شفقنا اردو: دنیا بھر میں کرونا وائرس دوسری جنگ عظیم کے بعد مہلک ثابت ہوا ہے، اب تک سوا 3 لاکھ سے زائد اموات ہوچکی ہیں، جبکہ 50 لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں، سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں امریکہ، چین، اٹلی، سپین، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور ایران شامل ہیں۔ اس وقت برازیل اور روس وبا کا مرکز بنتے جارہے ہیں۔

عالمی وبا کی وجہ سے جہاں بیشتر ممالک میں لاک ڈاﺅن ہے وہیں اب سورج بھی اپنے لاک ڈاﺅن میں جانے والا ہے، جس کی وجہ سے سائنس دانوں نے انتہائی تشویشناک وارننگ جاری کر دی ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج “سولر مینیمم” (Solar minimum) پیریڈ میں داخل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اس کی تحرک میں کمی واقع ہوئی ہے اور آئندہ دنوں میں اس کی تپش مزید کم ہونے جارہی ہے جس سے دنیا کو منجمد موسم، زلزلوں اور قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسپیس ویدر کے ماہر فلکیات ڈاکٹر ٹونی فلپس کا کہنا ہے کہ 100 دن ہو گئے ہیں کہ سورج پر “سن پاٹس” (Sunpots) دکھائی نہیں دیے۔ سن پاٹس سورج کی سطح پر زمین کے سائز کے مقناطیسی فیلڈز ہیں جہاں سے انتہائی شدید مقناطیسی لہریں اٹھتی ہیں۔ ان پاٹس کے نظر نہ آنے کا مطلب ہے کہ سورج کی تپش اور روشنی میں کمی واقع ہو گی، جو گذشتہ 100 دن سے ریکارڈ کی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں اس صورتحال میں اضافہ ہو گا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سن پاٹس نہ ہو نے کی وجہ سے زمین پر درجہ حرارت میں بہت کمی واقع ہو گی۔ دوسری طرف سورج کے مقناطیسی فیلڈز کمزور ہونے سے زمین پر زلزلے آ سکتے ہیں اور یہ دونوں عوامل زمین پر قحط کو جنم دے سکتے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے