اسلام تمام زمان و مکان کے لیے ایک مکمل مذہب ہے اور جب اس بات پر ہمارا یقین پختہ ہو جاتا ہے تو پھر ہم یہ سمجھ پاتے ہیں کہ اسلام میں‌ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کے تمام لوگوں‌کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

قرآن کریم میں‌ارشاد ہے:”‌یقینا ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”۔

اسلام بتاتا ہے کہ زندگی و موت کے فیصلے اللہ کے ہاتھ میں‌ہیں‌ اور کوئی ایسی بیماری نہیں‌جس کی شفا نہ ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ” حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو”

آج کرونا وائرس کی وبا نے دنیا کو ہلا کہ رکھ دیا ہے اور کئی طاقتور ممالک بھی اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں‌ ان حالات میں‌مایوس نہیں‌ہونا چاہیے اور اللہ سے اس کا رحم اور مدد طلب کرتے رہنا چاہیے۔

” اور جو شخص اللہ پر توکل کرے تو اللہ اسے کافی ہوگا”القرآن

کئی صدیاں‌قبل حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں‌کو نصیحت فرمائی تھی کہ وبا کے دوران زندگیوں کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے میل جول ختم کر دو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام صحت اور زندگی کےتحفظ کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ ان تمام باتوں سے بڑھ کر ایک مسلمان کو اللہ کی ذات پر یقین ہونا چاہیے اور اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ جو کچھ اللہ کا چاہے گا وہی ہوگا۔ دریں اثنا ہمیں وبائی امراض جیسے کہ کرونا کی صورت میں تمام تر حفاظتی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں۔

انس بن مالک فرماتے ہیں‌کہ ” ایک آدمی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمایا”‌اے اللہ کے نبی کیا مجھے اونٹ کو باندھ دینا چاہیے اور اللہ پر یقین رکھنا چاہیے یا میں‌اونٹ کوکھلا چھوڑ آوں اور اللہ پہ توکل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جواب دیا ” اونٹ کو باندھ دو اور اللہ پہ توکل کرو”

اس حدیث کی روشنی میں‌یہ بات واضح‌ہے کہ ہمیں‌اللہ کی ذات پر کامل یقین کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں۔ اس لیے موجودہ حالات کے مدنظر ہمیں ماسک کا استعمال کرنا چاہیےسماجی فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے اورمیل جول میں احتیاط برتنی چاہیے۔

کرونا وائرس کی وبا کو روکنے والی ایک اہم چیز مسلمانوں‌کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے اور وہ ذاتی صفائی ہے ۔ صحت کے ادارے اور ماہرین کرونا سے بچاو کے لیے ذاتی صفائی پر بار بار زور دے رہے ہیں اور خاص طور پر بیس سکینڈ ہاتھ دھونے پر۔

مسلمانوں کو اس وبا کو اللہ کی طرف سے اس کی ذات پر ایمان اور یقین کا امتحان سمجھنا چاہیے۔ قرآن کریم میں‌ارشاد ہے” اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے ( دشمنوں کے مقابلہ میں کمزور معیشت) سے ، اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا دو صبر کرنے والوں (ثابت قدم رہنے والوں) کو”

قرآن کریم میں‌اللہ پاک نے تقوی اور توکل پر بہت زیادہ زور دیا ہے کیونکہ بہت ساری چیزوں‌پر انسان کا اختیار نہیں۔ اس دنیا میں بہت ساری چیزیں اور مظاہر ایسے ہیں‌جو انسان کے اختیار سے باہر ہیں۔ ایسی صورتحال میں‌بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان اس بات پر اور زیادہ پختہ ہو جاتا ہے کہ موت، آفات، خوشی و دکھ اور عزت و ذلت اللہ کے حکم سے ہی ہے۔

حضور نبی مہربان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا” جب اللہ کسی کی بہتری چاہتا ہے تو اس کو مشکل میں‌ڈال دیتا ہے ” ( صحیح بخاری)

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں‌ وبا پھوٹ پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسلمانوں‌کو حکم دیا کہ وہ سفر سے گریز کریں تا کہ یہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بھی اس بات پر سختی سے عمل کیا”۔

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ صرف اپنی صحت پر بھر پور توجہ دیتے بلکہ لوگوں کو بھی اس بات کا حکم دیتے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ مدینہ میں قیام کے دوران آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب ایک وفد کے ساتھ معاہدہ طے کرنے گئے تو مخالف وفد میں‌موجود متعدی مرض میں مبتلا ایک شخص سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا اور اسے وہیں واپس جانے کا حکم دیا جہاں سے وہ آیا تھا۔

حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں "‌ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں طاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اورتم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو”

اسی لیے اس کڑے وقت میں ہمیں‌ماہرین صحت اور اداروں کی جانب سے جاری کردہ تجاویز پر عمل کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی ، اپنے پیاروں‌ اور دیگر افراد کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکیں۔

درحقیقت وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ بہت ساری ہدایات مسلمانوں کا روز مرہ کا معمول ہے ۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

1۔ ہاتھ دھونا: ہاتھ دھونا وضو کا بنیادی حصہ ہے اور مسلمان صفائی کا یہ عمل روزانہ کئی مرتبہ کرتے ہیں۔

2۔ عمومی صفائی:‌حضور نبی مہربان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "‌صفائی ایمان کا جزو ہے”
اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا، اپنی جسمانی صفائی کا خیال رکھنا اور آس پاس کی اشیا کو صاف رکھنا صفائی کے بنیادی اجزا ہیں جن پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔

3۔ چھینکتے وقت منہ کو ڈھانپنا: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جب بھی چھینک آتی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے منہ کو ڈھانپ لیتے۔ یہ عمل وائرس کے پھیلاو میں‌اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب بھی چھینکتے وہ اپنے منہ کو اپنے ہاتھوں سے یا کپڑے سے ڈھانپ لیتے تھے”

4۔ قرنطینہ: ایسے حالات میں‌جب بیماری کے جراثیم پھیلنے کا خدشہ ہو ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے کہ انہوں ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) نے ایسی صورتحال کے بارے میں‌کیا حکم دیا تھا ہمیں‌اس حکم کی تکمیل کرتے ہوئے جان لیوا وائرس کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پس اسلامی احکامات کی روشنی میں ہمیں‌نہ صرف اللہ عزو جل پر ایمان رکھنا چاہیے بلکہ تمام تر حفاظتی اقدامات بھی اختیار کرنے چاہیئیں ۔ اللہ پاک کی ذات‌ اس صورتحال سے نکلنے میں ہماری مدد فرمائے اور ہمارے ایمان کو سلامت رکھے اور ہمیں سیدھے رستے پر چلنے میں مدد دے۔

” اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا "القرآن 2:153 اور 186 : 2)

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے