شفقنا اردو: چین کے عظیم فوجی رہنما سون تزو کا مشہور قول ہے کہ "جنگیں شروع ہونے سے قبل ہی جیتی جا چکی ہوتی ہیں یا ہاری جا چکی ہوتی ہیں۔ فروری کے پہلے ہی ہفتے میں‌برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کرونا وائرس کے خلاف جنگ ہار چکے تھے۔ میری پسند کے ایک اور مقولے کے مطابق” مفروضات تمام پریشانیوں‌ اور فتوروں کی ماں‌ہیں”۔ کرونا وائرس کے معاملے میں‌ برطانوی حکومت، سیج،قومی ادارہ صحت، عوامی ادارہ صحت اور ادارہ برائے معاشرتی صحت و خیال مفروضات کی حقیقی ماں اور باپ ثابت ہوئے ہیںِ ۔

قومی ادارہ صحت ، سیج اور عوامی ادارہ صحت کے خیال میں‌وہ اس وبا کے لیے بہت اچھی طرح تیار تھے۔ درجنوں رپورٹس، لائحۃ عمل ، پروٹوکولز، منصوبے ، ماڈل اور جوابات مکمل طور پر تیار تھے یا دوسرے لفظوں‌میں کاغذی کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ حتی کہ اس ضمن میں 2016 میں‌ایک جھوٹی مشق بھی کی گئی تھی مگر اس سارے عمل میں‌ایک ہی غلطی تھی اور وہ یہ تھی کہ یہ تمام عمل انفلوئنزہ کے خلاف تھا جبکہ جبکہ کرونا عام فلو سے قطعی مختلف ہے۔

واپس فوجی مماثلت کی طرف چلتے ہیں جب کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تو برطانیہ چین کی طرف سے پیدل افواج، ٹینکوں‌اور روایتی فوج کے حملے لیے مکمل طور پر تیار تھا مگر بجائے چینی حملے کے بہت سارے خفیہ ایجنٹس فروری کے درمیان میں‌ اٹلی اور سپین سے برطانیہ میں داخل ہوئے اور کمزور ٹارگٹس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ تمام تر جذبات ٹھنڈے پڑ گئے اور جنگ میں شکست ہو گئی۔

قومی ادارہ صحت اور عوامی ادارہ صحت کی جانب سے اس وبا کے لیے جاری کردہ تمام تر ہدایات اور راہنمائی کسی کام کی نہ تھی کیونکہ کرونا وائرس نوجوانوں‌میں‌بغیر کسی علامات اور انتہائی معتدل شکل میں ظاہر ہوا تاہم اس کو خاموشی سے ہسپتالوں کی وارڈوں میں‌منتقل کیا گیا جہاں یہ پوری قوت سے پھٹ پڑا اور بزرگوں اور بیماروں‌کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوا۔ سوال یہ ہے کیا یہ سب تیاریوں اور ماڈلز کا حصہ تھا؟‌ کمزورں اور بزرگوں پر مشتمل اداروں کے لیے کوئی تیاری نہیں کی گئی ۔ اٹلی کے ہسپتالوں کی حالت زار نے میڈیا کو مکمل طور پر اپنی طرف متوجہ کیا اور نتیجتا ہر طرف پریشانی کا عالم دیکھنے کو ملا۔

پس کام کا آغاز ہی ایک بڑی غلطی سے ہوا۔ حکومت مکمل طور پر فلو کے پھیلاو کے مقابلے کی تیاری کرتی رہی اور کسی نے بھی ایک مختلف خصوصیات کے حامل وائرس کے لیے مناسب تجاویز پیش نہ کیں۔ تاہم دوسری اور سے بھی بڑی غلطی مارچ میں‌کی گئی جب ہسپتالوں کو کرونا کے مریضوں کی آمد کے لیے مکمل طور پر خالی کر دیا گیا اور یہی کام اٹلی میں‌بھی ہوا جہاں‌ہزاروں مریضوں کو بغیر کسی ٹیسٹ کے ہسپتالوں سے رخصت کر دیا گیا ۔ یہ ایک تباہ کن غلطی تھی۔

ایک لمحے کے لیے اگر سوچیں تو یہ کس قدر بے وقوفانہ فعل تھا۔ مارچ کے آغاز میں‌ سیج، قومی ادارہ صحت اور عوامی ادارہ صحت حتی کہ ہر کسی کے علم میں یہ بات آگئی تھی کہ کرونا وائرس بزرگ افراد کے لیے انتہائی تباہ کن اور خطرناک ہے جب کہ دیگر عمر کے افراد میں‌اس کی علامات یا تو ظاہر ہی نہیں‌ہوتیں اور اگر ہوتیں ہیں‌تو انتہائی معتدل ہوتی ہیں‌۔ ہسپتالوں‌میں اگر کرونا پر قابو پانا ایک مسئلہ تھا تو تیمار خانوں میں بھی یہی صورتحال تھی جہاں‌حکومتی اقدامات ندارد تھے۔ یہ تیمار خانے کرونا کا آسان ہدف بن گئے۔

جب یہ سب ختم ہو جائے گا اور اگر ہمیں ہسپتالوں اور تیمار خانوں میں متاثر ہونے والے افراد کی اموات کی صحیح تعداد بتائی گئی تو مجے شبہ ہے کہ یہ اموات کل ملا کر ہوں گی۔ وبا سے ایک وسیع آبادی میں‌ہونے والی اموات یقینا کم ہو گی اورعموما ایسے تیمار خانوں یا گھروں میں‌ہوں‌گی جہاں بزرگ افراد نوجوانوں کے ساتھ مشترکہ طور پر رہ رہے ہوں گے۔

ہسپتالوں اور تیمار خانوں سے باہر اس بات کے واضح آثار ہیں‌کہ ہم میں سے اکثرافراد کے اندر پیدائشی قوت مدافعت اور مزاحمت موجود ہے ۔ یہ بیماری بہت سارے افراد کے لیے معمولی اور بہت کم جان لیوا ہے۔ قصبوں‌میں ریوڑ سے استثنی قوت مدافعت کی زیادہ سے زیادہ حد 20 فیصد ہے ( جیسا کہ لندن کے اعداد و شمار سے ظاہر ہے) اور قصبوں سے باہر اس بے بھی کم ہے نہ 60 فیصد جیسا کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے۔ ان اففراد کے لیے جو اپنے گھروں تک محدود ہیں یہ وبا انتہائی معمولی اور بہت جلد ختم ہو جانے والی ہے۔

ہمیں کسی بھی قسم کے فرضی اور قیاسی وبائی ماڈل کی ہر گز ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے پاس پوری دنیا کے بنیادی اعداد و شمار موجود ہیں۔ ہمارے پاس ایسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں‌جنہوں‌نے سخت لاک ڈاون، نرم لاک ڈاون یا لاک ڈاون کیا ہی نہیں ۔ ہمارے پاس امریکہ کی انفرادی ریاستوں‌کی مثالیں ہیں‌جنہوں‌نے مختلف انداز کا رد عمل دیا۔ ایسے ممالک یا ریاستیں‌جنہوں‌نے سخت لاک ڈاون کی پالیسی اپنائی وہاں بھی اموات کی شرح اتنی ہی رہی جتنی لاک ڈاون نہ کرنے والے ممالک میں‌رہی۔ یہ حقائق بالکل عیاں ہیں۔

اس بات کا پتا لگانا مشکل ہے کہ کس لائحہ عمل نے بہتر نتائج دیے۔ کس طرح جاپان اور جرمنی نے دوسرے ممالک کی نسبت بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا؟ جاپان کی آبادی کا بڑا حصہ بزرگ افراد پر مشتمل ہے اور اس کے شہروں بہت زیادہ گنجان آباد بھی ہیں تاہم جاپان نے بہت محدود پیمانے پر لاک ڈاون اور ٹیسٹس کیے۔
یہ قیاس کرنا کہ جاپان میں کم اموات کی وجہ موٹاپے کی کمی اور بہت زیادہ مچھلی کا استعمال سراسر غلط ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سوالات کے جوابات کا سلسلہ دوبارہ ہسپتالوں اور تیمار خانوں سے ہی جا کر جڑتا ہے۔

جن ممالک کے ہسپتالوں اور تیمار خانوں میں اموات کی شرح کم تھی درحقیقت وہاں اموات کی تعداد کم رہی ہے جیسا کہ جاپان اور کسی حد تک جرمنی کی مثال لے لیں ان ممالک نے بہترین حکمت عملے سے تیمار خانوں اور ہسپتالوں‌ میں بیماری کو پھیلنے سے روکا یا دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح جن میں‌اس طرح شفاخانے موجود نہیں‌اور نہ ہی ہسپتالوں میں‌مریضوں کی ایک بڑی تعداد داخل تھی۔ ذاتی طور پر میں پرامید ہوں کہ افریقہ اور اس کے دیگر حصوں میں کرونا وائرس کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔پس ہمیں امید کرنی چاہیے کہ اس وبا کے بالواسطہ نتائج صحت کے مختلف مسائل کی صورت میں نہیں نکلیں گے۔

پس اس تمام عمل سے ہم نے یہ سیکھا کہ ایسی صورتھال میں‌ہر قسم کے فرضی اور معروضی ماڈل اس وقت تک بے کار ثابت ہوتے ہیں‌جب تک وبا مکمل طور پر اپنے پنجے نہ گاڑھ لے ( بشرطیکہ اس وقت تک بہت دیر نہ ہوچکی ہو)۔ ایسے ماڈلز اور مفروضوں کی بجائے کسی بھی مرض کے طبعی پہلووں کا فوری طور پر جائزہ لے کر اس کے تدارک کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

کیا یہ وائرس بوڑھے لوگوں‌کو ہلاک کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو بزرگوں کی حفاظت کی جائے۔ اگر یہ بغیر کسی علامت کے سامنے آتا ہے تو اس کے لیے بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ اور ہسپتالوں میں اس کے تدارک کی ضرورت ہے۔ ایک معروضی ماڈل کبھی بھی ان فیصلوں کےبارے میں‌آپ کی رہنمائی نہیں کرےگا۔ ان تمام باتوں سے بڑھ کر ہمیں‌کسی بھی بیماری کے لیے عملی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ معروضی تیاریوں کی۔

شفقنا اردو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے