شفقنااردو: پاکستانی ٹیم نے دورۂ انگلینڈ میں کرکٹ سمیت 14روزہ قرنطینہ کی بھی پلاننگ شروع کر دی، کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں تمام کھلاڑی آپس میں گپ شپ کریں گے،گیمز کھیل کر اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے وقت گزاریں گے،ان کے مطابق پی سی بی کھلاڑیوں کی حفاظت سمیت تمام پہلو ذہن میں رکھتے ہوئے دورے کے لیے پیش رفت کر رہا ہے،اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کی کمی شدت سے محسوس ہوگی، نوجوان اپنے ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے سے محروم رہیں گے۔

رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد اور قومی ٹیم کی قیادت کے لیے دعا گو ہوں، رینکنگ بہتر بنانے کے لیے درست کمبی نیشن تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں، لاک ڈاؤن میں بھی پلیئرز آپس میں بات چیت کرتے ہوئے مستقبل کی پلاننگ کرتے ہیں، ذاتی کارکردگی میں مزید بہتری کیلیے اپنے میچز کی ویڈیوز دیکھ کر غلطیوں سے سیکھتا ہوں۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں معطل اور منتظمین بحالی کے نسخے تلاش کررہے ہیں،انگلش کرکٹ بورڈ ویسٹ انڈیز اور اس کے بعد پاکستان کی میزبانی کرکے دیگر ملکوں کو بھی راہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انٹرنیشنل مقابلوں کا انعقاد ممکن ہے۔

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال میں کرکٹ کی بحالی کے اس تجربے میں ساتھ دینے کے لیے پی سی بی نے ہاں کردی،ساتھ حالات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام کرکٹ کارنر ود سلیم خالق میں گفتگو کرتے ہوئے قومی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہاکہ میچز سے زیادہ زندگی اہم ہے، پی سی بی کھلاڑیوں کی حفاظت سمیت تمام پہلو ذہن میں رکھ کر دورۂ انگلینڈ کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔

حالات کو دیکھتے ہوئے وہاں سے گرین سگنل ملنے پر اگلا قدم اٹھایا جائے گا،ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ بورڈکے کسی بھی فیصلے میں پلیئرز کی صحت و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سخت ترین احتیاطی تدابیر میں قرنطینہ سمیت مشکلات کے سوال پر انھوں نے کہا کہ انگلینڈ پہنچ کر بھی 14 روز تک آئسولیشن میں رہنا ہوگا، اچھی بات ہے کہ ہوٹل میں اکیلے نہیں بلکہ پوری ٹیم ہوگی،ہم آپس میں گپ شپ لگائیں گے،گیمز کھیل کر اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے وقت گزاریں گے،خالی اسٹیڈیمز میں میچز کے بارے میں بابر اعظم نے کہا کہ تماشائیوں کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔

ہمیں یو اے ای میں 9 سال خالی اسٹیڈیم یا بہت کم تماشائیوں کی موجودگی میں کھیلنے کا تلخ تجربہ ہوچکا، پاکستان میں میچ کھیلے تو نمایاں فرق محسوس ہوا، اب ایک بار پھر ہمیں خود کو نئے ماحول کا عادی بنانا ہوگا،ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیملیز اسٹیڈیمز میں نہیں آئیں تو بچوں کو اپنے ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب نہیں ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے ہوم گراؤنڈز پر میچز میں خوب رونقیں لگیں، کرکٹرز کو بھی بھرپور حوصلہ افزائی حاصل ہوئی،تماشائیوں سے بھرے اسٹیڈیمز میں کھیلنے کی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ موجود نہیں، اب اس ماحول کیلیے انتظار کرنا ہوگا۔ بابر اعظم نے کہا کہ کسی بھی آئی سی سی ایونٹ میں شرکت و قیادت بڑے اعزاز کی بات اور اچھی پرفارمنس پر بھرپور پذیرائی بھی حاصل ہوتی ہے۔

میری خواہش اور دعا ہے کہ رواں سال اکتوبر، نومبر میں آسٹریلیا میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہو اور مجھے بطور کپتان اور کھلاڑی ایکشن میں آنے کا موقع ملے۔بابر اعظم نے کہا کہ تینوں فارمیٹ میں قومی ٹیم کی رینکنگ میں بہتری لانا ہدف ہے، کوشش ہے کہ اچھے کرکٹرز کی مدد سے بہتر کمبی نیشن بنائیں، ایک یونٹ بن کر کھیلتے ہوئے پاکستان کو میچز جتوائیں،اس کیلیے میں پلاننگ کررہا ہوں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں تک محدود کرکٹرز سے بھی فون پر رابطہ رہتا ہے، سب اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے ساتھ آئندہ سیریز اور مستقبل کے لیے پلاننگ بھی کرتے ہیں،ہم ایک دوسرے کو اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہیں، میں خود بھی اپنے میچز کی ویڈیوز دیکھ کر خامیاں نوٹ کرتے ہوئے انھیں درست کرنے کیلیے ہوم ورک کرتا ہوں،ٹیسٹ، ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹ میں موجودہ رینکنگ قابل قبول نہیں، ہم بہتری لانے کی بھرپور کوشش کریں گے، عوام بہتر نتائج کا انتظار کرنے کے ساتھ ہمارے لیے دعا بھی کریں۔

عید کے روایتی رنگ ماند پڑجانے پر بابراعظم بھی افسردہ

کورونا وائرس کی وجہ سے عید کے روایتی رنگ ماند پڑ جانے پر بابراعظم بھی افسردہ ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم 2ماہ سے گھروں تک محدود ہیں، عید پر عزیزوں رشتہ داروں کا آنا جانا اور ملنا جلنا ہوتا ہے، اکٹھے بیٹھنے اور کھانے پینے کا موقع ملتا ہے، عید تو منائیں گے لیکن اس بار ان چیزوں کی بہت کمی محسوس ہوگی۔

جب اللہ کی مرضی ہوئی میری شادی بھی ہو جائے گی
بابر اعظم کا کہنا ہے کہ جب اللہ کی مرضی ہوئی میری شادی بھی ہو جائے گی، ان سے سوال کیا گیا کہ آپ بطور مستند بیٹسمین اپنی پہچان بنا چکے، قومی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بھی بن گئے،کیا والدہ نہیں کہتیں کہ بیٹا اب بہو لے آؤ،جواب میں بابر اعظم نے کہا کہ گھر والے تو کہتے ہی ہیں، بہرحال جب اللہ کی مرضی ہوئی شادی بھی ہوجائے گی۔

زندگی میں کبھی میدانوں سے اتنی زیادہ دوری نہیں رہی

بابر اعظم کا کہنا ہے کہ زندگی میں کبھی کرکٹ میدانوں سے اتنی زیادہ دوری نہیں رہی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرکٹرز کو گھروں تک محدود رہنا پڑ رہا ہے، میں اپنی فٹنس پر کام کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں، آئندہ چند ماہ میں کئی اہم ایونٹس ہیں، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی ہوگا، کرکٹرز کو تیاری کا موقع نہیں مل رہا، پرستار بھی میچز کی کمی شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں بے پناہ مصروفیات ہوتی تھیں، اب فارغ وقت فیملی کے ساتھ گزارتا ہوں، موویز اور اپنے میچز کی ویڈیوز دیکھتا ہوں، میں کبھی اتنے زیادہ دنوں تک مسلسل اپنے گھر پر نہیں رہا، والدہ بہت خوش ہیں، والدین کی تو خواہش ہوتی ہے کہ اولاد ہر چیز کھائے، کبھی انکار کروں تو ڈانٹ بھی پڑ جاتی ہے کہ یہ کھالو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اپنی ڈائٹ کا بہت خیال رکھتا ہوں۔

مزاج میں سنجیدگی قدرتی ہے،کھیل کے بارے میں زیادہ سوچتا ہوں
بابر اعظم کا کہنا ہے کہ میرے مزاج میں سنجیدگی قدرتی ہے،میں کھیل کے بارے میں زیادہ سوچنے کی وجہ سے خاموش نظر آتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں دوستوں سے گپ شپ بھی لگاتا ہوں لیکن مزاج میں قدرتی طور پر سنجیدگی رہی ہے، یہ شاید اس لے بھی رہتی ہے کہ میں زیادہ تر کرکٹ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں، میدان میں ایک ہی وقت میں بہت ساری چیزیں چل رہی ہوتی ہیں، بیٹنگ کرتے ہوئے سوچ رہا ہوتا ہوں کہ اننگز کو کیسے آگے بڑھانا ہے، میچ میں کس حکمت عملی سے آگے بڑھنا ہے، فتح کا راستہ کس طرح بنانا ہے، یہ سب میرے مزاج کا حصہ ہے تاہم اب اس کو تھوڑا تبدیل کرنے کی کوشش بھی کررہا ہوں۔
بابر، عمران سے کپتانی کے گْر سیکھنے کے خواہاں

بابر اعظم نے عمران خان سے کپتانی کے گْر سیکھنے کی خواہش ظاہر کردی،قومی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے قائدکا کہنا ہے کہ ورلڈکپ 1992کی فتح کے تجربات سے بڑی رہنمائی حاصل ہوگی، ویرات کوہلی سے صرف ایک بار گذشتہ ورلڈکپ میں ملاقات ہوئی،میں تینوں فارمیٹ کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے پلاننگ کرتا ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلوں۔ تفصیلات کے مطابق بابر اعظم سے سوال کیا گیا کہ آپ عمران خان کی طرح جارحانہ کپتان بننا چاہتے ہیں، کبھی ان سے ملاقات بھی ہوئی، اس پر انھوں نے کہا کہ میں ان سے ملا ضرور ہوں لیکن کرکٹ پر بات چیت نہیں ہو سکی، میں چاہتا ہوں کہ سابق کپتان و وزیراعظم سے ملاقات ہو اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے،میں عمران خان سے ورلڈ کپ 1992 کی فتح کے سفر کے بارے میں جاننا چاہوں گا۔

ان کے تجربات میرے لیے بہت اہم اور رہنمائی کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ بابر اعظم نے کہا کہ میرا ویرات کوہلی سے موازنہ درست نہیں،میرا بیٹنگ کا اپنا انداز ہے، بھارتی کپتان سے صرف ایک بار گذشتہ ورلڈکپ میں ملاقات ہوئی تھی، ان سے کرکٹ کے بارے میں مفید معلومات حاصل کیں۔ پسندیدہ فارمیٹ کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سب سے لطف اندوز ہوتا ہوں، تینوں کے تقاضے الگ اور ان کے لیے پلاننگ بھی مختلف ہوتی ہے، بہرحال میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر فارمیٹ میں ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلوں، میدان میں اترنے کے بعد اسی پر توجہ مرکوز رکھتا ہوں۔

بال پکر سے ٹیم کی قیادت تک کا سفر آسان نہیں تھا، کئی قربانیاں دیں

بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بال پکر سے قومی ٹیم کی قیادت تک کا سفر آسان نہیں تھا،اس دوران کئی قربانیاں دیں۔ انھوں نے کہا کہ 2007میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میں بال پکر کی حیثیت سے قذافی اسٹیڈیم میں اتر تا تو سوچتا تھا کہ کیا کبھی مجھے بھی یہاں ایکشن میں آنے کا موقع ملے گا۔

میں نے اپنے شوق کو محنت سے پروان چڑھایا، یہ سفر آسان نہیں تھا،اس دوران کئی قربانیاں دیں اور رکاوٹیں عبور کیں، کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، میں نے بہت کچھ دیکھا اور سیکھا، رکاوٹوں کے باوجود صرف ایک چیز پر توجہ مرکوز رکھی کہ کلب ہو یا فرسٹ کلاس میچ100 فیصد کارکردگی دکھانا ضروری ہے، آپ پرفارم کرتے رہیں تو نظروں میں آہی جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی کرکٹ کا جنون تھا، ہفتے کو گلی میں ٹیپ بال کرکٹ سے لے کر کلب تک شوق پروان چڑھایا،بعد ازاں کزن کامران اکمل کو قومی ٹیم کی جانب سے کھیلتا دیکھ کر عزم مزید جوان ہوا۔

والدہ کے جمع کردہ 15 سو روپے سے خریدا ہوا بیٹ 4 سال استعمال کیا

والدہ کے جمع کردہ 15 سو روپے سے خریدا جانے والا بیٹ بابر اعظم نے 4 سال تک استعمال کیا، قومی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ مجھے بیٹ کی سخت ضرورت تھی تو والدہ نے پیسے جمع کرکے دیے،جب تک گھر والوں کی بھرپور سپورٹ اور رہنمائی حاصل نہ ہو زندگی میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی،اہل خانہ نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا،ان کی وجہ سے ہی آج اس مقام پر ہوں۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے