شفقنا اردو:‌سری لنکا کی حکومت نے سنہ 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ فائنل کے فکس ہونے کے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کی ذمہ داری سری لنکن پولیس کے آزاد سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کو سونپی گئی ہے۔

تحقیقات کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ گذشتہ ماہ سری لنکا کے سابق وزیر کھیل مہندا نندا الوتھ گاماگے نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 2011 ورلڈ کپ فائنل سری لنکا نے انڈیا کو ’فروخت‘ کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ میچ فکسڈ تھا تاہم بعد میں گاماگے نے اپنا بیان تبدیل کر دیا اور یہ کہا کہ فائنل کے فکسڈ ہونے کے بارے میں انھیں محض شکوک و شبہات تھے۔

سنہ 2011 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیا ہوا تھا؟

دو اپریل سنہ 2011 کو ممبئی کے وانکھڈے سٹیڈیم میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ فائنل میں انڈیا اور سری لنکا کی ٹیمیں مد مقابل تھیں۔ سری لنکن کپتان کمار سنگاکارا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور سری لنکا نے مقررہ پچاس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 274 رنز بنائے تھے۔

سری لنکن بلے باز مہیلا جے وردھنے نے 103 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی جبکہ سنگاکارا نے48 رنز بنائے۔

انڈیا نے مطلوبہ سکور 49 ویں اوور میں چار وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا تھا۔ انڈین کرکٹ ٹیم کے اوپنرز وریندر سہواگ صفر اور سچن تندولکر 18 رنز پر آؤٹ ہو گئے تھے لیکن گوتم گمبھیر نے 97 اور کپتان مہندر سنگھ دھونی نے آؤٹ ہوئے بغیر 91 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی چھ وکٹوں کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

تحقیقات میں کون کون طلب؟

سری لنکا میں ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں تحقیقاتی ٹیم سابق وزیر کھیل مہندا نندا الوتھ گاماگے سے گذشتہ ہفتے پہلے ہی پوچھ گچھ کر چکی ہے۔ منگل کے روز اپنے دور کے مایہ ناز بیٹسمین اروندا ڈی سلوا پولیس کے سامنے پیش ہوئے اور تحقیقاتی ٹیم نے ان سے چھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔

یاد رہے کہ اروندا ڈی سلوا 2011 کے عالمی کپ کے موقع پر سری لنکا کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین تھے۔

سابق وزیر کھیل کے فائنل کے فکس ہونے کے بارے میں بیان سامنے آنے کے بعد اروندا ڈی سلوا نے انڈین کرکٹ بورڈ ( بی سی سی آئی) سے کہا تھا کہ وہ اپنے طور پر بھی تحقیقات کروائیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس تحقیقات میں ہرممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں اگر انھیں انڈیا بھی جانا پڑا تو وہ جائیں گے۔ سری لنکن پولیس نے اپنی تحقیقات کے سلسلے میں بائیں ہاتھ کے اوپنر اپل تھارنگا کو بھی طلب کیا ہے۔ وہ فائنل کھیلنے والی سری لنکن ٹیم میں شامل تھے۔

جے وردھنے اور سنگاکارا کا ردعمل

سری لنکا کے سابق وزیر کھیل کی جانب سے فائنل کو فکس قرار دیے جانے کے بعد مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ان دونوں نے سابق وزیر کھیل کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

جے وردھنے نے یہ سوال کیا کہ کیا الیکشن قریب ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سرکس شروع ہو گیا ہو۔ انھوں نے سابق وزیر کھیل سے شواہد اور نام پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کمار سنگاکارا نے بھی اسی طرح کے ردعمل میں سابق وزیر کھیل سے کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ اسے آئی سی سی اور اس کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کے پاس لے جائیں تاکہ وہ اس دعوے کی تحقیقات کر سکے۔

ارجنا رانا تنگا کے شکوک وشبہات

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ارجنا رانا تنگا بھی 2011 کے فائنل کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ یہ فائنل میچ فکس تھا البتہ کچھ معاملات ایسے تھے جن پر توجہ دینے کی ضرورت تھی کیونکہ وہ ان سے مطمئن نہیں تھے اور انھوں نے اس بارے میں آئی سی سی سے کہا تھا کہ یہ اتنا بڑا میچ ہے لہٰذا اس پر گہری نظر رکھی جائے۔

رانا تنگا نے کبھی بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا معاملات تھے جن کی بنیاد پر وہ اس میچ کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ سری لنکا نے ارجنا رانا تنگا کی قیادت میں 1996 کا عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔

سری لنکن کرکٹ کرپشن کی زد میں

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے گذشتہ ماہ سری لنکا کے تین سابق کرکٹرز سے پوچھ گچھ کی تھی اور اس پوچھ گچھ کا تعلق سری لنکن کرکٹ میں کرپشن کے بارے میں تحقیقات سے تھا۔

سری لنکا کی کرکٹ کافی عرصے سے کرپشن کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی نے دو سال پہلے سری لنکن کرکٹ کے خلاف تحقیقات کے طویل سلسلے کا آغاز کیا تھا۔

آئی سی سی کے جنرل منیجراینٹی کرپشن الیکس مارشل کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات دراصل وہ سنجیدہ کوشش ہے جس کا مقصد سری لنکن کرکٹ میں پائی جانے والی کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے۔

سنہ 2018 میں الجزیرہ ٹی وی نے ایک اسٹنگ آپریشن کے ذریعے سری لنکا کی کرکٹ میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے بارے میں دستاویزی فلم تیار کی تھی جس میں سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ انٹرنیشنل میچوں میں پسند کی پچ تیار کرنے کے لیے کس طرح کیوریٹرز کو اپنے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ جس کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ان افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردی تھیں جنھیں اس دستاویزی فلم میں دکھایا گیا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے الجزیرہ ٹی وی سے تعاون کی درخواست کی تھی لیکن الجزیرہ ٹی وی نے کسی قسم کے شواہد آئی سی سی کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

آئی سی سی نے گزشتہ برس سری لنکن اوپنر سنتھ جے سوریا پر کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے پر دو برس کی پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سری لنکن کرکٹ میں کرپشن سے متعلق جو تحقیقات کی جا رہی ہیں سنتھ جے سوریا اس میں تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے جے سوریا سے کہا تھا کہ وہ تحقیقات کے سلسلے میں اپنا موبائل فون اس کے حوالے کر دیں لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنی تحقیقات کا مرکز سنہ 2017 میں زمبابوے کی سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کی حیران کن جیت پر رکھا تھا اس سیریز میں جے سوریا چیف سلیکٹر تھے۔

آئی سی سی نے گذشتہ برس جنوری میں سری لنکن کرکٹ کو یہ پیشکش بھی کی تھی کہ اگر کسی کرکٹر یا کھیل سے متعلق شخص نے ماضی میں ہونے والی مشکوک آفر سے آئی سی سی یا اپنے بورڈ کو مطلع نہیں کیا تو وہ اب اس بارے میں بتا کر سزا سے بچ سکتا ہے۔

آئی سی سی کا کہنا تھا کہ اسے اس پیشکش سے بڑی مدد ملی تھی کیونکہ گیارہ افراد نے اس سلسلے میں اہم معلومات فراہم کی تھیں۔

سنتھ جے سوریا کے علاوہ سری لنکا کے سابق فاسٹ بولر نوآن زوئسا کو بھی آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے میچ فکسنگ سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

سری لنکا میں گذشتہ برس نومبر میں کرکٹ کرپشن سے متعلق قانون سازی کی جا چکی ہے جس کے بعد اب میچ فکسنگ کو جرم قرار دیا جا چکا ہے جس میں ملوث شخص کو ساڑھے پانچ لاکھ ڈالرز جرمانہ اور دس سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے