شفقنا اردو:‌ اب جبکہ برطانیہ کو ہانگ کانگ کے تین کروڑ شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھولنے کی وجہ سے چین کے سنگین جوابی اقدام کے خطرے کا سامنا ہے جو کہ برطانوی اعلان کو اپنے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دے رہا ہے، ہانگ کانگ کا بحران ایسے حالات میں سفارت کاری کے لیے ایک بڑی آزمائش بن گیا ہے جب عالمی وبا نے ہر مسئلے سے توجہ ہٹا دی ہے۔

اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ اس ڈرامے کے پس منظر میں چین کا عالمی سٹیج پر نئے عالمی نظام میں کیا مقام بن رہا ہے؟

سوال یہ بھی ہے کہ یہ مسئلہ بریگزٹ کے بعد کے حالات میں برطانوی حکومت کی ‘گلوبل بریٹین’ کے بینر تلے نئی اور پُرامید خارجہ پالیسی کی کوششوں میں کے لیے کتنا اہم ہوگا۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ بحران ناگزیر تھا؟ حالات شاید بہت ہی مختلف ہوتے۔ دو دہائیوں سے کافی پہلے مغربی ممالک کے پالیسی ساز اداروں کا خیال تھا کہ چین ایک مخصوص انداز میں اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ اس وقت کہا جاتا تھا کہ چین بین الاقوامی برادری میں ‘ایک ذمہ دار طاقت’ کے طور پر ابھرے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی پاسداری کرے گا کیونکہ عالمی نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے اُسے بھی اتنا ہی فائدہ پہنچے گا جتنا دوسروں کو پہنچتا ہے۔

اس قسم کی دنیا میں جس قسم کا معاہدہ چین اور برطانیہ نے ہانگ کانگ کے بارے میں کیا تھا وہ برقرار رہ سکتا تھا۔

لیکن ایسا نہ ہوا۔ چین کا قد بڑی تیزی سے بڑھا اور ایک ہی سمت کی جانب بڑھا۔ یہ خطے کی ایک فوجی طاقت بن کر ابھرا، یہاں تک کہ امریکہ جیسی طاقت بھی اس سے الجھنے سے پہلے سوچتی ہے۔

لیکن چین کا عروج ایک ایسے وقت میں ہوا جب مغرب اور خاص کر امریکہ دوسرے معاملات میں الجھے ہوئے تھے۔ ایک تو اس زمانے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی اور شام میں بحران تھا۔ جبکہ یورپ کی توجہ بریگزٹ کی جانب لگی ہوئی تھی۔

اور پھر اس وقت امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت آچکی تھی جو کہ چین کے بارے میں کوئی مستقل پالیسی رکھتی ہیں نہیں تھی۔ بلکہ یوں کہیں کہ یہ انتظامیہ خارجہ پالیسی کی تزویراتی حساسیت کی سمجھ سے ہی عاری تھی۔

گذشتہ پانچ برسوں میں نہ صرف چین کا عروج اُس وقت ہوا ہے جب امریکہ کا عالمی یاست میں اثر و رسوخ نسبتاً کم ہوا ہے، بلکہ بالکل زمین بوس ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ کے ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اتحادوں کو بحرانوں میں ڈوب گئے۔

اب جبکہ چین اور مغرب کے درمیان مسائل کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ان پر اس وقت کوئی ردعمل نہیں آیا تھا جب یہ ایک ایک دو دو کر کے ابھر رہے تھے۔ تجارتی معاملات میں کشیدگی، ٹیکنالوجی کے میدان میں ٹکراؤ، تزویراتی معاملات، اور ایسے کئی مسائل، اس وقت انھیں ایک ‘مسئلہِ چین’ کے طور پر نہیں دیکھا گیا جس کے لیے ایک ٹھوس اور مربوط پالیسی کی ضرورت محسوس کی جاتی۔

اب یہ وقت تھا جب دنیا کووِڈ-19 کے بحران کے دہانے پر پہنچ چکی تھی، ایک ڈرامہ جو چین میں پیدا ہوا اور کچھ عرصے کے لیے چین کے لیے یہ درد سر بھی تھا، لیکن صاف ظاہر تھا کہ وہ اس کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کا مصمم ارادہ لیے ہوئے تھا۔

یہ ایک اتفاق نہیں ہے کہ اس کا نتیجہ چین کی قومیت کی ایک کرخت آواز کی صورت میں نکلا ہے جو اس کی امریکہ اور آسٹریلیا سے کشیدگی سے لے کر انڈیا سے سرحدی تنازعات میں میں لڑائی کی صورت میں نظر آرہا ہے، اور ان سب پر حاوی معاملہ، ہانگ کانگ کے بارے میں برطانیہ سے معاہدے کے بنیادی ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دینا والا چینی فیصلہ ہے۔

بلا شبہ کووِڈ-19 نے چین کو یہ موقع دیا کہ وہ ہانگ کانگ کے معاملے کو اس کے سر لا کھڑا کرے۔

بہرحال جب تک یہ وبا جاری رہتی ہے، اس کا ایک اثر واضح ہے۔ چین کی مزید جارحانہ پالیسی کے راستے میں تبدیلی کا امکان اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ حقیقی اور ٹھوس دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اور ہانگ کانگ میں آزادیوں کے کچلنے کے لیے چین کے اقدامات کی جتنی بھی مذمت کر لی جائے اس کا اثر کوئی نہیں ہو گا۔

موجودہ حالات نے برطانوی حکومت کو ایک بہت بڑے مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ وبا کے عین وسط میں جب وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت جسے وبا سے مناسب طریقے سے نہ نمٹنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، اُسے برطانیہ کی نئی جارحانہ خارجہ پالیسی، جسے ‘گلوبل بریٹیش’ کہا جا رہا ہے، کے لیے پہلا بڑا چیلنج کہا جاسکتا ہے۔

فی الحال کسی کو نہیں معلوم کہ ‘گلوبل بریٹیش’ کیا ہے۔

بریگزٹ کے مخالفین طنزیہ انداز میں اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ ‘بدترین بات سے کوئی بہتر بات بنانا ہے۔’ اور اگر صاف بات کی جائے تو ان حالات میں جب کووِڈ-19 حکومت کا بے انتہا وقت لے رہا ہے تو ایسے میں یہ بہت ہی قبل از وقت ہوگا کہ ہانگ کانگ کی ایک مثال سے ‘گلوبل بریٹیش’ پالیسی کا کوئی مطلب بنایا جائے کہ یہ کیا ہے۔

لیکن چین سے اس تنازعے نے برطانیہ کی موجودہ سفارتی کمزوری اور طاقت کو عیاں کردیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بلند و بانگ دعووں کو بالائے طاق رکھ کے زمینی حقائق کو سمجھا جائے۔

ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے۔ برطانیہ ایک سابق نوآبادیاتی طاقت ہے جس کا بیجنگ پر کوئی اثرو رسوخ نہیں ہے۔ چین پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ داخلی سلامتی کی ناخوشگوار پالیسیوں کی متعدد قسمیں اپنانے کے علاوہ اس نے ہانگ کانگ کے بارے میں معاہدے سے رو گردانی کی ہے۔ لیکن چین ایک لحاظ سے ایک سپر پاور ہے اور اب یہ طے ہو چکا ہے کہ برطانیہ ایک سپر پاور نہیں ہے۔

تو پھر ایسے میں بورس جانسن کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔ بہت سارے لوگ شاید ان کی تعریف کریں کہ انھوں نے ہانگ کانگ کے تین کروڑ شہریوں کو برطانیہ کی پناہ دینے کی پیشکش کر کے اخلاقی لحاظ سے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی بڑی تعداد کے لیے پیشکش ہے اور خاص کر ایک ایسی جماعت کی جانب سے اس پیشکش کا آنا بہت ہی بڑی بات ہے جس کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد امیگریشن کے بارے میں بہت ہی حساس ہے۔

یہ حقیقت کہ شاید چین بہت سارے لوگوں کو ملک چھوڑنے ہی نہ دے یا یہ کہ بہت سارے لوگ ہانگ کانگ ہی میں رہنا پسند کریں، اور اگر کچھ لوگ ہانگ کانگ کو چھوڑیں بھی تو پھر وہ دنیا کے کسی اور حصے میں جانا چاہیں، بہرحال کوئی بھی صورت بنے لیکن اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ جانسن نے چینی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اعلیٰ اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کیا۔

تاہم سفارت کاری میں کئی اور اہم باتیں دیکھی جاتی ہیں۔ اصولی موقف (جس بارے میں کئی ماہرین یہ کہیں گے کہ عالمی معاملات میں ان کا کردار کم ہوتا ہے) ایک بات ہے، خارجہ پالیسی کے اہداف کو حاصل کرنا ایک پوری ٹیم کا کھیل ہوتا ہے۔ یہ اپنے اتحادیوں کے اعتماد کا حاصل کیے جانے سے متعلق ہے، اور پھر ایک مشترکہ حکمت عملی بنانا اور اس پر مشترکہ طور پر عملدرآمد کیا جانا ہے۔

یہاں باوجود اس کے کہ برطانیہ کی جانب سے ہانگ کانگ کے بارے میں بیان بازی کی حد تک بہت زیادہ حمایت کی جا رہی ہے، لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ امریکہ ہانگ کانگ کے خطے کو دی گئی تجارتی سہولتوں واپس لے رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی، یہ انتخابی سال ہے اور صدر ٹرمپ اس دوران چین کے ساتھ سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے نظر آنا چاہتے ہیں، جسے وہ اپنے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے ایک اہم حکمت عملی سمجھتے ہیں۔

لیکن ‘گلوبل بریٹین’ غیر معموملی طور پر الگ تھلگ ہے۔ یہ یورپ سے ‘نیم علحیدہ’ ہے، اس کا یورپی یونین سے مستقبل میں تعلقات کا نہایت پیچیدہ اور الجھے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اور اس کے امریکہ سے تعلقات کے بارے میں کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم جانسن کے درمیان خِوش مزاجی کے مظاہرے کے باوجود برطانیہ اِس وقت امریکہ سے ایک تجارتی معاہدے کا بیتابی کا ساتھ خواہاں ہے اور وہ اس بات سے بہت سے بہت زیادہ پریشان رہے گا کہ اُسے امریکہ کی حمایت کے عوض امریکہ کو کیا دینا پڑے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وبائی حالات نے ان مسائل کی سخت شرائط کو اجاگر کیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے کووِڈ-19 کے علاج کے لیے ایک اہم دوا ‘ریمڈیسیویر’ کی تمام پروڈکشن کو اس کے مینوفیکچرر سے خرید کر ‘امریکہ فرسٹ’ کے ہمیں اضافی معنی سمجھنے میں مدد دی ہے۔

یورپی یونین بھی اپنے رکن ممالک کے لیے اس دوا کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس معاملے میں برطانیہ کہا کھڑا ہے، اگرچہ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے اس دوائی کی اتنی مقدار حاصل کر لی ہے جو اس کی ضروریات کے لیے کافی ہوگی۔

یہ حالات برطانیہ کی عالمی بساط پر حیثیت کو واضح کرتے ہیں — یورپ میں ہے لیکن یورپ سے نہیں ہے، اور امریکہ کے قریب ہے لیکن اتنا بھی قریب نہیں ہے۔ یہ اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کی عالمی بساط پر اہمیت کی ایک بہت ہی اہم یاد دہانی بھی ہے۔

پچھلی دہائی کے بیشتر حصے میں ٹینک اور جوہری ہتھیار عالمی طاقت کہلانے کی نشانی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن یہ حقیقت کا ایک بہت ہی سطحی اندازہ تھا، جس میں اس حقیقت کو نظرانداز کردیا گیا تھا کہ فوجی ہتھیاروں کی جو بھی طاقت ہو، دوسری عالمی جنگ کے بعد اور سرد جنگ کے دوران امریکہ کے دنیا پر غلبے کی اصل وجہ اس کی اقتصادی قوت اور اس کی سائینسی تحقیقات کا وسیع دائرہ تھا۔

اب یہ خصوصیات چین کے پاس موجود ہیں۔ یہ اب دنیا کا نیا عالمی نظام ہے جس میں برطانیہ کے ‘گلوبل بریٹین’ بحری جہاز کو چلانا ہے۔

برطانیہ کے پاس نسبتاً کئی ایک خصوصیات ہیں۔ یہ اب بھی ایک امیر ملک ہے۔یہ بین الاقوامی سیاست میں اب بھی قائدانہ کردار رکھتا ہے، خاص کر اقوام متحدہ کی سلامی کونسل میں ویٹو پاور۔ لیکن اسے بریگزٹ اور کووِڈ-19 کے بعد کی دنیا سے اپنے روابط اور تعلقات از سرِ نو استوار کرنے کے نِت نئے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔

اس وقت پوری دنیا میں چین کی جارحانہ خارجہ پالیسی پر پریشانی کی علامتیں نظر آرہی ہیں جنھیں شاید اب ‘چائینا فرسٹ’ کا نام دینا چاہئیے۔

نوآبادیاتی دور کی یادوں نے برطانیہ کو ہانگ کانگ کے سیاسی ڈرامے میں ایک قائدانہ کردار دے دیا تھا۔ اب اسے ضرورت ہے کہ چین سے معاملات طے کرنے میں وہ ایک بین الاقوامی اتفاقِ رائے پیدا کرے: ایسا اتفاقِ رائے جو ایک جانب تو چینی دباؤ کو پیچھے ہٹا سکے اور ساتھ ہی چین کو مثبت طریقے سے دنیا کے اہم معاملات میں شامل کرنے کے لیے مائل کرے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے