قرآن کریم میں‌ارشاد ہے کہ ” اس کی قدرت کی نشانیوں‌میں‌سے آسمانوں‌اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں‌اور رنگوں‌کا اختلاف بھی ہے ۔ دانش مندوں‌کے لیے اس میں‌یقیناً بڑی نشانیاں ہیں”( القرآن30:22)

امریکی پولیس کے ہاتھوں‌جارج فلوئیڈ کے بہیمانہ قتل سے جنم لینے والے دنیا بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں نے ہمارے اندر ایک گو نا گوں تنفر اور بیزاری کے احساس کو اجاگر کیا ہے۔ تنفر اس بات سے کہ ایک امریکی پولیس آفیسر کے ہاتھوں ایک آدمی کا قتل جس کے اور جس کے دیگرہم وطنوں‌کے تحفظ کا ذمہ اسی پولیس آفیسر کے ہاتھوں میں دیا گیا تھا، تنفر اس بات سے اس قتل کے بعد جس ڈھٹائی اور بے شرمی سے عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ یہ لوگ نا قابل گرفت اور ناقابل سزا ہیں، تنفر اس بات سے کہ جس دن جارج فلوئیڈ کو قتل کیا گیا اسی دن ایمی کوپر نے اسی نرگسیت اور مکروہ نسل پرستی کا مظاہرہ کیا جو جارج فلوئیڈ جیسے واقعات کی بنیاد بنتے ہیں۔

سیاہ فاموں‌کے خلاف صدیوں سے جاری بہیمانہ ظلم و ستم کو امریکی سفید فاموں نے نہ صرف باقاعدہ طور پر اپنایا ہے بلکہ اس کو اپنے فائدے کے لیے وقتا فوقتا استعمال بھی کیا ہے۔
تاہم اس تکلیف دہ عمل میں امید کی کرن بھی موجود ہے کہ وہ تبدیلی جلد آنے والی جو بظاہر نا ممکن اور نادیدہ دکھائی دیتی ہے۔ امام حسن عسکری (علیہ السلام)کا قول ہے کہ ” اللہ کی قسم کوئی بھی ایسی آفت نہیں جس کے ساتھ ساتھ اللہ نے کوئی بھلائی اور بہتری نہ رکھی ہو”

دریں اثنا اس ذلت اور امید کے مابین بحیثیت معاشرہ ہمارے لیے ایک شرم کا احساس بھی موجود ہے کیونکہ صدیوں سے جاری اس استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بھی ہمیں اس آتھ منٹ کی ویڈیو کی ضرورت پڑی ورنہ شاید یہ جبر و استبداد ہمیشہ سے ایسے ہی نظر انداز اور بے معنی رہتا۔ اس واقعے نے ایک عرصے سے امتیاز اور دوسروں کی تکلیف تلے دبی ہماری بے حسی کو بھی جگایا ہے جو شاید کبھی بیدار نہ ہوپاتی۔

بحیثیت مسلمان انصاف کو قائم رکھنا ہمارے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ سورہ الحدید میں‌اللہ تعالی فرماتا ہے ” ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ہمراہ ہم نے کتاب اور ترازوئے (عدل) بھی بھیجی تاکہ لوگ انصاف کو قائم رکھیں”۔

ہمارے عقائد میں‌انصاف الہی بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ ہم نہ صرف خود اس کو سیکھتے ہیں بلکہ اپنے بچوں‌کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہیں۔ لیکن یہ محض ایک عقیدہ یا تصورنہیں ہے بلکہ سماجی انصاف عملی طور پر مستعمل چیز ہے۔ ہم یا تو بے انصافی اور ظلم کے خلاف متحرک جدوجہد کرتے ہیں یا پھر اپنی بے حسی سے اس کا حصہ اور حامی بن جاتے ہیں۔

بلاشبہ یہ تحریر سیاہ فام زندگیوں کی اہمیت او ان کی بقا کی جنگ کی ہے۔ اس تحریک نے سیاہ فام مرد اور عورتوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنی آواز ان تمام سامعین تک پہنچا سکتے ہیں جو روز مرہ زندگی میں اس ظلم کے خلاف جدوجہد کا حصہ ہیں۔ بلاشبہ ہم سب کو یکجا ہو کر اس پیغام کو تقویت دینی چاہیے کہ ” سیاہ فارم افارد کی زندگی بھی معنی رکھتی ہے۔ تاہم اس عمل اور اس جنگ کو ہمیں‌خاندانوں اور برادریوں سے قبل افراد سے شروع کرنا ہو گا۔

یہ لمحہ تجزیہ نفس کا لمحہ ہے کہ کیا ہم ان تمام لوگوں کے لیے جو ہم سے مختلف ہیں وہی عزت و احترام اور رواداری رکھتے ہیں جو ہم اپنے جیسوں‌کے لیے رکھتے ہیں؟ کیا ہم تمام رنگوں اور لسانوں کو برابری کی سطح پر خوش آمدید کہتے ہیں؟‌کیا ہم دیگر مذاہب کو اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اہمیت دیتے ہیں؟

سورہ روم میں‌ارشاد ربانی ہے” اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں”

پس زمین و آسمان کی تخلیق سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ نے ہر چیز میں تنوع پیدا کیا ہے ۔ زمین و آسمان کی تخلیق کو اللہ کے وجود کا ثبوت اور اس کی نشانیوں میں سے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اس پر غور فکر کرے اور اپنے خالق کی طرف رجوع کرے۔

ان آیات سے نہ صرف ہمیں اپنے خالق کی تخلیقات کی اہمیت اور ان کی توصیف کا درس ملتا ہے بلکہ ان سے ہمیں‌ اللہ کا قرب حاصل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم زمین و آسمان کی تخلیق کے عظیم مظہر پر بھی غورو فکر کریں۔ کیا یہ آیات اللہ کی عظمت و بزرگی اور ہمارے ذہن کو نسل انسانی میں‌موجود ایک وسیع تنوع کے ثبوت کے لیے نہیں‌جنجھوڑتیں ؟

یہ بات محض برداشت کی نہیں بلکہ امریکی معلم جین ایلیٹ کے مطابق” اسلام ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم تمام رنگوں کو یکساں نہ دیکھیں‌بلکہ اسلام ہمیں دکھاتاہے کہ ہم جا بجا بکھرے ان اختلافات میں کائنات کا حسن تلاشیں۔ جہاں تک مساوات کا تعلق ہے تو وہ انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔

ہمیں راسخ پن کے اس مقام کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے جس میں‌ ہم بغیر کسی تفریق کے صرف اور صرف سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہمیں‌ ظالم اور مظلوم میں‌فرق جانچنا چاہیے اور مکمل تندہی کے ساتھ سچ کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مظلوموں‌کے ساتھ دینے پر بہت زور دیا اور فرمایا” جو کوئی بھی حق کے حصول میں‌مظلوموں‌کا ساتھ دے اللہ پاک روز قیامت اس کو پل صراط پر استحقام عطا فرمائیں گے”

اسلام نے واضح طور پر اچھائی کا ساتھ دینے اور برائی کا ہاتھ روکنے کا حکم فرمایا ہے اور اس کے لیے مختلف مدارج بیان کیے ہیں۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ ” جو شخص برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اسکی طاقت نہ ہوتو دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘

پس ہمیں دیکھناہے کہ جب بات ناانصافی اور نسلی تعصب کی آ جائے تو وہ کون سے عملی اقدامات ہیں جو اس امر کو یقینی بنائیں کے ہم امر بالمعروف کے لیے کھڑے ہیں‌۔

1۔ لوگوں پر جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کے لیے بیداری

ظلم اور نا انصافی کے خلاف صرف اس بات کو وجہ بنا کر کہ ہم کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکتے ہمیں اپنی ازلی بے خبری اور بے حسی کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔ یہ کوئی احسن قدم نہیں کہ ہم لوگوں‌ یا گروہوں کی تکالیف اور مشکلات سے متعلق صرف خبریں دیکھ لیں، تجزیات پڑھ لیں، لوگوں کی سوانح عمریوں‌ یا تاریخی واقعات کا مطالعہ کرلیں اور اس پر دکھ اور تاسف کا اظہار کریں۔ ان حقائق کو جھٹلانا یا بے خبری میں رہنا انتہائی آسان کام ہے۔ تاہم اسلام ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا ” چاہے کم ہی کیوں‌نہ ہو ہمیں‌ اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔

2۔ خود شناسی کے لیے کچھ وقت تنہا گزاریں

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر موجود تعصبات اور غلط فہمیوں پر غوروفکر کرے۔ ان خامیوں کی بنیاد پر غور و فکر ہمیں اپنے اپنے رویوں ، الفاظ اور طور طریقوں کو اپنے عقائد اور اصولوں کے مطابق سمجھنے میں‌مدد دے گی۔بعض‌اوقات ہم اپنے اندر ایسے غیر صحت مند اور غیر منصفانہ رویے پال لیتے ہیں‌جو ہماری شخصیت کو مکمل طور پر تفرقہ انگیز اور تباہ کن بنا دیتے ہیں۔ ہمیں انکار کی بجائے اپنے عقائد کو درست طور پر جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

3۔ خود احتسابی کے لیے وقت نکالیں

دن کے آغاز یا اختتام پر کچھ وقت اپنے لیے نکالیں یہ آپ کو اپنے رویوں‌اور برتاوکے بارے میں‌سمجھنے میں‌بہت مددگار ہوگا۔ اسلام میں‌بھی اس عمل کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہمیں‌اپنی کمزوریوں اور طاقت کا پتا چل جائے تو ہم بہت سارے ایسے مسائل کے حل کے لیے اپنی مہارتوں‌کو مثبت طور پر استعمال کرنے کے قابل بن سکتے ہیں۔

4۔ تبدیلی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے

اپنے دوستوں‌اور خاندان میں‌ تعصبات پر مبنی لطائف اوردقیانوسی تصورات کو چیلنج کریں۔ اپنے بچوں‌اور اہلیہ سے اسلامی تعلیمات اور تنوع کے بارے میں‌صحت مندانہ گفتگو کریں‌۔ یہ عمل ان سب کی سوچوں‌اور رویوں میں جن پر ہم اثر انداز ہو سکتے ہیں ایک بڑی اور مستقل تبدیلی کا سبب بنے گا۔

شفقنا اردو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے