عبادت کا ثواب معرفت کے مطابق ہے، ہمیں عیدالفطر کی معرفت بھی حاصل کرنی چاہیے، ہمیں یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس دِن خدا وندِ عالم ہم سے کیا چاہتا ہے!؟اسے خوشی کا دن کیوں قرار دیا گیا ہے!؟اور یہ دن ہماری زندگی میں کیا تبدیلی لانا چاہتا ہے!؟

یکم شوال المکرم کو عیدالفطر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ افطار اور فطر ہم معنی ہیں۔ جس طرح ہر روزے کا افطار غروب آفتاب کے بعد کیا جاتا ہے اسی طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے کا افطار اسی عید سعید کے روز ہوتا ہے۔ اس لئے اس یوم مبارک کو عید الفطر کہتے ہیں۔عید اور خوشی کا یہ دن مسلمانوں کا عظیم اور مقدس مذہبی اورمعاشرتی تہوار ہے جو ہر سال یکم شوال المکرم کو انتہائی عقیدت و احترام جوش و جذبے اور ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے۔

عید حقیقی بندگان خدا کے لیے انعام ہے، لہذا کہیں ایسا نہ ہو انعام وصول کرنے کے وقت ہم کسی اور کام میں مصروف ہوں۔ یاد رہے شب عید اور روز عید کو بھی عبادت خدا نظر انداز نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ایسا نہ ہو ہم زمانہ جاہلیت والے کاموں (لہو ولعب) میں وقت برباد کر دیں۔۔ باب مدینہ العلم ع فرماتے ہیں مومن کا ہر وہ دن عید ہے جب وہ کوئی گناہ نہ کرے۔۔ گویا گناہوں سے بچنا بھی عید ہے۔۔ اسی طرح کسی مجبور کو خوشی دلانا بھی عید ہے لہذا اپنی عید کیساتھ دوسروں کی مدد کر کے انکی بھی عید کرائیں ۔۔۔ خوشیاں بانٹنے سے زیادہ ہوتی ہیں یہ خدا کا وعدہ ہے۔۔ ضیافت الہی کا حق یہ بنتا ہے کہ جب ہم خدا وندا کریم کی ضیافت سے باہر آئیں تو ہماری زندگیوں میں عملی تبدیلی نظر آئے تاکہ محسوس ہو کے قادر مطلق کی ضیافت کا اثر باقی ہے۔۔۔ ویسے بھی اگر اعمال و عبادات کے بعد انسان کے رویے میِں واضح فرق نہ آئے تو شاید یہ عبادات و اعمال تھکاوٹ ہی قرار پائیں ۔۔ اعمال و عبادات کا معنوی اثر مرتب ہونا نہ صرف اعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہی اعمال کی معراج بھی قرار پاتا ۔۔

لفظ ’’عید‘‘ کا معنی و مفہوم:

عید کا لفظ عود سے مشتق ہے جس کا معنی لوٹنا اور خوشی کے ہیں کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر بار بار لوٹ کر آتا ہے اور ہر مرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتا ہے اس لئے اس دن کو عید کہتے ہیں۔عید کا معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے راغب اصفہانی (متوفی 502ھ) رقمطراز ہیں: عید لغت کے اعتبار سے اس دن کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور اصطلاح شریعت میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کو عید کہتے ہیں اور یہ دن شریعت میں خوشی منانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔(المفردات، ص352)

عیدالفطر کی تاریخ:

قرآن مجید میں ارشاد پروردگارہے۔

قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاء تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

ترجمہ

حضرت عیسیٰ بن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ ہم سب کو پالنے والے ہم پر خوان اتار آسمان سے کہ وہ دن ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لیے عید بنے اور ہو جائے ایک نشانی تیری طرف سے اور رزق دے ہمیں اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

(المائدہ114)

اس آیہ مبارکہ میں عید سے مراد مسرت و انسباط کا دن ہے۔ جب آفتاب رسالت نے ریگستان عرب کے دشت و جبل کو منور کیا اور ذرہ ذرہ توحید کے نور سے جگمگا اٹھا تو اس کے کچھ عرصے بعد ہی ہجرت کا واقعہ پیش آیا اور امام الانبیاء مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کے لوگ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدن، معاشرت اور اِجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کا تذکرہ سنن ابی داؤد کی حدیث میں ملتا ہے۔

روایت ہے کہ اہل مدینہ دو دن بہ طور تہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سے دریافت کیا فرمایا : یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ یعنی ان تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد جاہلیت میں (اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالٰی نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں یوم عید الاضحٰی اور یوم عید الفطر۔ گویا یہ مبارک روز سعید یکم شوال 2 ہجری سے منایا جا رہا ہے۔

یہ ہجرت مبارکہ تاریخ اسلام کا وہ تاریخ ساز اہم اور انقلاب انگیز موڑ ہے، جس سے اسلامی تاریخ اور سن ہجری کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

سن 2 ہجری میں غزوہ بدر کی فتح و نصرت کے بعد تاجدار دو جہاں نے قدسیوں کے جھرمٹ میں تکبیر و تہلیل کی دل آویز صدائوں کی گونج میں شہر مدینہ سے باہر ”میدان“ میں جا کر نماز ادا کی۔

’’عید‘‘ انبیاء ماسبق (علیہم السلام) کی مستقل روایت

اگر تاریخ امم سابقہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر مذہب میں عید منانے کا تصور موجود تھا۔ ان میں سے بعض کا ذکریوں ملتا ہے:ابوالبشر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کو جس دن اللہ رب العزت نے قبول فرمایا۔ بعد میں آنے والے اس دن عید منایا کرتے تھے۔

جدالانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملی تھی۔اسی طرح حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی تھی۔

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت اس روز عید مناتی تھی جس روز آسمان سے اُن کے لئے مائدہ نازل ہوا تھا۔الغرض عید کا تصور ہر قوم، ملت اور مذہب میں ہر دور میں موجود رہا ہے لیکن عید سعید کا جتنا عمدہ اور پاکیزہ تصور ہمارے دین اسلام میں موجود ہے ایسا کسی اور دین میں نہیں۔

شبِ عید کی فضیلت

ہمارے ہاں تو شب عید یعنی چاند رات گھر سے باہر گلیوں اور بازاروں سے گزاری جاتی ہے تاہم احادیث نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یکم شوال کی شب (شبِ عید) جسے عرفِ عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، اس کی بہت زیادہ فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے۔

عیدالفطر درحقیقت یوم الجائزہ اور یوم الانعام ہے کیونکہ اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو انعام و اکرام اجرو ثواب اور مغفرت و بخشش کا مژدہ سناتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جب عیدالفطر کی رات آتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ (یعنی انعام و اکرام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے وہ زمین پر آکر تمام گلیوں اور راستوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے (جسے جنات اور انسانوں کے علاوہ ہر مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں: اے امت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اُس ر ب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معارف فرمانے والا ہے‘‘۔

(الترغيب والترهيب)

ایک اور روایت میں ہے:

جس نے عید کی رات طلب ثواب کے لئے قیام کیا، اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن باقی لوگوں کے دل مرجائیں گے‘‘۔(سنن ابن ماجه)قابل افسوس بات ہیکہ ہمارے ہاں چاند رات اور روز عید کو بے معنی کر کے گزارا جاتا ہے بہت کم ایسا ہوتا ہیکہ شب عید یا روز عید کو ایسے منایا جاتا جیسے اسلام نے بتایا اکثر طور پر ان مقدس گھڑیوں کو لہو و لھب و مادیت کی نظر کر دیا جاتا۔

عید کس طرح منائیں؟

سطور بالا میں یہ بات واضح ہو گئی کے عید کیا اور یہ بھی پتہ چل گیا کے عید صرف نئے کپڑے پہننے رنگ رنگ کے کھانے، پینے ، موج مستی کا نام نہیں بلکہ خدا کی طرف سے خصوصی انعام ہے جسکو جتنا ہو سکے احسن انداز میں منایا جائے ۔۔ چونکہ یہ ایک ایسے ماہ کا انعام ہے جو ہمیں ایثار کے جذبے سے سرشار کرتا ہے لہذا ہمیں چاہیے ہم خوشیوں کو اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شامل کریں خاص طور سے وہ محروم طبقہ جو ہمارے درمیان تو ہے مگرحالات کے مارے خوشیاں حاصل نہیں کر پاتا ہمیں چاہیے ہم اپنے ساتھ ان لوگوں کو شریک کر کے قرب پروردگار حاصل کریں۔

یا اللہ عید الفطرکے پرمسرت موقع پر تو ہم سے راضی ہو اور گناہوں کی بخشش و مغفرت کو ہماری عیدی قرار دے۔۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے