شفقنا اردو: خود کشی کے بارے میں‌یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر آپ غریب ہیں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ زندگی میں بہت زیادہ درپیش مسائل کی وجہ سے آپ زہنی دباو کا شکار ہوں گے۔ خود کشی کے دیگر عوامل میں‌خود فکری اور شراب نوشی شامل ہیں۔ بعض خود کشیوں کے پیچھے مالی نقصانات، تعلقات کا خاتمہ اور غنڈہ گردی کا شکار ہونا بھی شامل ہیں۔

تاہم خود کشیوں کی وجوہات محض یہی عوامل نہیں۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں‌کہ ترقی یافتہ ممالک میں‌خود کشیوں کا رحجان ترقی پزیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔

مثال کے طور پر ڈنمارک اور سویڈن میں‌خوشی اور اطمینان کا انڈیکس بلند ہے تاہم وہاں خود کشیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے سنٹر فار ڈزیز کنٹرول کے مطابق امریکہ میں‌خودکشیوں سے مرنے والوں کی تعداد حادثات سے مرنے والوں کی نسبت کہیں‌زیادہ ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں‌ رجسٹرڈ اموات کا 7۔1 فیصد خودکشیوں کے سبب ہے یعنی ہر ایک لاکھ اموات میں سے 2۔14 اموات کاسبب خود کشی ہے۔

دیگر ممالک جیسے کہ فن لینڈ، فرانس چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں بلند معیار زندگی، صحت کی بہترین سہولیات، جرائم کی کم شرح اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے باوجود خودکشیوں‌کی شرح بہت زیادہ ہے۔ حیران کن طور پر خودکشیوں کی بجائے افریقہ ترقیاتی مسائل کی وجہ سے زیادہ جانا جاتا ہے مطلب افریقہ جیسے غریب ملک میں‌خود کشیوں کا رحجان نہ ہونے کے برابر ہے۔

مڈل بری کاالج کے معاشیات کے پروفیسر نے معیشت پر اپنی کتاب میں‌ لکھا ہے کہ ” ترقی پزیر ممالک کا غریب طبقہ کسی نہ کسی طرح اپنا وجود برقرار رکھ لیتا ہے اور بالاخر اپنی مشکل زندگی میں‌ خوشی تلاش کر ہی لیتا ہے ۔ غریب ممالک میں‌خود کشیوں‌کا رحجان انتہائی کم ہے۔ وہاں لوگ اپنے بقا کی فکر میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ خود کشی کے بارے میں‌سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خود کشی کی وجہ غربت نہیں‌ہے اگر ایسا ہوتا تو غریب ممالک کے تمام لوگ اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر چکے ہوتے۔

سوال یہ ہے کہ امیر ممالک کے لوگ خود کو مارنے جیسے انتہائی قدم کی طرف کیوں‌جاتے ہیں؟ کیا امیر اور کامیاب لوگوں میں مذہبی عقائد کی نفی اور خود کشی کی بلند شرح کے مابین کوئی تعلق ہے؟ جدید دنیا میں‌بچے کی پیدائش سے ہی اس کی تریبت ایک خاص مقصد کے تحت کی جاتی ہے جس میں عموما مذہبی اعتقادات کوشامل نہیں کیا جاتا۔ یہ فرد ترقی کے زینے چڑھ کر آخر اپنی منزل مقصود کو پا لیتا ہے تاہم اس کے اندر شروع سے ہی ایک خلا جنم لیتا ہے جو اس کو اپنی ذات اوراپنے خالق سے الگ کر دیتا ہے۔

2005 سے 2006 تک کیے گئے ایک گیلپ سروے کے مطابق” اعداد وشمار سے پتا چلا ہے ہے جن ممالک میں‌لوگ زیادہ مذہبی رحجانات رکھتے ہیں وہاں‌خود کشیوں‌کی شرح کم ہے”‌کیا مذہبیت واقعی خود کشی کے شرح‌پر اثر انداز ہوتی ہے؟ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں‌کہ دولت مند اور مذہب سے لاتعلق ممالک میں خود کشیوں‌کی شرح مذہب سے لگاو رکھنے والے ممالک سے کہیں زیادہ ہے

درحقیقت ایمان کی کمی سے انسان کے اندر خلا پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ کی یاد اور اس سے تعق یہ خلا پر کرنے میں‌انسان کی مدد کرتا ہے اور اس کو ایک امید پیہم عطا کرتا ہے۔ زندگی صرف آگے کا سوچنے کا نام نہیں بلکہ زندگی اپنے اندرجھانکنے کا نام ہے۔ جیسا کہ ولیم شیکشپئیر نے کہا تھا ” اللہ میری امید واحد ہے، وہ میرا قیام ہے ، میرا راہبر اور میری ہر قدم کی روشنی ہے۔

بدقسمتی سے 21 صدی مذہب سے مبیرا ایک مخصوص جدیدیت کی حامل ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ مذہبی عقائد سے گہری وابستگی اورمذہبی تعلیمات پر عمل ذہنی صحت کو جلا بخشتی ہیں۔

نفسیاتی اور عادات کے سائنی مطالعہ کے پروفیسر ہیرالد جی کوئننگ نے اپنی کتاب” مذہب، روحانیت اور ذہنی صحت پر تحقیق” میں‌بیان کیا ہے کہ ذہنی دباو، بے چینی اور خود کشی والا رویے میں کمی کا مذہبی لگاو سے گہرا تعلق ہے۔ مزید برآ‌ں بہترین جسمانی صحت اور انسانی کی بہتری کا بھی تعلق بھی مذہبی لگاو سے جڑا ہوا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم‌اپنی زندگیوں میں اسلام کی اہمیت و کردارکودوبارہ اجاگر کریں اور ذہنی صحت کو جلا بخشنے کے لیے اس کے سائنسی پہلووں کو سامنے لائیں۔۔

P

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے