شفقنا اردو:‌چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی سے متعلق قانون کے نفاذ کو چند مغربی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مغربی حلقوں میں اسے ہانگ کانگ کی خود مختیاری اور اظہار رائے کے منافی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی مناسب ہو گا کہ کئی مغربی سیاستدانوں اور تجزیہ نگاروں نے تو نئے قانون کا متن بھی درست طور پر نہیں پڑھا ہے اور نہ ہی وہ چین کے آئین اور ہانگ کانگ کے بنیادی قانون سے واقف ہیں۔مغربی سیاستدانوں نے صرف میڈیا میں آنے والی خبروں سے ہی نتیجہ اخذ کر لیا ہے جبکہ حقائق سے آگاہی کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی ہے۔

چین کی مخالفت میں امریکہ پیش پیش ہے جبکہ ابھی حال ہی میں ملک میں نسلی امتیاز کے خلاف جاری مہم "بلیک لائیو زمیٹر” کے دوران جب احتجاجی مظاہرین پولیس عمارتوں کو جلانے سمیت تجارتی مراکز اور عوامی مقامات پر توڑپھوڑ میں مصروف نظر آئے تو ایسے افراد کو امریکی میڈیا میں "جنگجو "نہیں بلکہ "خونخوار "قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس گزشتہ برس ہانگ کانگ میں جب ایسی مشتعل اور پرتشدد کارروائیاں دیکھنے میں آئیں تو امریکی حلقوں بالخصوص میڈیا میں انہیں "جمہوریت پسند مظاہرین” قرار دیا گیا۔

مبصرین کے خیال میں ایسے دوہرے معیارات ہی چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کی قانون سازی سے متعلق "گمراہ کن خیالات” کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہاں اس حقیقت کا ادراک لازم ہے کہ قانون سازی سے ہانگ کانگ کے سیاسی ،اقتصادی یا سماجی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چیف ایگزیکٹو کیری لام بھی واضح کر چکی ہیں کہ قانون سازی کا مقصد آزادی اظہار ،میڈیا یا پھر ہانگ کانگ میں کسی قسم کی اجتماعی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا ہر گز نہیں ہے۔ ہاں، لیکن چند ایسے شرپسند عناصر جو ہانگ کانگ کی ترقی ،امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ یہ عام سی بات ہے کہ ہر ملک کو ایسے عناصر کی سرکوبی کا پورا حق حاصل ہے جو انتشار یا پھر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

ہانگ کانگ سے متعلق قومی سلامتی کا قانون کہتا ہے کہ ہانگ کانگ کی خود اختیاری اہم ہے لیکن ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے اور "ایک ملک ” کا اصول سرخ لکیر ہے جسے کسی کو بھی پار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہر ملک اپنی قومی سلامتی ،قانون اور امن و امان کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرتا ہے اور چین نے بھی اپنا یہی حق استعمال کیا ہے۔ امریکہ نے چین کی مخالفت میں ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے ” ہانگ کانگ خودمختاری ایکٹ” بھی ایوان نمائندگان سے منظور کروا لیا ہے جس میں چینی اہلکاروں اور اداروں پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ہانگ کانگ کا” خصوصی تجارتی شراکت دار "کا درجہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی ہیریٹیج فاونڈیشن کی رواں سال کی درجہ بندی کے مطابق معاشی آزادی کے اعتبار سے ہانگ کانگ دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔چند برس قبل ہانگ کانگ درجہ بندی میں سرفہرست تھا لیکن گزشتہ برس اکثر احتجاجی مظاہروں کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کی قانون سازی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ بیرونی قوتوں کی مداخلت کی حوصلہ شکنی ہو گی۔کئی تاریخی پہلووں سے ہانگ کانگ میں "ایک قوم سے وابستگی” کا عنصر شہریوں میں مبہم رہا ہے ۔”ایک ملک ، دو نظام” کے اصول سے متعلق بات تو کی جاتی ہے لیکن غالب ہمیشہ سے "دو نظام” کا پہلو رہا ہے اور "ایک ملک” کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جبکہ گزشتہ تیئیس برسوں سے یہی رحجان زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لہذا اس قانون سازی کی بدولت حب الوطنی ،وحدت اور قومی یکجہتی کو بھی فروغ ملے گا اور قانو ن کی حکمرانی بھی صحیح معنوں میں واضح ہو گی۔

قانون سازی کا ایک نمایاں پہلو ہانگ کانگ میں معاشی و سماجی استحکام کا فروغ بھی ہے۔ وقتی طور پر ہانگ کانگ کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ امریکہ ہانگ کانگ کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اب چونکہ امریکہ نے اس درجے کو منسوخ کر دیا ہے لہذا محدود اثرات مرتب ہو سکتے ہیں لیکن طویل المیعاد بنیادوں پر ہانگ کانگ کی اقتصادی بحالی جلد ممکن ہو گی۔ویسے بھی عالمگیر وبا کے باعث امریکہ اور یورپی ممالک کی معیشتیں اس وقت شدید دباو کا شکار ہیں اور عالمی مالیاتی فنڈ کے حالیہ جاری "ورلڈ اکنامک آوٹ لک” کے مطابق چین کی معاشی نمو میں رواں برس ایک فیصد کا اضافہ ہو گا جبکہ امریکہ اور یورپی یونین کی معیشتیں آٹھ سے دس فیصد تک سکڑ سکتی ہیں۔

چین میں رواں برس غربت کے مکمل خاتمے سے ایک اعتدال پسند خوشحال معاشرے کی تکمیل کی جائے گی۔ ہانگ کانگ کی بات کی جائے تو یہاں اس وقت غریب افراد کی تعداد تقریباً پندرہ لاکھ ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر پانچ میں سے ایک شہری غربت کا شکار ہے۔ دوسری جانب چائنیز مین لینڈ میں حکومتی کوششوں سے 2012 میں غربت کے شکار تقریباً دس کروڑ افراد کو سال 2019 کے اواخر تک صرف پچپن لاکھ کی سطح تک کم کر دیا گیا ہے جو یقینی طور پر ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ دیگر دنیا کی طرح ہانگ کانگ میں بھی غربت ، سماجی اور سیاسی مسائل کا ایک اہم سبب ہے اور آئندہ اقتصادی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ بھی ہے۔ اس ضمن میں مرکزی حکومت اپنی تمام تر سیاسی توانائی بروئے کار لا کر ہانگ کانگ کی مقامی حکومت کو معاونت فراہم کر سکتی ہےاور غربت کا موئثر طور پر خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

ہانگ کانگ گزشتہ چند دہائیوں میں علاقائی سطح پر کھلونوں ،سستے ملبوسات او ر پلاسٹک مصنوعات سے نکل کر اب ایک عالمی مالیاتی مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے لیکن موجودہ وبائی صورتحال اور ماضی میں درپیش مالیاتی بحرانوں کے تناظر میں مضبوط فیصلہ سازی اور معاشی اصلاحات وقت کا تقاضہ ہیں۔ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب استحکام اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول ہو گا۔ اس ضمن میں چین کی مرکزی حکومت اور چینی عوام ہانگ کانگ کو ایک نئی قوت کی فراہمی کے لیے مضبوط ستون ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی ہانگ کانگ میں ایک مستحکم سماجی نظم و نسق کو سرمایہ کاری کے لیے فوقیت دیں گے۔

چین میں واپسی کے گزشتہ تیئیس برسوں میں چند تاریخی عوامل کی بناء پر ہانگ کانگ میں معیشت اور صنعتکاری کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکا ہے لیکن اب اس قانون سازی کی بدولت مرکزی حکومت ہانگ کانگ کو گلوبل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور تکنیکی اختراع کے ایک مرکز کے طور پر ڈھالنے میں نمایاں کردار ادا کر سکے گی اور میکرو اکنامک پالیسیوں کی بدولت صنعتی اپ گریڈیشن اور اقتصادی جدت کاری کو فروغ ملے گا۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ہانگ کانگ میں اس قانون کی بدولت اتحاد ،یکجہتی ،وحدت اور ہم آہنگی کے فروغ سے تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے۔

شاہد افراز خان

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے