شفقنا اردو:‌پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے پیر کو مالی سال 21-2020 کے بجٹ کو طویل مباحثے اور چند ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا  ۔ اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا پر واشگاف الفاظ میں‌کہا تھا کہ وہ اس بجٹ کو پاس نہیں‌ہونے دیں‌گی تاہم اتوار کی شام پی ٹی آئی نے نا صرف با آسانی بجٹ پاس کرا لیا بلکہ اپوزیشن کو بتا دیا کہ وہ کسی خوش فہمی میں نہ رہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی کوشش تھی کہ وہ وہ بجٹ کو کم سے کم ووٹ کے مارجن سے پاس ہونے دیں تاکہ انہیں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے میں مدد ملے مگر گزشتہ سال کی نسبت جہاں‌بجٹ صرف 24 زائدووٹوں سے پاس ہوا تھا اس سال یہ تعداد 61 ہو گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی 119 ووٹوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے 160 ووٹوں سے بجٹ پاس کرا لیا۔ ایسی صورتحال میں‌جب ق لیگ کے 5 اراکین ، بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی) کے چار اراکین اور پی ٹی آئی کے 28 باغی اراکین بشمول 15 مستقل ناراض اراکین بھی شامل تھے حکومت نے 160 ووٹوں سے بجٹ کیسے پاس کرا لیا؟

گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا عندیہ دیا ہے مگر کیا بلاول یہ بات بھول رہے ہیں کہ اگر وہ بجٹ کو روکنے میں‌ناکام رہے ہیں‌تو ان 41 افراد کی موجودگی میں عدم اعتماد کی تحریک کو کیوں‌کر کامیاب کروا سکتے ہیں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ 41 اراکین کون تھے جو بظاہر اپوزیشن پارٹیز کے ساتھ کھڑے تھے یا اپوزیشن پارٹیز کا حصہ تھے مگر انہوں‌نے پی ٹی آئی یعنی بجٹ‌کے حق میں‌ووٹ‌دیا؟ نہ تو اپوزیشن ان لوگوں کا نام بتانے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی حکومتی اراکین نے ان 41 اراکین کا ذکر کیا ہے؟

یہ 41 اراکین جو جس بھی بیرونی قوت کے اشارے پر ناچ رہے ہیں کل کو عمران خان کے خلاف بھی اسی طرح استعمال ہو سکتے ہیں‌جس طرح یہ بجٹ یا صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ 41 جو جمہوریت کا اصل گند ہیں کل کو اسی بیرونی قوت کے اشارے پر عمران خان کے‌ خلاف عدم اعتماد تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ اب ایسی صورت میں عمران خان کیا کریں گے؟

حقیقیت یہ ہے 1947 سے اب تک ایسے ہی 41 افراد پاکستانی جمہوریت کو مضبوط نہیں‌ہونے دیتے یہ اگر دنیا کی کسی بھی مہذب جمہوریت میں‌ہوتے تو اب تک ان کے منہ پر کالک مل کر انہیں پارلیمنٹ سے رخصت کر دیا گیا ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ 41 افراد آخر کب تک جمہوریت کے ساتھ، اس ملک کے عوام کے ساتھ اور اس ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں گے تاہم ان میں‌قصور شاید ان 41 افراد کا کم اور جمہوری پارٹیوں‌کا زیادہ ہے جو ان افراد کو جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتی ہیں۔ جب تک یہ 41 افراد پارلیمنٹ میں‌بیٹھے ہیں پاکستان نہ تو حقیقی جمہوری ملک بن سکتا ہے اور نہ ہی یہاں‌جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے کیونکہ جمہوریت کی مضبوطی کے لے لیے مضبوط اپوزیشن کا ہونا لازمی ہے جو ایسے افراد کی موجودگی میں‌کبھی مضبوط نہیں ہوسکتی۔

شفقنا اردو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے