شفقنا اردو: افریقہ میں اسلام کا ظہور قریبا ساتویں‌صدی عیسوی میں‌ہوا اور کہا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا ء کے بعد یہ پہلا براعظم تھا جس میں‌اسلام کا ظہور ہوا۔ آج اس خطے کی تقریبا ایک تہائی آبادی مسلمان ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 2002 تک افریقہ کی چالیس فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ شمالی افریقہ سے لے کر جنوبی افریقہ تک اور سواحلی ساحل سے مغربی افریقہ تک مسلمان اس خطے میں‌پھیلے ہوئے ہیں۔

ظہور اسلام سے لے کر اب تک افریقی مسلمانوں اور ان کی نسل نو نے اس خطے میں اسلام کی اشاعت کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ذیل میں‌چند مشہور مسلمانوں کا ذکر ہے جنہوں نے اسلامی تاریخ میں‌ بہترین کردار ادا کیا۔

حضرت سمییہ بنت خباط

حضرت سمییہ بنت خباط اسلام قبول کرنے والی اولین خواتین میں سے تھیں۔ حضرت سمییہ یاسربن عامر کی اہلیہ اور عمار ابن یاسر کی والدہ ماجدہ تھیں۔ وہ ایک غلام تھیں تاہم عمارکی پیدائش کے بعد وہ آزاد کر دی گئیں۔ بہت ساری روایات کے مطابق وہ اسلام میں‌پہلی شہید خاتون ہیں۔ ابوجہل کے ظلم ستم اور تشدد سے ان کا اور ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ ان کی شہادت 615 عیسوی میں‌ہوئی۔

 بلال ابن رباح 
بلال ابن رباح المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی اور قریبی ساتھی تھے۔ اسلام قبول کرے سے قبل وہ ایک حبشی غلام تھے۔ حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کو اسلام کا اولین موذن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ روایات سے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال کو  سرکاری خزانے کا  پہلا خزانچی بھی مقرر کیا ۔ مزید برآں انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ بہت ساری مہمات اور جنگوں میں بھی حصہ لیا۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں‌نے حضرت علی علیہ السلام کے دعویٰ خلافت کی طرفداری کی ۔ آپ کا انتقال 640 عیسوی میں‌شام میں‌ہوا اور دمشق آپ کا مدفن ہے۔

محمد بن علی ال جواد 

محمد بن علی ال جواد علیہ السلام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پوتے تھے اور اثنا عشری کے نویں امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی والدہ کا تعلق شمالی افریقہ سے تھا اور وہ اپنے وقت کی اہل علم خاتون گردانی جاتی تھیں۔
محمد بن علی ال جواد علیہ السلام کو اہل تشیع اپنا امام مانتے ہیں اور اہل سنت انہیں انتہائی قابل تعظیم عالم اسلام مانتے ہیں۔ وہ آٹھ سال کی عمر میں‌امامت کے منصب پر فائز ہوئے اور 25 سال کی عمر میں‌وصال فرما گئے۔ 845 عیسوی میں عباسی خلیفہ معتصم نے انہیں زہر دیا جس سے وہ وفات پا گئے۔

 ام ایمن

ان کا لقب برکہ تھا۔ وہ حبشہ کی رہنے والی تھیں اور غلام تھیں۔ وہ ان چند لوگوں‌ میں سے تھیں‌جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیدائش سے ان کے وصال تک جانتی تھیں۔ انہوں‌نے احد کی جنگ میں بھی شرکت کی اور جنگ میں‌زخمی ہونے والوں کی دیکھ بھال اورمرہم  پٹی کی۔ ان کی شادی حضرت زید بن حارث سے ہوئی جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے۔ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد لوگوں میں‌سے تھیں۔ آپ کا انتقال 644 میں‌ہوا اور آپ کا مدفن جنت البقیع مدینہ میں‌ہے۔

 حضرت عمار بن یاسر

حضرت عمار بن یاسر حضرت سمعیہ اور حضرت یاسر کے بیٹے تھے۔ انہوں‌نے 616یعسوی میں حبشہ سے ہجرت کی اور اسلام قبول کرنے والے ابتدائی لوگوں‌میں سے تھے۔ آپ کا شمار ہمت اور انصاف و سچائی کے علم برداروں میں ہوتا ہے۔ آپ نے حضرت علی ابن طالب علیہ السلام کے جانثار ساتھی کے طور جنگ سفین میں‌معاویہ ابن سفیان کے خلاف لڑتے ہوئے 657 عیسوی میں شام میں‌‌جام شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار بھی شام میں‌ہے۔ سلفی جہادی جنگجووں نے مارچ 2013 میں‌آپ کے مزار کی بے حرمتی کی۔

 منسا موسیٰ

آپ کو موسیٰ کیتا کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ آپ سلطنت مالی کے دسویں امیر تھے۔ 13ویں صدی عیسوی کے آغاز پر آپ نے مالی پر 25 سال تک حکمرانی کی۔ آپ کو سب سے زیادہ شہرت سفرِ حج کی وجہ سے ہوئی حج کے اس سفر میں موسیٰ کے ہمراہ 80 ہزار فوجی اور 12 ہزار غلام تھے جنہوں نے چار چار پاونڈ سونا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ 100 اونٹوں پر بھی سونا لدا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ منساموسیٰ کے گزر کی وجہ سے 12 سال تک مصر کی معیشت زوال پذیر رہی۔

چودہویں صدی عیسوی میں واپسی کے سفر پر وہ اپنے ساتھ فن تعمیر کے ماہر اور عرب سکالرز لائے ۔ معروف ڈیجنگوریبر مسجد تعمیر کروائی جو پانچ صدیوں تک سلامت رہی۔ اس کی سلطنت کے اختتام تک سنکورے یونیورسٹی کی لائبریری افریقہ کی بہترین لائبریری تھی جس میں‌ایک اندازے کے مطابق چالیس سے ستر ہزار کے قریب کتب موجود تھیں اور اس وقت صرف سکندریہ کی لائبریری اس کے مقابلے میں بہتر تھی۔
منسا موسیٰ کی وفات 1337 عیسوی میں‌ہوئی۔

 ابن بطوطہ

ابن بطوطہ مراکش کے شہر طنجہ میں‌پیدا ہونے والا ایک بربرمسلم تھے۔ وہ ایک عظیم مفکر اور سیاح تھے . 30 سال کے عرصہ میں‌بہت سارے اسلامی ممالک کا سفر کیا۔ جون 1325 میں صرف 21 سال کی عمر میں وہ اپنے آبائی علاقے سے عاذم حج ہوئے اور یہی اان کا پہلا سفر تھا۔ وہ سفر جو 16 ماہ میں طے ہونے والا تھا اس نے 24 سال میں طے کیا اور دنیا کے ایک وسیع حصے کو دریافت کرنے بعد وہ مراکش لوٹے اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے اپنے سفر نامے عجائب الاسفارنی غرائب الدیار کی تصنیف کی۔ انہوں نے کسی بھی دوسرے سیاح کی نسبت سب سے زیادہ سفر کیا جو تقریبا 117000 کلومیٹر بنتا ہے۔ ابن بطوطہ نے 64 سال کی عمر میں‌وفات پائی اور ان کا مدفن مراکش مارنڈ میں‌ہے۔

 احمد بابا

ٹمبکٹومیں پیدا ہونے والا ایک عظیم مسلم سکالر تھا جن کا خاندان سونگھائی دور حکومت سے تعلق رکھتا تھا۔ احمد بابا ایک نامور قاضی ، گرامر کے ماہر ، ماہر ادیان ، تاریخ دان اور سیاسی مصنف تھے۔ 1591 میں احمد المنصور کے ہاتھوں ٹمبکٹو کی فتح کے بعد بہت سارے دیگرمفکرین کی طرح‌انہیں بھی   1593  میں قید میں ڈال دیا گیا۔

1603  المنصور کی وفات کی بعد وہ مکہ کو عاذم حج ہوئے اور انہوں نے مالکی فقہ کے ماہر کے طور پر اپنا کام جاری رکھا۔ ان کی وفات 1627 میں ہوئی۔

عثمان دان فودیو:

وہ شیخ عثمان بن فودی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ عثمان دان فودیو ایک مذہبی سکالر، ماہر قانون ، سنیاسی ، مصلح اور انقلابی تھے۔ انہوں نے 1804 میں سکوٹو خلافت کی بنیاد رکھی جو موجودہ دور میں‌شمالی نائجیریا کا حصہ ہے۔ وہ ںہ صرف صوفی سلسلہ قادریہ کے پیروکار تھے بلکہ مالکی فقہ کے اصول فقہ کے بھی ماہر تھی۔ انہوں نے مذہبی اور سیاسی اصلاح پر بہت زوردیا۔ انہوں نے سانئس، مذہب، فلسفہ اور صوفی ازم پر فولانی اور عربی زبانوں میں متعدد کتابیں لکھیں۔ وہ مذہبی احیا کی تحریک کے سرخیل تھے جس کا مقصد اس وقت کی موجودہ صورت حال کو درست کرنا تھا۔ ان کا انتقال 1817 میں ہوا۔

 

نانا أسماء:

نانا أسماء عثمان فودی کی بیٹی تھی ۔ وہ ایک شاعرہ ، تاریخ دان، ماہر تعلیم اور مذہبی سکالر تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کی وفات کے پچاس برس بعد جنوبی افریقہ کی سیاسی، سماجی اورعقلی ترویج میں‌بنیادی کردار ادا کیا۔

وہ تعلیم کو ذریعہ نجات سمجھتی تھی اور انہوں نے اپنی ساری زندگی مسلمانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں‌صرف کی۔

1 reply

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے