شفقنا اردو: کسی بھی شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا انسان کے لیے ایک فکر انگیز اور عاجزانہ تجربہ ہوتا ہے اور ایسے بہت سارے تجربات مجھے زندگی میں ہوئے ہیں تاہم ایک ایسے نو عمر کی نماز جنازہ ادا کرنا جو آپ کے پاس ایک عرصہ زیر تعلیم رہا ہو یقینا ایک تکلیف دہ اور تا دیر ساتھ رہنے والا تجربہ ہوتا ہے۔

دو سال قبل مجھے اپنے سکول میں‌ یہ افسوسناک خبر ملی کہ ہماری ایک شاگرد جو مجھے اپنی چچا زاد بہنوں کی طرح عزیز تھی اس دنیا میں نہیں رہی ۔ سواد ( یہ نام اس کے والدین کی اجازت سے لکھا جا رہا ہے) ایک طویل عرصے سے عارضہ قلب میں‌مبتلا تھی لیکن اس کے باوجود ہم نے اسے ہمیشہ زندگی سے بھرپور، پر عزم اور ہمدرد پایا۔

میں ایک طویل عرصہ سواد کی کلاس کا سربراہ رہا اور ہمارے سکول میں‌اس کے خاندان کی شہرت نہایت اچھی اور ہر قسم کے حالات میں‌پرعزم رہنے والے خاندان کی سی تھی۔ اس کے والد انتہائی پرسکون اوردوستانہ مزاج رکھنے والے جبکہ اس کی والد انتہائی نرم گفتار اور مہربان خاتون تھیں‌جو اکثر سواد کے معلمین کے لیے گھر میں‌تیار شدہ پلکا پھلکا لبنانی ناشتہ بھجواتیں۔

یقینا یہ ایک نوجوان آدمی کی موت کا سوچنا مشکل کام ہے کیونکہ وہ زندگی کی ان رعنائیوں کا لطف نہ اٹھا سکے جسے آج کل کے نوجوان مفت کا عطا کردہ سمجھتے ہیں۔ سکول کا اگلا دن اور زیادہ مشکل تھا کیونکہ جب میں‌نے سواد کی دوستوں اور ہم جولیوں کو اس کی رحلت کا بتایا تو بہت سارے بچے زارو قطار رو دیے۔

تاہم میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کے ہر واقعے میں‌کوئی نہ کوئی سبق مخفی ہوتا ہے اور اس مضمون میں بھی سواد کی موت سے حاصل ہونے والے سبق کو بیان کیا گیا ہے۔

1۔ ” مجھے پکارو اور میں‌تمہاری دعاوں کو سنتاہوں : القرآن 40:60

میں‌نے یہ مخصوص ترجمہ اس لیے لکھا ہے ماہ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں’ میں‌اپنے رب سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ کیا مجھے اگلے سال بھی رمضان کی نعمتوں اور لیت القدر کی برکت سے لطف اٹھانے کا موقع نصیب ہوگا؟‌
سواد کی موت سے مجھے یہ بات سمجھ آئی ہے کہ موت بلا تعصب چیز ہے اس لیے اللہ سے دعا کرو کہ وہ آپ کو ہر چیز سے بار بار لطف اٹھانے کا موقع فراہم کرے بے شک کوئی چیز آپ کی عادت ہی کیوں نہ ہو،

2ِ۔ اور وہ لوگ جو خلوص دل سے اللہ کی طرف لوٹ آئے: القرآن 26:89
میں شاید ہی کبھی سواد کی موت اور اس والد کے چہرے پر طاری حزن کو بھول سکوں تاہم ان کے منہ سے سواد کی موت کے دن سے لے کر آج تک ” الحمدولللہ "کے سوا کوئی لفظ نہیں نکلا۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے بچے کواپنے ہاتھوں‌سے مٹی میں دفن کرنا اس دنیا کا سب سے تکلیف دہ عمل ہے تاہم وہ لوگ جو اللہ سے محبت اور اس پر کامل یقین رکھتے ہیں‌ اس تکلیف کو بھی با آسانی جھیل لیتے ہیںِ۔ اس لیے اللہ کی رضا کو اپنی رضا اور اس کی مرضی کو اپنی مرضی سمجھو۔

3۔ اور کیا تم بغیر کسی آزمائش کے جنت میں‌داخل ہو جاو گے؟ بے شک اللہ کی مدد عنقریب آنے والی ہے: القرآن 2:214

کبھی بھی آزمائشوں‌سے تھک کر ناامید نہیں‌ہونا چاہیے اور نہ ہی کوشش کرنا ترک کرنی چاہیے۔ میں نے کبھی بھی سواد کے لب پر حرف شکایت نہیں دیکھا۔ وہ اپنی بچی کھچی ہمت مجتمع کر کے اپنے سکینڈری سکول سرٹیفیکیٹ امتحان میں شریک ہوئی اور بہت اچھا امتحان دیا۔ وہ ایک اچھی دوست، بے مثل شاگرد اور ایک مثالی انسان تھی۔ اس کی صحت کبھی اس کے جذبات اور رویہ پر اثر انداز نہ ہو سکی۔

4۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:‌ بے شک اللہ پاک ان سے محبت رکھتا ہے جو اپنی جوانی اس کی عبادت اور اس کے حکم کے مطابق گزارتے ہیں

اپنی جوانی کو عقل مندی سے گزارو۔ سواد نے کبھی کسی سے سخت لہجے میں بات نہ کی، ہمیشہ نرم خو اور عاجزی اختیار کی۔ اپنے عادات و اطوار میں پاکیزگی کو اولین رکھا ۔ وہ مذہبی معاملات میں بھی بہت پختگی سے گفتگو کرتی۔ صحت کے معاملات کے باوجود مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ اس نے کس خوبصورتی سے اپنا لڑکپن گزارا۔

5۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے سخاوت کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا ہے

ہمدردی اور رحم دلی کے چھوٹے چھوٹے عمل مضبوط رشتوں‌کی بنیاد بنتے ہیں۔ میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میں‌زندگی میں سواد کے لیے بہت کچھ کیا سوائے اس کے کہ اساتذہ سے اس کے سکول کا کام لے کر اس کے گھر بھجوایا اور اس کے والدین جب بھی سکول آئے ان کے لیے ایک دوستانہ شخصیت ثابت ہوا تاہم اس سے میرے اور سواد کے والد کے درمیان گزشتہ دو برس سے ایک بھائی چارہ قائم ہو گیا اور انہوں نے مجھے میرے کئی مسائل کے حل میں‌مدد کی فیاضانہ پیش کش بھی کی۔

کبھی کبھار میں‌سواد کے والدین کی واٹس ایپ پروفائل تصویر اور سٹیٹس دیکھتا رہتا ہوں‌اور ان سے لگتاہے کہ ان کے دل میں ان کی بیٹی کی یاد ہر وقت تازہ ہے۔ سواد کے والد کی قریبی دوست اور ہمارے سکول کے ویلفیر آفیسر بھی اکثر مجھ سے اس سانحے کا ذکر افسوس سے کرتے ہیں۔ سواد کے دوست بھی یقینا اس کی قیمتی دوستی کو کبھی بھول نہ پائیں گے۔ ان تمام باتوں‌سے بڑھ کر میں امید کرتا ہوں‌کہ سواد نہ صرف میرے لیے بلکہ اپنے تمام واقف کاروں‌کے لیے ہمیشہ ایک مثال رہے گی۔

بلاشبہ اللہ نے ہی ہمیں‌پیدا کیا اور ہم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے:‌القرآن 2: 156
ازراہ مہربانی سواد کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ایک مرتبہ سورہ فاتحہ کی تلاوت ضرور کریں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے