شفقنا اردو: پوری دنیا میں‌حکومتیں دو نعروں کی خریدو فروخت کرتی ہیں” مفادعامہ اور عوام کے تحفظ کے لیے” اور آج کل کرونا کی وبا کے خلاف یورپین ملک اسی نعرے سے کام چلا رہے ہیں۔

اسی طرح فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے عوام کی حفاظت کے لیے سو فیصد فرانس کا بنا کرونا وائرس ماسک عوام میں متعارف کرایا  اور اسے ” قومی فخر” کہا ہے۔

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے! کیا یہ وہی فرانس نہیں جس نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اس وقت حجاب کو جبر کا نشان ، صحت اور ملک کے لیے خطرہ قرار دیا تھا یہاں تک کہ حجاب کو ” قومی شرم” جیسے القابات سے نوازا گیا کیونکہ حجاب پہننا جدید معاشرے کے لیے فرسودہ اور نامناسب فعل تھا۔

بجا طور پر مجھے 2006 کا وہ تکلیفدہ دن یاد ہے جب میں یونیورسٹی آف لیڈز میں‌ماسٹر آف جرنلزم کا طالبعلم تھا ۔ دیگر طالبعلموں‌اور ماہرین تعلیم کی طرح مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ برطانوی پارلیمینٹرین جیک سٹرا نے حجاب کو امتیاز اور تفریق کی علامات قرار دیا جس سے برطانوی مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ یاد رہے کہ جیک سٹرا لیڈز یونیورسٹی کا سابقہ طالبعلم اور یونین کا صدر بھی رہ چکا تھا اور  اس کے اس رجعت پسند بیان کے بعد احتجاجا یونیورسٹی آف لیڈز کے بہت سارے طالب علموں نے اس کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

تب سے حجاب پر نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوئی اور لوگوں نے اس پر ڈاکٹریٹ کے مقالے لکھے۔  ہزاروں اخبارات ، جرنلز ، کتابوں‌اور مخطوطوں میں اس پر لکھا گیا ۔ عوامی مباحث ہوئے، لیکچرز دئیے گئے ، ڈاکومینٹریز ، فلمیں اور تضحیکی خاکے بنائے گئے۔

اور افسوس ناک بات یہ ہے بہت سارے یورپی اخبارات اور نشریاتی اداروں نے حجاب کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی اور مسلمان خواتین کی تضحیک کی گئی حتی کہ فرانس نے حجاب پر پابندی عائد کر دی۔

فرانس میں مسلم خواتین کے لیے حجاب لینے پر پابندی ہے مگر ماسک نہ پہننے پر جرمانہ ہے۔ کیا ایک مسلم خاتون کو حجاب نہ پہننے پر مجبور کرنا ذہنی اذیت اور بدسلوکی کے زمرے میں‌نہیں آتا۔

جب پیرس میں‌ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے جیمز میک اولے نے مضمون” برقعہ پر پابندی عائد کرنے والے ملک میں‌ماسک کی اہمیت ” میں لکھا کہ فرانس میں کرونا پر قابو پانے کے لیے ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے جب کہ حجاب اوڑھنے پر تا حال پابندی ہے تو اس کے خلاف ٹوئٹر پر لفظی جنگ چھڑ گئی۔

برطانوی اخبارات میں حجاب میں‌لپٹی خاتون کی عکاسی

مغربی میڈیا عموما حجاب میں‌لپٹی خواتین کو جبر کا شکار اور پسماندہ قرار دیتا ہے۔ قدامت پرست اخبارات حجاب پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ آزاد خیال اخبارات یہ کہتے ہیں کہ عورت کو حجاب کے معاملے میں اپنی مرضی کرنے میں‌آزاد ہونا چاہیے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا مغرب واقعی جبر کا شکار عورتوں‌کی مدد کرنے میں‌سنجیدہ ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ حجاب پہننے والی خواتین کو جتنا زہنی تشدد کا نشانہ مغرب نے بنایا ہے اتنے جبر کا شکار شاید وہ کہیں اور ہوتی ہوں گی۔

جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانس حجاب پہننے والی خواتین کو بینک ڈکیت اور لیٹر بکس جیسے القابات سے نوازیں  تو دیگر برطانوی عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

اب اگر حجاب پوش خواتین کے بارے میں فرانسیسی اور طالبان کی رائے کا تقابل کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ دونوں میں‌کوئی فرق نہیں ۔ ایک عورتوں کو حجاب پہننے پر مجبور کرتا ہے  تو دوسرا حجاب نہ پہننے کی پابندی لازم قرار دیتا ہے۔

سوال یہ پیداا ہوتا ہے کہ کیا یہ صرف حجاب کی سیاست ہے؟‌ کیونکہ اگر مغرب واقعی عورتوں کی آزادی کو اہمیت دیتا ہے تو اسے انہیں مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ نقاب کریں یا نہ کریں یہ ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔

تاہم یہ سب سیاست کا کھیل ہے۔ کیتھرائن وائن جو نسائی پسندی بطور سامراجیت کے موضوع میں دلچسپی رکھتی ہیں وہ جارج بش کے اس دعوے کو کہ اس نے افغانستان میں‌عورتوں کو برقع سے آزادی دلانے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا’ کومکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ کہتی ہیں ۔

مغربی میڈیا اور سیاسی طبقہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مسلمان عورتوں کے حقوق اور فرائض قرآن پاک کی رو سے کہیں زیاد ہیں۔ جب کہ افغان عورتوں کو یورپین خواتین سے بہت پہلے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا اور یہ بات یا تو نظر انداز کر دی جاتی ہے یا پھر جان بوجھ کر بیان نہیں کی جاتی۔

یہ حقیقت ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ ہم اپنی طرز زندگی اور اپنے نظریات کی وجہ سے اکثر حقیقت کی نفی کرتے ہیں۔

شاید اس بحث کا اختتام بہترین طور پر یوں کیا جا سکتا ہے کہ یہ یورپ کا ایک غیر سیاسی ہتھیار ہے جو دوغلے پن کے علاوہ کچھ بھی ںہیں۔ اقلیتوں کے لیے الگ قانون اور اشرافیہ کے لیے الگ۔

اگر یورپین جمہوریت اس پست ترین سطح کو چھو رہی ہے تو یور پ کو انسانی حقوق اور انفرادی آزادی جیسے
نظریات پر دوبار غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یورپ ابھی تک کیا سمجھنے سے قاصر ہے

فرنچ نیشنلزم کے نام پر میکرون یہ دعوی کرتے ہیں کہ  فیس ماسک زندگیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ بلاشبہ کوئی بھی ذی ہوش آدمی اس دلیل سے متفق ہوگا لیکن جو کچھ اسلام حجاب کے بارے میں‌کہتا ہے یہ اس سے کیوں کر مختلف ہے؟ اسلام اپنے عقیدت پسندوں سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ حجاب میں اسلام نے کیا حکمت رکھی ہے اور اس کے جدید معاشروں پر کیا اثرات ہیں۔

زندگی کے تحفظ والی دلیل کو سامنے رکتھے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام بعد از موت ابدی زندگی کی بات کرتا ہے تو آخر کیوں‌کوئی اپنی ابدی زندگی کو خطرے میں ڈالے گا؟

کیا مسلمان خواتین کو حجاب نہ پہننے پر صرف اس لیے مجبور کیا جائے کیونکہ قدامت پسند اس سے نفرت کرتے ہیں۔ سوچیے اگر کوئی سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور نشہ آور ادویات کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کرے کیونکہ یہ ہر سال قومی ادارہ صحت پر 7۔2 بلین پاونڈ کا بوجھ ہے ۔ کیا حجاب بھی قومی ادارہ صحت پر کوئی بوجھ ڈالتا ہے؟

ستم ظریفی یہ ہے ہم وہ اپنا لیتے ہیں‌جو ہمیں اچھا لگتا ہے اور وہ چھوڑ دیتے ہیں جو ہمارے مزاج سےمیل نہیں کھاتا۔ عیسائیت، یہودیت اور دیگر ادیان کے بارے سوچیں جو پاکیزگی کا درس دیتے ہیں تو پھر یورپ صرف مسلمان عورت کے لیے ہی پریشان کیوں‌ہے؟ آخر کار یہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے