور فلسطینیوں کا کوئی مقامی جھگڑا ہے۔

یعنی ہماری موجودہ نسل مسئلہ قدس کو فراموش کر چکی ہے۔ اور ہم اپنی تاریخ کو منتقل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو یہ نہیں بتا سکے کہ یہودی اور صہیونی میں کیا فرق ہے؟ لیکن یہ بتا دیا ہے کہ شیعہ و سنی اور اہل حدیث میں کیا فرق ہے!

ہم نے اپنے بچوں کو فلسطینی اور اسرائیلی کے درمیان موجود اختلاف نہیں سمجھایا لیکن نماز میں ہاتھ باندھنے اور کھولنے کا اختلاف اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔
ہمارے نوجوان یہ نہیں جانتے کہ صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ کیسے کیا لیکن وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مساجد کے اوپر قبضہ کیسے کیا جاتا ہے!؟

ہماری قوم کے معمار انجمن محبّین صہیون کی تشکیل سے نابلد ہیں لیکن آپس کے تنظیمی جھگڑوں اور پارٹی بازی کے ماہر ہیں۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ فلسطین کا یہودیوں اور مسلمانوں کے ساتھ تعلق کیا ہے!؟ جھگڑا کیا ہے!؟ فلسطین میں یہودی اور مسلمان کب سے آباد ہیں!؟ لیکن اس لاعلمی کے باوجود ہم خواب سارے عالمِ اسلام کی قیادت کرنے کے دیکھتے ہیں۔
دنیا میں شاید سب سے زیادہ الجہاد الجہاد کے نعرے ہمارے ہاں لگتے ہیں لیکن ہمارے مجاہد کو ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ عرب مسلمانوں کے درمیان میں اتنے زیادہ یہودی اکٹھے کیسے ہوگئے، انہوں نے کیسے اناً فانا ً ایک مضبوط ریاست بنالی!؟

خود یہودی کیسے یہ دشمنی مول لینے اور یہ ریاست بنانے پر راضی ہوگئے!؟ ہم میں سے کتنے ہی لوگ یہ جانتے ہیں کہ اسرائیل نامی ریاست عربی اور اسلامی منطقے میں کیوں قائم کی گئی !؟

ہم کچھ نہیں جانتے لیکن اس کے باوجود ہم ساری دنیا پر اسلامی پرچم گاڑنے کے چکر میں ہیں!؟

ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ فلسطین ایک عربی ملک ہے، اور اپنی تاریخ و تمدن کے اعتبار سے عرب ممالک کا دل ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ آج سارے جہانِ عجم میں تو فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے یوم القدس منایا جائے گا لیکن فلسطین کے ارد گرد موجود عرب ممالک میں اسرائیل کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوگی!؟

یقین جانئے مسلمان ہونا جرم نہیں ہے، لیکن مسلمان ہوکر اپنے مسلمان بھائیوں کو فرقوں کی بنا پر اپنا دشمن سمجھنا، قومی،سیاسی و اجتماعی مسائل میں ناسمجھ ہونا ، اتحاد اور وحدت کے بجائے تعصب اور تنگ نظری سے کام لینا، تاریخ سے عدمِ آگاہی ،بین الاقوامی حالات سے جہالت، ایک دوسرے کے مسائل سے غفلت، اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ بےحسی برتنا۔۔۔ یہ جرم ہے، اور یہی وہ جُرم ہے جس کی سزا مسلمانوں کو ساری دنیا میں مِل رہی ہے۔
اگر ہم مسلمان ہیں اور ہم نے کلمہ پڑھنےکے بعد اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اتحاد کا رشتہ نہ نبھایا تو پھر ہم مجرم ہیں، جی ہاں ہم مجرم ہیں کشمیر سے لے کر فلسطین تک، ہرگرنے والے آنسو اور ہر بہنے والے خون کے قطرے کے۔۔۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے