شفقنا اردو: فالج، ہذیانی کیفیت، اضطراب، پریشانی، تھکن، اور اس جیسی ایک طویل فہرست۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کووڈ 19 نظام تنفس کی بیماری ہے تو دوبارہ سوچیے۔۔۔

جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس مختلف نوعیت کی دماغی بیماریوں کا موجب ہے۔

ایسے کئی لوگ جو اس بیماری سے متاثر ہوئے انھوں نے مجھ سے بعد میں رابطہ کیا اور بتایا کہ انھیں شدید نوعیت کا مرض نہیں ہوا تھا مگر اس کے باوجود کئی دن گزر جانے کے باوجود انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یادداشت متاثر ہوئی ہے، وہ ہر وقت تھکن محسوس کرتے ہیں اور توجہ ایک جگہ مرکوز کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

لیکن وہ جو اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ہونے والے واقعات زیادہ باعث پریشانی ہیں۔

میں پال مائلریا سے بات کر رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ انھیں دو بار فالج کا حملہ ہوا ہے اور دونوں مرتبہ اس کی وجہ کورونا وائرس کا انفیکشن تھا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونی ورسٹی کے 64 سالہ ڈائیرکٹر کمیونیکیشن ایک خوش بیان انسان ہیں اور جسم کے دائیں جانب کمزوری ہونے کے باوجود وہ خود چلتے پھرنے کے قابل ہیں۔

فالج کے حملے کے باوجود جس طرح ان کی طبیعت بحال ہوئی ہے وہ انتہائی حیران کن ہے اور حتی کہ لندن کے ہسپتال برائے نیورولوجی اور نیورو سرجری (این ایچ این این) میں ڈاکٹرز بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے ایسا مریض بہت کم دیکھا ہے۔

پال کو فالج کا پہلا حملہ اس وقت ہوا تھا جب وہ یونی ورسٹی کالج ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل تھے۔ خون کے بڑے بڑے لوتھڑے ان کے پھیپڑوں اور ٹانگوں میں موجود تھے تو انھیں خون پتلا کرنے کی دوا شروع کی گئی۔

لیکن اس کے دو دن بعد ہی انھیں ایک اور فالج کا حملہ ہوا جو کہ پہلے سے زیادہ بڑا اور خطرناک تھا جس کی وجہ سے انھیں لندن کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

وہاں کام کرنے والے دماغ کے ڈاکٹر اروند چندراتھیوا اپنی شفٹ ختم کر کے جا رہے تھے جب پال مائلریا کی ایمبولنس ہسپتال پہنچی۔

ڈاکٹر اروند کہتے ہیں: ‘پال کا چہرا بالکل سپاٹ تھا۔ وہ صرف ایک طرف دیکھ سکتے تھے اور انھیں نہیں معلوم تھا کہ فون کیسے استعمال کریں اور انھیں اپنا پاس ورڈ بھی نہیں یاد تھا۔ میرے ذہن میں پہلی بات یہ آئی کہ شاید خون پتلا کرنے والی دواؤں کی وجہ سے ان کے دماغ میں خون بہنا شروع ہو گیا ہے لیکن جو ہم نے دیکھا وہ بہت ہی عجیب اور مختلف تھا۔’

پال کو دوسرا سٹروک خون کا لوتھڑا جم جانے کی وجہ سے ہوا تھا اور اس کے باعث ان کے دماغ کے کچھ حصوں تک خون نہیں پہنچ پا رہا تھا۔

ٹیسٹس سے نظر آیا کہ ان کے خون میں جگہ جگہ لوتھڑے بن گئے تھے۔ جس چیز کی مدد سے اس صورتحال کو جانچا جاتا ہے اسے ‘ڈی ڈائمر’ کہتے ہیں۔

پال مائلریا کے جسم میں ڈی ڈائمر کی تعداد 80 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ ایک صحتمند انسان میں یہ 300 سے بھی کم ہوتے ہیں اور حتی کہ وہ مریض جن کو فالج ہوا ہوتا ہے، ان کے جسم میں بھی یہ ہزار کے قریب ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر اروند کہتے ہیں کہ ‘میں نے ایسی صورتحال اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ کچھ ایسا ہوا تھا کہ پال کے جسم نے انفیکشن کے رد عمل میں خون کو جمانا شروع کر دیا تھا۔’

برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس عرصے میں فالج کے مریضوں کو ایمرجنسی میں لایا نہیں جا رہا تھا۔ لیکن دو ہفتے کے دوران این ایچ این این کے ماہرین نے ایسے چھ مریضوں کا علاج کیا جنھیں کووڈ 19 کا مرض لاحق تھا اور انھیں فالج کے بڑے حملے ہوئے۔

اور ان میں سے کسی میں بھی وہ علامات نہیں تھیں جو فالج کے خطرے کو ظاہر کرتیں جیسے بلند فشار خون یا ذیابطیس۔ اور ہر مریض میں انھوں نے بڑے پیمانے پر خون کے لوتھڑے بنتے ہوئے دیکھے۔

فالج ہونے کی بظاہر ایک وجہ تو یہ تھی کہ وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے جسم کا مدافعتی نظام اتنا رد عمل ظاہر کرتا جس سے جسم اور دماغ میں سوزش ہو جاتی۔

ڈاکٹر اروند نے پال مائلریا کے دماغ کا عکس دیکھا تو انھیں اس میں جگہ جگہ پر نقصان نظر آیا جس سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ان کی سماعت، یادداشت ، حرکات و سکنات اور بولنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

پال پر ہونے والا فالج کا حملہ اتنا بڑا تھا کہ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ زندہ نہیں بچ سکیں گے اور اگر بچ گئے تو مفلوج زندگی گزاریں گے۔

پال کہتے ہیں کہ جب مجھے دوسرے حملہ ہوا، تو میری بیوی اور میری بیٹیوں کو لگا کہ بس اب سب ختم، وہ مجھے دوبارہ نہیں دیکھ سکیں گی۔ ڈاکٹروں نے بھی تقریباً جواب دے دیا تھا۔ لیکن بس کسی طرح سے میں بچ گیا اور اب بہتر ہوتا جا رہا ہوں۔’

پال مائلریا کی بہتری میں سب سے پہلی نشاندہی ان کی مختلف زبان بولنے کی مدد سے ہوئی۔ وہ چھ زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور وہ ایک نرس سے گفتگو کرنے کے لیے پرتگیزی زبان بولنا شروع کر دیتے تھے۔

‘ایسا عام طور پر نہیں ہوتا لیکن پال نے بیشتر زبانیں بالغ ہونے کے بعد سیکھناگ شروع کیں اور بہت ممکن ہے کہ اس کی مدد سے ان کے دماغ میں ایسی تبدیلیاں ہوئی ہوں جن کی مدد سے وہ اس فالج کے حملے کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔’

پال کہتے ہیں کہ وہ پہلے کی طرح اب تیزی سے نہیں پڑھ سکتے اور کبھی کبھی بھول جاتے ہیں لیکن یہ حیرانی کی بات نہیں ہے جب آپ یہ سوچیں کہ ان کے دماغ کے کس حصے کو نقصان پہنچا تھا۔

ساتھ ہی ان کی جسمانی صحت بھی بہتر ہو رہی ہے اور ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ کیونکہ وہ اپنی صحت اور تندرستی کا خیال رکھتے تھے تو شاید اس کی وجہ سے انھیں فائدہ ہوا ہو۔

‘میں روزانہ ایک گھنٹہ سائیکل چلاتا تھا اور ہفتے میں دو بار ورزش بھی کرتا تھا اور تیراکی بھی۔ میرے خیال میں اب میں سائیکلنگ تو نہیں کر سکتا لیکن امید ہے کہ تیراکی کر سکوں۔’

طبی تحقیقی جریدے لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 سے شدید متاثر ہونے والے 125 مریضوں کا معائنہ کیا گیا تو نظر آیا کہ ان کے دماغ میں کسی نوعیت کی خرابی ہوئی ہے۔ ان میں سے نصف کو فالج کا حملہ ہوا تھا اور دیگر کو دماغ سے متعلق دوسری بیماریاں ہوئی تھیں۔

اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک، پروفیسر ٹام سولومن نے مجھے بتایا: ‘یہ واضح ہے کہ کورونا وائرس دماغ میں بھی مسائل پیدا کرتا ہے جبکہ ہم پہلے صرف سمجھتے تھے کہ یہ پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی اور بھی وجوہات ہوں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ وائرس براہ راست دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں۔’

این ایچ این این میں کام کرانے والے دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر مائیکل زانڈی کہتے ہیں کہ ماضی میں سامنے آنے والی دو بیماریاں، سارس اور میرس دونوں کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئی تھیں اور ہم نے ان بیماریوں کا دماغی امراض سے تعلق دیکھا تھا لیکن ہم نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا موازنہ صرف 1918 میں آنے والے ہسپانوی فلو سے کیا جا سکتا ہے۔’

ہمیں اس بات پر یقین کر لینے سے پہلے احتیاط سے کام لینا ہوگا کہ آیا کووڈ 19 اور ہسپانوی فلو میں کوئی مماثلت ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس مرض سے متاثرہ افراد کے دماغ پر اثر ہوتا ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔