شفقنا اردو: وفاق میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دوسرے اور پنجاب میں سب سے بڑے اتحادی "چوہدریوں” کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف مذہبی کارڈ جیسا خطرناک کارڈ کھیلنے کی کوشش کئے جانا بہت معنی خیز ہے۔ جو پاکستان میں کسی بھی حکمران یا حکومت کے خلاف کھیلا جانے والا آخری کارڈ سمجھا جاتا ہے جبکہ سنجیدہ سیاسی حلقوں کے نزدیک "چوہدری برادران” ایسا نازک ، حساس اور خطرناک کارڈ اپنے طور پر کھیلنے کا ایسا کوئی جذبہ رکھتے ہیں نہ ‘جرات’۔

باور کیا جاتا ہے کہ "چوہدریوں” نے وفاقی دارالحکومت میں مندر تعمیر کرنے بابت وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے اقدام کے خلاف خصوصی طور پر ایک وڈیو بیان جاری کر کے جو "نواں کٹا” کھولا ہے وہ اگر اسٹیبلشمنٹ کی فرمائش یا منشاء پر نہیں تو کم از کم مقتدر حلقوں کی ‘خاموش’ اپرُوول کے ساتھ یہ قدم اٹھایا ہے جس کی پیروی میں چند گھنٹوں کے اندر نئے انکشافات نے شامل ہو کر اسے "خادم رضوی” ٹائپ کی تحریک میں بدل دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیاست کے "سیانے” چوہدریوں نے متذکرہ وڈیو بیان جاری کرنے سے پہلے "خادم رضوی” ٹائپ بعض بنیاد پرست اور مذہبی انتہا پسند "کیمپوں” سے خاموش رابطہ کیا جس کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی کے "حاضر سروس” سپیکر نے یہ قدم اٹھا کر پہلے سے تقسیم اور پھوٹ کا شکار حکمران جماعت میں سیاسی نقب لگائی ہے جس کی صفوں میں کارکنوں ، بالخصوص اراکین اسمبلی کی ہم خیال آوازیں چوہدریوں کی آواز میں شامل ہو جائیں گی۔

اس کہانی کا آغاز گزرے اتوار کی شام اس وقت ہوا جب اسلام آباد کے سیکٹر F سیون میں پی ٹی آئی کے ایم این اے امتیاز صفدر کے گھر پر جمع حکمران جماعت کے 28 اراکین قومی اسمبلی نے اپنے اپنے حلقے میں سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ الاٹ کئے جانے ، ترقیاتی سکیموں کے لئے فنڈز جاری کئے جانے اور ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے بھی مرضی کے ٹھیکیداروں کو دیئے جانے کی اہم شرائط منوا لینے کے بعد بھی صرف بجٹ پاس کرنے کے لئے ووٹ ڈالنے کی حامی بھری تھی ، اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ، وزیراعظم عمران خان کے 2 قریبی رفقاء زلفی بخاری اور مراد سعید پر مشتمل 3 رکنی وفد کی منت سماجت کو خاطر میں نہ لائے اور اس وقت تک پرائم منسٹر کے عشائیہ میں شریک ہونے پر آمادہ نہ ہوئے جب تک حکمران پارٹی کے ان ‘باغی’ ارکان کو کہیں "اور” سے آنے والی فون کال پر وزیراعظم کے ڈنر میں جانے کو نہیں کہا گیا۔

گزشتہ اتوار کی شام وفاقی دارالحکومت میں جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ان ‘ ناراض ‘ ایم این ایز کا "باغیانہ” اکٹھ اسی طرح وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو کوئی پیغام دے رہا تھا وہیں حکومت کے بہت اہم اتحادی "چوہدریوں” کی طرف سے حکومت کے دیگر اتحادیوں کے لئے سجایا گیا "متوازی” ڈنر پرائم منسٹر ہاؤس کو ‘علیحدگی پسندی’ کا پیغام بھیج رہا تھا۔ قومی اسمبلی میں قائد ایوان یعنی وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی سیاسی کشتی کو "ان” کی طرف سے دیا جانے والا یہ پہلا جھٹکا تھا۔

اور اب دوسرا جھٹکا سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے” مندر مخالف” وڈیو بیان کی صورت میں دیا گیا ہے۔ لیکن یہ کوئی ایسا قدم نہیں جو عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ بچانے یا اپنے دوسرے سیاسی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر کسی بارگین کے لئے اٹھایا گیا ہو ، مذہبی کارڈ پر مبنی یہ "بے لگام” قدم واپس لیا جاسکتا ہے نہ حکومت مندر کی تعمیر کا قدم واپس لے لئے جانا ممکن نظر آتا ہے بلکہ اراکین پارلیمنٹ سمیت عوام الناس کے ایک بڑے حصے کو اپنے ساتھ انگیج کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ قدم مذیبی بنیاد پر حکومت ، اور وہ بھی اپنی ہی مخلوط حکومت کے مرکزی پارٹنر کے خلاف ایک ‘بے لگام’ مہم اور ایک نیا "فیض آباد” بن سکتا ہے۔

لہٰذا سنجیدہ سیاسی حلقوں میں "چوہدری برادران” کے حالیہ اقدام کو عملاً وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے علیحدگی سے تعبیر کیا جارہا ہے کیونکہ آنے والی "عید قربان” کے ماحول میں کوئی بڑی سیاسی قربانی خارج از امکان نہیں.

علیم عثمان

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے