شفقنا اردو: نیپال کی پارلیمنٹ نے بھارت سے کشیدگی کے بعد نئے نقشے کی منظوری دے دی ہے، جس میں ان علاقوں کو بھی ملک کا حصہ دکھایا گیا ہے جن پر بھارت اور نیپال کے درمیان شدید اختلافات اور تنازع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیپال کی جانب سے یہ عمل بھارت کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری سرحدی تنازعوں پر نیپال کے موقف میں سختی کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت کی جانب سے نیپال کے اس نئے نقشے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘یکطرفہ عمل’ قرار دیا گیا ہے جس کے کوئی تاریخی شواہد یا ثبوت نہیں ہیں۔

نیپال کی جانب سے یہ نیا نقشہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب بھارت نے گذشتہ ماہ شمالی ریاست اتر اکھنڈ جانے والی 80 کلومیٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا ہے، جو ایک ایسے علاقے سے گزرتی ہے جسے نیپال اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

نیپال کے ایوان زیریں کے بعد ملک کی قومی اسمبلی اور صدر کی منظوری سے یہ نقشہ نیپال کے آئین کا حصہ بن جائے گا۔

حکمران جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم پراچندا کا کہنا ہے کہ ‘نیپال معاملے کو پیچیدہ نہیں بنانا چاہتا اور ہم اس مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں۔’

دوسری جانب بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق بھارت اور نیپال کے بارڈر کی لمبائی 1751 کلومیٹر ہے۔

یاد رہے کہ نیپال کے علاوہ بھارت کے چین سے بھی سرحدی علاقوں کے حوالے سے تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحد کی لمبائی 3488 کلو میٹر ہے۔ چین 90 ہزار مربع کلومیٹر پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

حالیہ دنوں میں بھارت اور چین کے درمیان لداخ کے علاقے پر حق ملکیت کے حوالے سے اختلاف کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور دونوں ملکوں کے فوجی حکام کے درمیان اس حوالے سے مذاکرات بھی ہوئے۔

چین اور نیپال کے علاوہ پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کئی سرحدی علاقوں کے حوالے سے اختلاف رکھتا ہے جن میں کشمیر، سرکریک اور سیاچن کے علاقے سرفہرست ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے