جب مدر ٹریسا سے سوال کیا گیا کہ ہمیں دنیا میں امن پھیلانے کے لیے کیا کرنا چاہیےتو انہوں نے جواب دیا کہ اپنے گھر والوں کو پہلے سے زیادہ محبت دینا شروع کردو۔ محبت کا آغاز اپنے گھر سے ہی ہوتا ہے۔

یہ ایک جامع پیغام ہے تاہم اس بات کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم اس پیغام کو مدنظر رکھ کر پوری دنیا میں‌امن کیسے لاتے ہیں۔ اس پیغام نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ میں نے سوچا کہ اس موضوع پر لکھوں اور اس کو آگے پھیلاوں۔

اس مضمون کے اختتام پر آپکو اندازہ ہوگا کہ میں نے اس موضوع کے لیے ایک غیر عمومی عنوان کیوں چنا۔
روزمرہ کے دنیاوی کاموں میں ہم مصروف ہو کرہم اپنے والدین کی محبت کا وہ لطف نہیں اٹھا پاتے جو اٹھانا چاہیے۔ان کے ساتھ گپ شپ کرنا، خوبصورت لمحات بتانا اور ان کے لیے چھوٹے چھوٹے کام کرنا ہمیں درحقیقت غیر ضروری لگتا ہے۔ مختصراً یہ سب مکمل طور پر ہمارے اپنے ہاتھ میں‌ہے کہ ہم اپنے والدین کے لیے کیسے وقت نکالتے ہیں۔ ہمارے والدین ہمیں احساس دلائے بغیر خود کو ہمارے مطابق ہر قسم کے حالات کے لیے ڈھال لیتے ہیں۔

ہم یہاں چند تجاویز کا ذکر کریں‌گے جو ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے والدین کے لیے کر سکتے ہیں۔

1۔ اپنے والدین کے لیے والدین کی طرح سے سوچیں

ان تمام چیزوں کو ذہن میں‌لائیں‌اور ان کو ایک صفحے پر لکھ لیں‌جو آپ کے والدین روزمرہ آپ کے لیے کرتے ہیں اور اب یہ تمام کام آپ کی باری ہے کہ آپ ان کی اسائش کے لیے یہ سب کریں۔

۔ روزانہ اپنے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجا کر والدین سے ملیں اس سے ان کا سارا دن اچھا گزرے گا۔
۔ اگر آپ کے والدین ملازمت پیشہ ہیں‌تو آپ زہن میں رکھیں کہ اگلی صبح کے لیے ان کے معمولات کیا ہیں جیسے کپڑے استری کرنا، جوتے پالش کرنا اور دیگر ضروری چیزیں جن کے کرنے سے ان پر کام کا بوجھ کم ہو جائے گا۔
۔ بچپن سے میں نے دیکھا ہے کہ میں‌جب بھی کہیں‌سفر یا گھر سے باہر خاص طور پر سکول کے لیے نکلوں تو میری والدہ ضرور مجھے دعائیہ کلمات سے رخصت کرتی تھیں ۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان کے لیے یہی کام کریں۔ یہ ان کو ایک گوناگوں تحفظ کا احساس دلائے گا۔

2۔ مشاہدہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں

والدین کا مشاہدہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ میں آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ والدین کیسے جان لیتے ہیں کہ ہمیں‌کیا، کب اور کتنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر ہماری ضروریات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے ہم بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی ضرورت کی کوئی ایک چیز بھی ہم سے نہ رہے۔

۔ اگر وہ ادویات لیتے ہیں تو وہ انہیں مقررہ وقت پر دیں۔
۔ ان کی مدد کے لیے ہمیشہ ایک قدم آگے رہیں مثال کے طور پر اگروہ بھول جائیں کہ انہوں نے اپنا چشمہ کہاں رکھا ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ پہلے ہی اس کو ایسی جگہ پر رکھ دیں جہاں وہ انہیں باآسانی مل جائے تاکہ انہیں تلاش کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
۔ ان کا خیال بالکل ایسے رکھیں‌جیسے انہوں نے آپ کی پرورش کے دوران آپ کا رکھا مثال کے طور پر روزانہ سونے سے قبل ان سے پوچھ لیں اگر انہیں‌مساج کی ضرورت ہے تو کر دیں۔

3۔ محبت سے اپنے والدین کے لیے کھانا بنائیں

روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنے والدین کے لیے بہت زیادہ محبت اور انس سے کچھ نہ کچھ پکانے کا اہتمام کریں۔ اس سے ان پر کچن کے کام کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔آپ اس ضمن میں درجہ ذیل کام کر سکتے ہیں۔
۔ جب کچن میں داخل ہوں تو تمام تر پریشان کن اور منفی سوچوں کو باہر چھوڑ آئیں۔
۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کے تیار کردہ کھانے کا ہر ذرہ آپ کے والدین کو خوش، پرسکون ، صحت مند اور اللہ سے جوڑنے کا ذریعہ بنے گا۔ اس کو اپنی عادت بنا لیں۔ آپ کی یہ عادت ایک خوشگوار کنبے کا سبب بن جائے گی۔
چاہے آپ اپنے والدین کے لیے چائے بنا رہے ہوں‌یا کافی یا ان کے کے پینے کے لیے ایک گلاس پانی لا رہے ہیں صرف اتنا کیجیے کہ اس میں اپنا خلوص اور محبت شامل کرلیجیے۔

4۔ روزانہ اپنےو الدین سے بات چیت کریں

آخری اور اہم ترین بات جو میں‌آپ کے ساتھ شئیر کررہا ہوں وہ یہ ہے کہ روزانہ اپنے والدین سے گفتگو کریں۔ یہ وہ واحد چیز ہے جس کی انکو خواہش ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ان سے پیار کریں اور ان کا خیال رکھیں۔ مدر ٹریسا نے ایک دفعہ کہا تھا” سب سے بڑی تکلیف تنہائی، ناپسندیدہ ہونا اور محبت کے قابل نہ ہونا ہے۔ ارادی یا غیر ارادی طور پر ہم نے خود اس طرح الگ تھلگ کر لیا ہے کہ ہم بمشکل اپنی زندگی میں‌موجود لوگوں‌کے لیے وقت نکال پاتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ آپ اپنے آرادم دہ ماحول سے نکلیں اور اپنے والدین کے لیے جینا شروع کریں۔

۔ کسی بھی قیمت پر ان سے بات چیت کرنا ترک نہ کریں اور ان کے ساتھ ہر ایک چیز شئیر کریں کیونکہ ہمارے والدین ہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہمارے معمولات اور زندگیوں سے دلچسپی ہے۔

۔ جب وہ کوئی چیز شئیر کر رہے ہوں تو بغور ان کی باتوں کو سنیں ان کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔
۔ ان کے ساتھ نظریں ملا کر بات کریں اس سے ان کو یہ لگے گا کہ آپ ان کی بات میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کو سن رہے ہیں۔
اس دوران اپنے سیل فون اور زندگی کے دیگر اہم معاملات کو ایک طرف رکھ دیں‌اور اپنے والدین کو اپنی توجہ اور انہماک سےحیران کر دیں۔

شفقنا اردو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے