شفقنا اردو: پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر شدت پسندوں کے حملے میں چار حملہ آوروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ٹوئٹر پر کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ کے مجید بریگیڈ گروپ نے حملے کی ذمہ داری مبینہ طور پر قبول کر لی ہے۔

اس تنظیم کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر، جو حملے سے کچھ دیر پہلے ہی بنایا گیا تھا، اپنے چار ممبران کی فوٹو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ کراچی میں سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو مجید بریگیڈ کے ممبران تسلیم بلوچ عرف مسلم، شہزاد بلوچ عرف کوبرا، سلمان حمال عرف نوتک اور سراج کُنگر عرف یاگی نے نشانہ بنایا ہے۔

بعدازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رینجرز حکام کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ابھی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔

مجید بریگیڈ گروپ بلوچ علیحدگی پسندوں کا وہ شدت پسند گروپ ہے جس نے نومبر 2018 کو کراچی کلفٹن میں واقع چینی قونصلیٹ اور مئی 2019 میں گوادر کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر بھی حملے کیے تھے۔

ان کے علاوہ رواں سال مئی میں بلوچستان کے شہر کیچ، ضلع کیچ کے مند اور مچھ شہروں میں پاکستان فوج اور فرنٹیئر کور پر کیے گئے تین حملے بھی اسی گروپ نے کیے۔

یہ وہی گروپ ہے جس نے اگست 2018 میں بلوچستان کے سیندک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینیئروں کی بس پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے کے وقت جہاں سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار تھی وہیں حملے کے خاتمے کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت، ملک کے چھٹے وزیر اعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر یا آئی آئی چندریگر کے نام سے منسوب سڑک پر واقع ہے۔

یہ سڑک کراچی کی ’وال سٹریٹ‘ کے طور پر جانی جاتی ہے۔

یہاں کئی مالیاتی اداروں کے مرکزی دفاتر ہیں اور سٹیٹ بینک آف پاکستان، آئی جی سندھ کا دفتر، پولیس ہیڈ کوارٹرز، کراچی شہر کے امتیازی نشان والی عمارت حبیب بینک پلازہ سمیت کئی نجی بینک اور ٹی وی چلینز کے آفس بھی موجود ہیں۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر سندھ رینجرز ہیڈکوارٹرز اور دوسری جانب اتنے ہی فاصلے پر کراچی پورٹ موجود ہیں۔

صحافی تنویر ملک کے مطابق ’پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایک اہم معاشی انڈیکٹر سمجھا جاتا ہے جس کی کارکردگی کے ذریعے معیشت میں بہتری یا خرابی کو جانچا جاتا ہے۔ پاکستان میں ماضی میں سٹاک ایکسچینج کی اچھی کارکردگی کو حکومتوں نے بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کو ملک میں لانے کے لیے استعمال کیا۔‘

شدت پسندوں نے آخر پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ہی کیوں حملے کے لیے چنا؟

اس بارے میں معروف سکیورٹی تجزیہ کار امتیاز گُل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سٹاک ایکسچیج ملکی معیشت کی نشانی ہے اور اس پر حملے کا مطلب ہے ملکی معشیت کو غیر مستحکم کرنے کی ایک کوشش۔

بلوچ مزاحمت کاروں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ صوبے کے وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے اور وہ اس ‘مستقل معاشی استحصال’ ان کی باراضی کی بڑی وجہ ہے۔ تاہم حملہ آوروں نے اس مقام پر حملے کی وجہ بیان نہیں کی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی میں چار حملہ آور آئے اور دو پہلے گیٹ پر ہی ہلاک کر دیئے گئے جبکہ باقی دو احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے لیکن زیادہ دور نہ جاسکے۔

امتیاز گل کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی حملہ کشمیر میں ہوتا تو ہم سمجھتے کہ وہ تو کشمیر کا معاملہ ہے یا پھر اگر بلوچستان میں کہیں کوئی دہشت گردی ہوتی تو یہ خیال کیا جاتا کہ وہاں تو پہلے سے شدت پسند موجود ہیں اور ایسے حملے عام ہیں۔ مگر کراچی میں ایسے حملے کی تُک نہیں بنتی، اس لیے کراچی میں موجود ملکی معیشت سے جُڑے ایک اہم ادارے کو نشانہ بنایا گیا تاکہ معشیت کو غیر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچایا جاسکے۔‘

سیکیورٹی امور کے ماہر محمد عامر رانا اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’اگر پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر بلوچ لبریشن آرمی نے حملہ کیا ہے تو اس گروپ کی جانب سے کیے گئے حملوں سے یہ واضح پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمیشہ سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والے ٹارگٹ کو چنتے ہیں۔ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ چاہے حملہ کامیاب ہو یا ناکام، اس حملے سے انھیں ایک تو شہرت ملتی ہے دوسرے ان کے آپریشنل اہداف حاصل ہو جاتے ہیں۔‘

عامر رانا کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج ملک کا مالیاتی مرکز تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ شدت پسند اس ادارے کو چین، پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

’اگر بی ایل اے نے یہ حملہ کیا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں، یہ ٹارگٹ اسی لیے چنا گیا کہ سٹاک ایکسچینج معیشت کی ایک اہم نشانی ہے۔‘

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے