شفقنا اردو: دو روز قبل پی آئی اے کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں‌ 97 افراد جاں‌ بحق ہوئے جبکہ طیارے میں سوار 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے۔ طیارہ حادثے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی رضا رومی اور تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔

سینئر صحافی رضا رومی کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ طیارہ حادثہ کے حوالے سے تمام چینلز کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ حادثے کی اور زخمیوں کی فوٹیج چلائی گئی اور اس دلخراش واقعے پر تمام ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیری گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا صارفین پر بھی تنقید بنتی ہے جنہوں نے تباہ شدہ طیارے کی تصویریں اور مسافروں کی فہرستیں شئیر کیں، جن کے بارے میں سرکاری ذرائع سے اس وقت تک کسی قسم کی کوئی تصدیق نہیں آئی تھی۔

مرتضی سولنگی نے کہا کہ سب سے زیادہ پریشان کن اور شرمناک واقعہ یہ تھا کہ جیو کے علاوہ تمام ٹی وی چینلز نے اتنے بڑے سانحے کے باوجود چینلز پر جگتوں والے پروگرامز چلائے۔ سیٹھ میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس سانحے پر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔

رضا رومی نے طیارہ حادثے کے حوالے سے کہا کہ اس حادثے کی ذمہ داری کسی پر تو عائد ہونی ہے، اس سے قبل جب حویلیاں میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا تو اس وقت کے پی آئی اے کے چیئرمین عاصم سہگل نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

رضا رومی نے مرتضٰی سولنگی سے پوچھا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پی آئی اے کے چیئرمین یا دیگر متعلقہ اہلکار استعفیٰ دیں گے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ جو ملک کے حالات بنتے جا رہے یہ تکلف اب کوئی نہیں کرتا۔ موجودہ چئیرمین ارشد ملک ائیر مارشل کو تو سندھ ہائی کورٹ نے ہٹا دیا تھا۔ یہ حاضر سروس افسر ہیں پاکستان ائیر فورس کے۔ اس کے بعد یہ سپریم کورٹ چلے گئے، اپنی ملازمت بچانے کے لیے، انہوں نے سپریم کورٹ سے سٹے لیا اور اس طرح کا کیس پیش کیا گیا کہ اگر ان کو ہٹایا گیا تو پی آئی اے کہیں گر جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب پی آئی اے کتنی اڑ رہی ہے یہ آپ کو پتا ہے، جہاز گر گیا ہے اور 97 خاندان برباد ہو گئے ہیں۔

سینئر صحافی رضا رومی نے طیارہ حادثہ پر بنائے گئے کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اپنے سینئر افسر کے خلاف رپورٹ بنائے گا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے