شفقنا اردو:‌آج کل بیشتر افراد اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں مگر ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اکثر چارجنگ ثابت ہوتا ہے۔

درحقیقت اکثر فونز میں کچھ عرصے بعد ایسا نظر آتا ہے کہ وہ چارج ہونے کے لیے معمول سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔

اور یہ آپ کا تصور نہیں ہوتا درحقیقت واقعی بیٹری کو مکمل چارج ہونے میں وقت لگتا ہے۔

ایسی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جو کسی اینڈرائیڈ یا آئی فون کی چارجنگ کی رفتار سست کردیتی ہیں مگر بیشتر عام وجوہات پر قابو پانا آسان ہوتا ہے۔

چارجنگ کیبل کا مسئلہ

فون کے چارجنگ سسٹم کا سب سے کمزور لنک وہ کیبل ہوتی ہے جس سے اسے چارج کیا جاتا ہے۔

ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ چارجنگ کیبل بظاہر ٹھیک ہو اور کوئی نقصان نظر نہ آرہا ہے مگر یو ایس بی کیبلز کو اکثر اندرونی طور پر نقصان پہنچتا ہے، جس سے ان کی کرنٹ پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ فون کی چارجنگ سست روی سے ہورہی ہے تو اس مسئلے کا ایک آسان ترین حل چارجنگ کیبل کو بدلنا ہے۔

کمپپوٹر کی جگہ پلگ آؤٹ لیٹ کو ترجیح دیں

تیز ترین چارج کے لیے زیادہ بہتر یہ ہوتا ہے کہ پاور اڈاپٹر کو پلگ آوٹ میں لگا کر فون چارج کریں۔

کمپیوٹر میں یو ایس بی پورٹس میں عموماً ڈھائی واٹ کرنٹ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں آج کل کے فونز کے ساتھ آنے والے چارجر 12 واٹس سے کم کرنٹ فراہم نہیں کرتے، یعنی کمپیوٹر کے مقابلے میں لگ بھگ 5 گنا زیادہ تیز چارجنگ کرتے ہیں۔

کمزور پاور اڈاپٹر

سب پاور اڈاپٹرز ایک جیسے نہیں ہوتے۔

حالیہ برسوں میں فونز کے ساتھ اڈاپٹرز کو مزید طاقتور بنایا گیا ہے جو 20 یا اس سے بھی زیادہ واٹ کرنٹ فراہم کرتے ہیں، جس سے چارجنگ کا وقت کم ہوجاتا ہے۔

درحقیقت نئے پاور اڈاپٹرز کو پرانے فونز کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں، جس سے ان کے چارج ہونے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

آسان الفاظ میں پرانے اڈاپٹرز کی جگہ نئے کو دیں تاکہ چارجنگ کے حوالے سے بہترین نتائج حاصل کرسکیں۔

فون کے لیے چارجنگ مشکلات

آپ کا فون اس وقت زیادہ تیزی سے چارج ہوتا ہے جب اسے مکمل طور پر آف کردیا جائے، اگر وہ آن ہوتا ہے تو چارجر کی توانائی مختلف حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے، تاکہ وہ بیک گراؤنڈ ٹاسک اور فون کو چلانے کے لیے انرجی فراہم کرسکے۔

اگر فون بند نہیں کرسکتے تو کم از کم چارجنگ کے دوران اسے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

چارجنگ پورٹ میں مسئلہ

اس کا امکان کم ہوتا ہے مگر ہوتا ضرور ہے، یعنی فون کی چارجنگ پورٹ میں کچرا چلا گیا ہو یا اسے کسی قسم کا نقصان پہنچ گیا ہو۔

اس پورٹ کو غور سے دیکھیں کہ اس میں مٹی یا کسی قسم کا کچرا تو نہیں، اگر ضروری ہو تو ٹوتھ پک سے اسے صاف کریں۔

ہہت دیر تک چارج پر لگا نہ رہنے دیں

فون کو مکمل چارج ہونے کے بعد بھی پوری رات کے لیے چارجر پر لگا رہنے دینا درحقیقت طویل المیعاد بنیادوں پر بیٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

جب ہمارا اسمارٹ فون سو فیصد چارج ہوجاتا ہے اور پھر بھی چارجر پر لگا رہے تو بیٹری پر اسٹریس بڑھ جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ وہ بہت زیادہ تناﺅ کی زد میں آجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

تو جب بیٹری مکمل طور پر چارج ہوجائے تو اسے چارجر سے ہٹالیں، یہ ایسے ہی ہے، جیسے سخت ورزش کے بعد پٹھوں کو آرام پہنچایا جائے، خود تصور کریں کہ اگر آپ لگاتار کئی گھنٹوں تک ورزش کریں تو کیا حال ہوگا؟

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے