باسمہ تعالی

اس ذات کے نام سے جس نے انسان کو علم سے نوازا اور (علم الانسان ما لم یعلم) کے ذریعے اس انسان کو اپنے علم کا وارث بنایا اور یہ انسان جو کچھ نہیں جانتا تھا اس علیم و حکیم کے فضل و کرم سے جاننے والا بن گیا اور اس نے انسان کو اپنی گوناگون صفات کے ساتھ آراستہ و پیراستہ کیا کہ اس انسان کو مٹی کے پتلے سے سمیع و بصیر بنایا اور جس کا اس کائنات میں کوئی ذکر نہیں تھا اسے قابل ذکر بنا دیا-
علم وہ آب حیات ہے جس کے ذریعے انسان کو زندگی ملتی ہے چونکہ حدیث شریف میں ملتا "العلم حیات الانسان ” یعنی انسان کی ایک زندگی مادی زندگی ہے جو سانس اور خون اور دل کی دھڑکن سے باقی رہتی ہے اور ایک دوسری زندگی جس کا تعلق انسان کی روح کے ساتھ ہے اور انسان کی بقا کا راز صرف جسم کی بقا نہیں بلکہ علم وہ سرمایہ ہے جس کے ذریعے انسان کو عقلی اور معنوی زندگی نصیب ہوتی ہے-
جیسے فرد کی زندگی کا دارومدار علم پر ہے ویسےہی قوموں کی زندگی کا محور بھی علم ہی ہے علم کی وجہ سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور علم کے نہ ہونے کی وجہ سے قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حصول علم پہ زور دیا نبی اکرم ص نے فرمایا "طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمہ
طلب علم کو فریضہ قرار دیا گیا-

علم کی تعریف: علم کی تعریف مختلف اہل فنون نے کئی اعتبارات سے کی ہے لیکن دین کی اصطلاح میں کسی حقیقت کے جان لینے کا نام علم نہیں بلکہ احادیث کی روشنی میں کہا گیا کہ العلم نور يكشفه الله في قلبه من يشاء: کہ علم ایک نور ہے جسے اللہ کی ذات ہر کسی کو عطا نہیں کرتی بلکہ اللہ کی ذات قلوب کو انتخاب کرتی ہے کہ جن کے ساتھ اس کی مشیت شامل حال ہوتی ہے- اور اللہ کے اس نور سے دل منور ہوتے ہیں اور اس روشنی کو علم سے تعبیر کیا جاتا پس بسا اوقات معلومات کو علم سے تعبیر کیا جاتا ہے اور بسا اوقات حقائق عالم کی طرف دل کی آنکھوں کے کھلنے کا نام علم ہے معلومات کمپیوٹر میں بھی بہت پیں اور اگر اسی کو علم سے تعبیر کیا جائے تو دنیا میں کسی عالم کی ضرورت ہی نہیں آج کی دنیا گوگل اور سرچ انجن میں آپ جو بھی معلومات لینا چاہیں وہ موجود ہیں تو پھر نہ کسی نبی کی ضرورت ہے نہ کسی امام یا عالم کی- پس معلوم علم نور بن کر دل کو روشن کرے اور یہ نور عمل کی شکل میں انسان کی زندگی میں جلوہ افروز ہو تو اسے علم کہا جائے گا ورنہ یہ شخص ممکن ہے ایک ڈکشنری کی طرح ہو –

عالم دین : علم کی اس تعریف کی روشنی میں عالم ہر اس شخص کو نہیں کہا جائے گا جس کے پاس معلومات ہوں بلکہ عالم وہ ہو گا جس کا علم اس کی زندگی میں عملی ہو چکا ہو- یعنی وہ جتنا جانتا ہو اس پہ عمل بھی کرتا ہو لہذا قرآن کریم نے عالم و علماء کی تعریف کرتے ہو ئے فرمایا کہ (انما يخشي الله من عباده العلماء)

کہ تحقیق اللہ کے بندوں میں سے علماء ہی اللہ کی خشیت رکھتے ہیں یا ہم اس کو اس طرح بھی کہہ سکتےہیں کہ حقیقتا وہی لوگ علماء ہیں ہیں جو خشیت الہی کے حامل ہیں- یعنی وہ اللہ کی ذات جو عالم با عمل کے دل کو نورانی کرتی ہے اور اسے حقیقت شناس بناتی ہے- اور اسے اس مادی دنیا سے ما وراء دوسرے عوالم کا علم عطا کرتی ہے تاکہ یہ علم اس کی روح اور جان کا حصہ بن جائے- لہذا فارسی میں علماء کو روحانی کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے یعنی وہ لوگ جن کی روح علم و عمل سے مزین ہو یعنی عالم وہ ہے کہ علم جس کے باطن میں ایمان بن جائے اور یہ ایمان عمل کی شکل اختیار کرے اور یہ علم و عمل کی بدولت اللہ کی نشانی بنے اور اللہ کی خلافت کا منصب سنبھالے- لہذا جو لوگ علمی اعتبار سے بلند مراتب پہ فائز ہوتے ہیں ہمارے علمی مراکز اس کو مولانا و عالم دھر کہنے کی بجائے اسے آیت اللہ سے تعبیر کرتے ہیں آیت کہتے ہیں نشانی کو یعنی ایک ایسا شخص جو اپنے علم و عمل کے باعث اللہ کی نشانی بن جائے-نشانی جیسے سائن بورڈ لگا ہوتا ہے -کہ اگر ہمیں کسی شہر کی طرف سفر کرنا ہو تو ہم سائن بورڈ کو دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ شہر تک کتنا فاصلہ باقی ہے-اور اس شہر تک پہنچنے کے لئے کون کون سے روٹ لینے کی ضرورت ہے-آیت اللہ وہ شخصیت جس کے ذریعے انسان خداکے قریب ہو سکے اور اس تک پہنچنے والے راستوں سے آشنا ہو سکے-

لہذا ہمارے حوزوں نے تمام ٹائٹلز یا ڈگریز کو اللہ یا اسلام کے ساتھ منصوب کیا ہے- مثلا حجت الاسلام یعنی جو عالم اسلام کی دلیل بن جائے دلیل راہنما کو کہا جاتا ہے اور جب تک انسان خود مسلمان نہ ہو یعنی اسلام کو خود اپنی زندگی میں نافذ نہ کرےیعنی اسلام جو تسلیم کا نام ہے جب تک خود انسان میں بارگاہ خدا میں تسلیم نہ پائی جاتی ہو وہ حجت الاسلام کیسے ہو گا- اسی طرح کہا گیا ثقت الاسلام یعنی اسلامی دنیا مین اور بالخصوص علمی دنیا میں با اعتماد شخصیت یعنی جس کی بات اور عمل قابل اعتماد ہو-

ہمارے مذہبی تعلیمی اداروں میں اگر القابات بھی دئیے گئے تو بہت ہی احتیاط سے دئیے گئے-مثلا ابتدائی سطح کی تعلیم مکمل ہونے اور اسلام کی بنیادی مکمل شناخت کے بعد ثقۃ الاسلام کہا جائے گا اور پھر ایک عالم جو اعلی سطح کی تعلیم سےمزین ہو اسے حجت الاسلام اور پھر جب تمام علمی سطوح مکمل ہو جائیں اور شخصیت علم و عمل کا مرقع بن جائے تو اسے آیت اللہ کہا جاتا ہے-

علامہ کسے کہا جاتا ہے؟-
ہماری حوزوی اور دینی مدارس کی اصطلاح میں سب سے اہم ڈگری جو کسی علمی شخصیت کو دی جاتی ہے وہ علامہ کی ڈگری ہے اور آپ اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت کے زمانے سے لے کر ابھی تک صرف انگشت شمار شخصیات کو علامہ کے ساتھ تعبیر کیا گیا-جن میں علامہ حلی، علامہ مجلسی ،علامہ نوراللہ شوشتری، علامہ امینی،علامہ طباطبائی، آخری زمانے کی شخصیات میں سے علامہ تقی جعفری شمار کئے جاتے ہیں- لیکن متاسفانہ ہمارے معاشرے میں ہر نتھو کھیرے کو علامہ کہا جاتا ہے جو ہماری پسماندگی کی منہ بولتی دلیل ہے-

معاشرے کی ترقی کا راز:
اسلام الہی نظام ہے اور الہی نظام کی کامیابی کا راز انبیاء و اولیاء و آئمہ علیھم السلام کی اقتداء میں مخفی ہے جو اس دنیا میں اللہ کی جانب سے نمونہ عمل بن کر آئے اور انبیاء اور آئمہ علیھم السلام کی عدم موجودگی میں ان کے جانشین وہی لوگ ہیں جن کے متعلق پیامبر گرامی اسلام نے فرمایا کہ "العلماء ورثۃ الانبیاء” کہ علماء انبیاء علیھم السلام کے وارث ہیں- اور معاشرے کی اصلاح و فلاح علماء ہی پر منحصر ہے جیسا کہ پیامبر گرامی اسلام نے فرمایا ” صنفان من امتی اذا صلحاصلحت امتی و اذا فسدا فسدت امتی قيل يا رسول الله و من هم ؟قال الفقهاء والامراء” یعنی پیامبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر میری امت کے دو طبقات یا گروہوں کی اصلاح ہو گئی تو میری امت صالح ہو جائے گی اور اگر دو گروہ فاسد ہو گئے تو پوری امت فاسد ہو جائے گی تو پوچھا گیا یا رسول اللہ وہ دو گروہ کون سے ہیں تو پیامبر اکرم نے جواب میں ارشاد فرمایا ایک امراء یعنی حکمران یا مالدار لوگ) اور فقہا اور اگر ذرا اس حدیث میں غور کی جائے تو امراء اور حکمرانوں کی اصلاح بھی فقہا یا علماء ہی کے ذمے ہے- تو پتہ یہ چلتا ہے کہ معاشرے کا بہبود و فلاح کا دارمدار علماء پہ ہی ہے-اور امام خمینی رح فرماتے تھے کہ اگر آپ کسی علاقے میں جائیں اور وہاں پہ دیکھیں لوگوں میں اچھی قدریں ہیں اور لوگ اچھے اخلاق و کردار کےحامل ہیں تو جان لیں کہ اس جگہ کوئی عالم با عمل رہا ہے یا وہاں سے کسی با عمل عالم کا گذر ہوا ہے-اور اگر کسی جگہ دیکھیں ایک علاقے کے لوگ بدکردار یا بد اخلاق ہیں تو جان لیں کہ وہاں سے کسی بد عمل عالم کا گذر ہوا یا پھر وہاں اس نے کچھ مدت گذاری ہے-

بے عمل یا بد علماء کی مذمت:
قال الا مام الصادق عليه السلام :اذا رأيتموا العالم محبا لدنياه فاتهموه علي دينكم : کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا جب تم کسی عالم کو دیکھو دنیا دار ہے اور دنیا اور پستی سے محبت کرتا ہے تو اسے اس کے دین میں متہم کریں کہ یہ بے دین عالم ہے – پس عالم بھی دو طرح کے ہیں دنیا دار اور دین دار – ہر عالم دیندار نہیں ہوتا بلکہ امام صادق علیہ السلام نے اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے ارشادفرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام پہ وحی نازل کی اور فرمایا کہ اے داؤد کبھی بھی اپنے اور میرے درمیان کسی ایسے عالم کو قرار نہ دینا جو دنیا دار ہو ورنہ وہ تمہیں میری محبت سے دور کر لے گا چونکہ یہ میرے چاہنے والے بندوں کے ایمان کی راہ میں اوردین کی راہ مین راہ زن اور ڈاکوہیں اور کم از کم سزا جو ان جیسے نام نہاد علماء کو دینے والا ہوں وہ یہ ہے کہ میں ان کے دلوں کو اپنی مناجات کی مٹھاس سے خالی کردوں گااور پھر وہ دعا و مناجات کی لذت سے محروم ہو جائیں گے-

سورہ مبارکہ جمعہ میں خلاق کائنات نے یہودیوں کے نام نہاد علماء سے متعلق کچھ اس طرح ارشاد فرمایا "مثل الذین حملوا التوراة ثم لم يحملوها كمثل الحمار يحمل اسفارا” ( ان لوگوں کی مثال کہ جو تورات کا علم حاصل کرتے ہیں اور پھر اس پہ عمل نہیں کرتے وہ گدھے کی مانند ہیں جو اپنی پشت پہ کتابیں اٹھائے ہوئے ہو) قرآن کریم نے انسانوں میں سے گدھے کے ساتھ مثال صرف اس بے عمل طبقے کو دی ہے جو اپنے علم کے مطابق عمل نہ کریں -پس بے عمل عالم خدا کی بارگاہ میں بد ترین مخلوق ہے-

خطباء ذاکرین کا کردار:
ہمارا معاشرہ اگرچہ دینی قدروں کا حامل اور بہت ہی با ایمان معاشرہ ہے لیکن تعلیمی پسماندگی اور ملک۔ میں کسی صالح نظام نہ ہونے کے باعث بہت سی بے راہ رویوں کا شکار ہے جن میں سے ایک علم و عالم اور دینی تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال ہے -جو گذشتہ تین چار دھائیوں سے کچھ بہتر ہوئی ہے اور انقلاب اسلامی کے گہرے اثرات ہمارے معاشرے پہ موثر ہوئے کہ آج ہماری قوم مدارس کی طرف پہلے سے کئی گنا بہتر متوجہ ہے اور بہت سے طلاب علوم دینیہ ملک میں اور ملک سے باہر دینی تعلیم کے حصول کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں اور ملک میں اچھے تعلیمی مدارس کی طرف بھی رجحان بڑھا ہے- لیکن اس کے باوجود اگر آپ ہماری مجالس اور ممبر کا جائزہ لیں تو اس کی صورتحال بہت ناگفتہ بہ ہے

اگرچہ ہمارے ملک میں خطبا و ذاکرین کا فضائل و مصائب اہل بیت کے نشر کرنے میں بہت بڑا کردار ہے اور بعض ہمارے خطباء بہت ہی متدین اور پرہیز گار پڑھے لکھے افراد ہیں جو علماء کے شانہ بشانہ دین کی خدمت میں مصروف ہیں اور ان کے سائے میں رہ کر دین کی نشر و اشاعت کا کام انجام دیتے ہیں-

اسی طرح پنجاب ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا صوبہ اور پنجابی زبان کی وجہ سے ذاکرین عظام کی بہت زیادہ پذیرائی ہے جن میں بعض ذاکرین نے بہت خلوص کے ساتھ آل محمد علیھم السلام کے مکتب کی ترویج کی ہے-

لیکن ہمارے ملک میں خطباء ذاکرین کی تربیت کے لئے تعلیمی تربیتی مراکز بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں – جس کی وجہ سے اکثریت خطبا ء و ذاکرین کچھ موروثی یا سینہ بسینہ چلنے والی روایات پہ اکتفا کر کے اپنے مجالس کو مکمل کرتے ہیں اور ویسے بھی ہمارے معاشرے پڑھنے پڑھانے یا مطالعہ کا ذوق بد قسمتی سے بہت کم ہے اکثر عام لوگوں کا علم بھی سنی سنائی پہ ہی ہوتا ہے- ملک جب تک کسی صالح نظام کے تحت مضبوط نہیں ہوتے معاشرے میں قدریں نہیں پنپ سکتیں-

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ممبر سے نت نئی چیزیں سننے کو ملتی ہیں اور ہر کوئی ایک نئی بولی بول رہا ہے-اور پھرایک اور مشکل یہ ہے کہ چونکہ اردو زبان ایک لشکری زبان ہے تو اس میں لوگوں کا مزاج یہ بن گیا کہ جوشیلی قسم کی لچھے دار تقریریں کریں اور متاسفانہ ہمارے بعض علماء بھی اسی رو میں بہہ گئے اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہر ایک پروگرام میں ایک جذباتی سی کیفیت ہوتی ہے لوگ اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ خطیب یا عالم کوئی نکتہ لگائے تو وہ واہ واہ کریں یا نعرہ لگائیں- مجلس میں سنجیدہ گفتگو تو ممنوع ہو گئی بلکہ بعض لوگ تو اب یہ بھی کہتے ہیں کہ شرعی مسائل یا اخلاقی مسائل کا ممبر سے کیا تعلق ؟ ممبر تو فضائل و مصائب کی جگہ ہے-ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی نیا مذہب ہے جس کا انبیاء و آئمہ سے کوئی تعلق نہ بلکہ خطابت کا دین ہے- چونکہ اگر تو پیامبر گرامی اسلام ص اور آئمہ علیھم السلام کے خطبات و تقاریر کو پڑھا جائے تو اس میں تو نصیحت و موعظہ یا علمی معاملات کے علاوہ کہیں فضائل و مصائب نظر آتے ہیں اور کچھ نظر ہی نہیں آتا-

اور پھر لچھے دار تقریروں کی وجہ سے جتنا علم و عالم یا خطیب میں تو کوئی فرق ہی نہیں رہ گیا بلکہ ہمارے ہاں تو ہر ایک کو علامہ ہی کہا جاتا ہے چاہے وہ کسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہو یا وہ کسی کی کاپی کر کے کچھ آٹھ دس تقریریں رٹ لے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے لگے- انہیں بھی علامہ ہی کہا جاتا ہے- اکثر اشتہاروں پہ نام پڑھ کر انسان سوچنے لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ممبر پہ بیٹھنے والا علامہ ہی ہوتا ہے-بلکہ بسا اوقات پڑھے لکھے علما کو مولوی یا مولانا کہا جاتا ہے اور دوسروں کی خطابت کی وجہ سے علامہ کہا جاتا ہے-
یہی ایک اہم سبب ہے جس کی وجہ سے قوم میں علمی شعور تو بیدار نہیں ہوتا بلکہ ہر سال کچھ واقعات کو دھرا کر مجمع سے داد لینا اور مجلس کو ایک خاص انداز میں پڑھنا یا بسا اوقات بانیان مجلس کی مرضی کے مطابق مجلس پڑھنا یا مجمع کو خوش کرنے کے لئے مجلس پڑھنا رسم بن گیا-

اس میں خطباء اور ممبری حضرات کے علاوہ کچھ کردار ہمارے علما کا بھی ہے کہ اگر وہ ملک میں ایسا ماحول پیدا کرتے کہ خطبا و ذاکرین کو بلا کر ان کی تربیت کے لئے انتظام کرتے اور دونوں طبقات میں دوریاں پیدا نہ ہوتیں اور علماء محبت و شفقت کے ساتھ خطباء و ذاکرین کو اپنے مہربان سائے میں جگہ دیتے تو شاید یہ کیفیت جو آج نظر آرہی ہے قہ نہ ہوتی- دین کو محبت و شفقت اور احترام سے ہی پہنچایا سکتا ہے- ہر طبقے کو ہانکنے اور ڈنڈے کے زور سے لوگوں میں دھڑا بندیاں تو پیدا ہو سکتی ہیں لیکن معاشرے کی اصلاح نہیں ہو سکتی-

خدای متعال نے نبی اکرم صلی اللہ و الہ و سلم کو ارشاد فرمایا اے پیامبر اگر آپ نے سخت گیری سے کام لیا تو لوگ آپ کو چھوڑ جائیں گے لہذا اللہ نے پیامبر اکرم ص رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا اور انسانی تعلیم کے لئے ذات پروردگار نے سورہ رحمان کے آغاز میں ارشاد فرمایا (الرحمان علم القرآن ) رحمان ہے وہ ذات جس نے قران کی تعلیم دی – پس تعلیم و تعلم کے لئے اور معاشرے میں شعور و آگاہی کے لئے رحمت و محبت کا رستہ اختیار کرنے سے معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے- اور سخت گیری سے انحرافات جنم لیتے ہیں اور علماء اور دوسرے طبقات میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں-

دین فروشی:
اگرچہ ہمارے علماء و خطباء و ذاکرین کی ملک میں بہت خدمات ہیں اور انہی کی بدولت آج ذکر محمد آل محمد علیھم السلام ہم تک پہنچا ہے- اگر ملک کے بعض علاقوں کی طرف آج سے تیس چالیس سال پہلے نگاہ کریں تو دور دراز تک کوئی عالم موجود نہیں تھا اور سالہا سال تک کوئی عالم لوگوں کو سننے کو بھی نہیں ملتا تھا بلکہ لوگ مدارس یا علماء کو جانتے ہی نہیں تھے-ان حالات میں متدین ذاکرین و خطبا نے پیغام اہل بیت اطہار علیھم السلام کو ہمارے معاشرے تک پہچایا چنانچہ آج الحمد للہ ملک میں مدارس تعمیر ہو گئے اور دینی مراکز وجود میں آگئےتو لوگوں میں کچھ آگاہی بہتر ہو گئی-

لیکن جب سے دین فروشی کا سلسہ شروع ہوا اور ممبروں کی بولی لگنے لگنی شروع ہوئی اور بعض خطباءو ذاکرین نے اسے اپنی تجارت کا ذریعہ بنایا تو مقاصد بدل گئےاور اس میں صرف خطباء ذاکرین کا ہی قصور نہیں بلکہ بہت سے عمامہ بسر بھی اسی رو میں بہہ گئے- جس کے نتیجے میں جہاں بھی کوئی زیادہ فیس دے گا وہ جیسی مجلس کہے گاپڑھوا لے گا- یہاں سے مجالس و عزاداری کی روح ختم ہونا شروع ہو گئی- ایک وقت ممکن ہے لوگ کسی خطیب و عالم کو ہدیہ دیں اور وہ تبلیغ کی نیت سے قوم کی خدمت کر رہا ہو لیکن جہاں بولی لگنے لگے اور پہلے سے بیعانے لئے جانے لگیں تو وہاں دین کا جنازہ نکل جائے گا-

اگرچہ شرعی اعتبار سے اسکے لئے جائز ہے وہ اپنے اوقات کا معاوضہ لے لیکن یہ طے شدہ ہے کہ دین سکھانےاور ال محمد علیھم السلام کے فضائل و مصائب کو ذریعہ معاش بنانے سے دین کی روح ختم ہو جائےگی-

جن علماء و خطباء یا ذاکرین نے گذشتہ زمانے میں سختیاں برداشت کر کے دین کو ہم تک پہنچایا ہے ان کی مثالیں آج تک معاشرے میں موجود ہیں- قبلہ علامہ حافظ کفایت حسین اعلی اللہ مقامہ سے متعلق ان کے اہل و عیال سے منقول ہے کہ وہ کسی جگہ مجلس پڑھ کر نکلےتو بانیان مجلس نے ان کو کرایہ بھی نہ پوچھا تو بظاہر خوشاب کے علاقے سے وہ لاہور آنا چاہتے تھے تو وہ مجلس سے نکل کر جی ٹی روڈ پہ لاہور کی طرف پیدل چلنے لگے کہ تھوڑی دیر میں کسی پولیس آفیسر کی گاڑی قریب سے گذری جو بظاہر شیعہ تھے اور انہوں نے مولانا کو پہچان لیا اور گاڑی روک کر بڑے تعجب سے پوچھا آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں تو مولانا نے فرمایا لاہور اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں- تو بہت ہی تعجب سے افسر نےپھر پوچھا لاہور؟ اور پیدل چل کر؟ تو اس نے ان کو گاڑی میں سوار کر کے ان کی واپسی کا انتظام کیا-اسی طرح پاکستان کے نامور مناظر مولانا محمد اسماعیل مرحوم کے متعلق مشہور ہے کہ مال گاڑی پہ بیٹھ کر مناظرے کی جگہ پہنچ گئے-

علامہ قبلہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ و نور اللہ مرقدہ جو ہماری ملت کے قائد و رہبر کی حیثیت سے بہت بڑے منصب پہ فائز رہے ان کے متعلق ایک عالم دین سے واقعہ نقل ہوا جنہوں نے بعد میں اس علاقے میں مجالس پڑہیں کہ جہاں مفتی صاحب مرحوم پندرہ سال مسلسل عشرہ پڑھتے رہے-تو وہ مولانا فرماتے ہیں کہ انہوں نے بانی مجلس سے یہ روایت سنی کہ ایک سال جب عشرہ کی مجالس ختم ہوئی تو مفتی صاحب نے بانی مجلس سے کہا مجھے صبح ذرا جلدی جانا ہے لہذا ناشتہ جلدی دے دیں تو بانی مجلس کا کہنا تھا کہ مفتی صاحب اپنے ساتھ ایک منشی کو بھی ہمراہ لاتے تو اس کو بانیان مجلس نے ہدیہ پیش کیا اورصبح ناشتہ بھی تیار کر کے دیا لیکن مفتی صاحب لان میں ٹہل رہے تھے لیکن جا نہیں رہے تھے تو بانی مجلس نے منشی سے پوچھا کیا ماجرا ہے مفتی صاحب تو جلدی نکلنا چاہتے تھے- تو اس نے اس وقت ایک حقیقت سے پردہ اٹھایا جس کا علم اس پورے عرصے میں اسے نہیں تھا کہ مفتی صاحب ہر سال وہاں اسی منشی کے ساتھ آتے تھے اسکو کہتے تھے کہ یہاں موجود فقراء کی فہرست بناؤ اور جب عشرے کے آخر میں ان کو کوئی ہدیہ دیا جاتا وہ اس میں سے اپنا کرایہ نکال کر باقی منشی کو تقسیم کرنے کے لئے دے دیتے- لیکن اس دفعہ وہ کرایہ نکالنا بھی بھول گئے تو اس وجہ سے ان کے لئے اب نکلنا مشکل ہے- اور جیسا ہم نے ان کی زندگی میں دیکھا وہ بہت سادہ اور متواضع شخصیت تھے-

چنانچہ بانی مجلس دوڑے کہ وہ کچھ اور پونجی مولانا کو دیں تو اتنے میں ایک گاڑی آئی جن کا کوئی قریبی فوت ہو گیا تھا تو وہ مفتی صاحب گوجرانوالہ لے جانا چاہتے تھے چنانچہ مفتی صاحب نے موقعہ کو غنیمت سمجھا اور جلدی سے عبا و قبا سمیٹ کر گاڑی میں بیٹھ گئے تو اتنے میں بانی مجلس ایک لفافہ لے کر ائے جو وہ کچھ مزید دینا چاہتے تھے تو اس نے جب دینا چاہا تو مفتی صاحب نے فرمایا ابھی یہ گاڑی آگئی اب کچھ کرائے کی ضرورت نہیں – اور وہ بانی مجلس کو خدا حافظ کہہ کر نکل دئیے-

یہ وہ بے لوث دین کی خدمت کرنے والے اور دین پہ قربانی دینے والی شخصیات ہیں جنہوں نے قوم و ملت کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف کر دی- اور قوم میں بھی اپنا عظیم نام پیدا کیا اور یقینا یہ خدا کی بارگاہ میں بھی سرخرو ہیں-

قومی انحرافات:
قوم میں انحرافات کے اسباب گوناگون ہیں اور کاش ہمارے ملک کے اہل حل و عقد بیٹھ کر انحرافات کے اسباب پہ غور کرتے اور ان کے علل و اسباب کو تلاش کرنے کوشش کرتے لیکن ہمارے ہاں ایک طرف دشمن انحراف کو معاشرے میں رائج کرنے کے لئے کچھ ایجنٹ اور جیرہ خوار خریدتا ہےاور دوسری طرف کوئی دوسرا گروپ اس کے خلاف محاذ آرائی کرتا ہے-اس طرح سے دو محاذ بن جاتے ہیں -اور قوم میں ایک تفرقہ بازی شروع ہو جاتی ہے-اور محاذ آرائی میں دین کی روح کو نقصان پہنچتا ہے-اور دشمن اپنے نقشے میں کامیاب ہو جاتا ہے- کاش کبھی ہماری قوم کے ذمہ دار افراد انحرافات کا جائزہ لیں اور پھر ان کے حل کے لئے فکری اور نظریاتی جد و جہد کی جائے- اور دشمن کی سازش کا مقابلہ کیا جائے بجائے اس کے کہ ہم خود دشمن کی سازش کا شکار ہو جائیں-

جو انحرافات اس وقت ہمارے ملک میں موجود ہیں ان کا ایک بڑا سبب ہمارا ممبر اور خطابت ہی ہے چونکہ جہاں لوگوں کی طبع آزمائی اور لوگوں کا دل خوش کرنے کے لئے ممبر استعمال کیا جائے اور نکتہ بازی اور نکتہ سنجی ہی مقصد بن جائے اور کچھ لوگ ہمیشہ قوم کے جذبات کے ساتھ کھیلتے رہیں اور عام سادہ لوح لوگ بھی مجالس میں ہمیشہ ایڑیوں کے بل بیٹھے ہوں کہ کس وقت ممبر سے کوئی چٹپٹا نکتہ آئے جسے سن کر انہیں نعرہ لگانا ہو گا اور واہ واہ کے لئے ہاتھ بلند ہوں-یا جیسے بعض خطباء اپنے ساتھ اپنے ہمنوا لے کے جائیں کہ وہ ان کو داد دے سکیں تو ایسے ماحول دین لوگوں کی خواہشات کا مجموعہ رہ جائے گا اور ممبر سے جسے ہم ممبر رسول اللہ کہتے ہیں وہ ہماری خواہشات اور نفسانیات کا ممبر ہو گا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ممبر تو نہیں ہو سکتا چونکہ اس ہستی کے متعلق تو اللہ کی ذات نے فرمایا وہ کبھی خواہشات سے گفتگو کرتے ہی نہیں جب تک وحی نازل نہ ہو جائے- جیسا کہ روایت میں ملتا ہے کہ جب امام سجاد علیہ الصلاۃ والسلام جب دربار یزید میں پہنچے تو امام نے جب وہاں دربار میں موجود ممبر پہ جانا چاہا تو امام علیہ السلام نے اسے ممبر کے ساتھ تعبیر ہی نہیں کیا بلکہ فرمایا کیا میں ان لکڑیوں پہ سوار ہو کر خطبہ دے سکتا ہوں تو معلوم ہوا کہ ممبر اگر تو حق کی خدمت میں ہو اور اہل حق کے پاس ہو تو ممبر ہے ورنہ لکڑیوں کا بنا ہوا ایک ڈھیر ہے یا یہ ایک بت ہےجسے امام ممبر بھی نہیں کہتے چہ رسد ممبر رسول اللہ-

اور اگر یہ ممبر ہماری خواہشات کا مرکز بن جائے یا لوگوں کو خوش کرنے اور دوسرے فرقوں کو نیچا دکھانے کا سبب ہو تو یہ بھی ممبر نہیں رہ جائے گا-

اور پھر بد قسمتی سے اب تو جیسے بعض احادیث میں پیشنگوئی کی گئی کہ ممبروں پہ باندر ناچیں گے ہمارے ممبروں کی کچھ ویسی ہی کیفیت نظر آتی ہے- جن پہ بندر نما کارٹون بیٹھ قوم کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں اور قوم بھی جب سنی سنائی والی قوم ہو تو وہ ہر بات پہ واہ واہ کہہ کر مجلس کو زینت بخشتے ہیں-

پس نتیجہ یہ نکلا کہ جب تک ہمارے ملک میں علم ک قدر نہیں ہو گی اور علماء اپنے دینی فرائض کو انجام نہیں دیں گے اور خطباء و ذاکرین علماء کے سائے میں خالصتا خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری قوم دین کی حقیقت سے آشنا نہیں ہو سکے گی -اور انحرافات اس وقت جنم لیتے ہیں جب علماء اپنے دینی فرائض کو انجام نہ دے رہے ہوں- اور امام خمینی رح ہمیشہ ارشاد فرماتے تھے کہ ہر حال میں میدان میں رہو چونکہ تم نے میدان چھوڑ دیا تو اناڑی کھلاڑی آکر میدان میں جگہ کو پر کر دیں گے – آج اگرچہ ہمارے بعض علماء اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں لیکن علماء دین میں باہمی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے دشمن ہمارے ملک میں میں ہماری قوم کے بخئیے بکھیر رہا ہے اور قوم کو ٹکڑوں میں تقسیم کر رہاہے-

کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں کہ ابوذر بخاری جیسا بندر نچانے والا نادان اور جاہل ڈگڈگی بجا کر کچھ بازاریوں کو جمع کر کے تماشہ دکھا رہا ہو اور ایک اتنے بڑے ملک میں وہ سامری کا کردار ادا کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا رہا ہو اور دوسری طرف ایک قوم موجود ہو جس نے استعمار و استکبار اور برطانوی راج کا مقابلہ کیا ہو اور دنیا کے تمام مسائل میں قوموں کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے والی قوم ہو اس قوم میں سامری اپنی بین بجاتا رہے اور قوم خاموش تماشائی بنی ہو- اور چند بازاری دین کی بولی لگا کر اسے بیچ رہے ہوں تو اس صورتحال پہ یقینا ہمارے علماء و زعماء غور و خوض کر رہے ہونگے اور وہ اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ اور واقف ہیں- ہم نے بھی تذکر اور یاددھانی کی خاطر بعض کلمات لکھ دئیے- "فان الذکر تنفع المؤمنین”کہ یاد دھانی مؤمنین کو فائدہ پہنچاتی ہے-

وما علینا الاالبلاغ المبین-

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے