شفقنا اردو: دنیا میں‌ مختلف ممالک کے مابین سیاسی مفادات کی جنگ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور چلتی رہے گی۔ سیاسی مفادات کے علاوہ دنیا میں‌کئی ممالک کے مابین اختلافات اس قدر سخت نوعیت کے ہوتے ہیں کہ بات جنگوں تک پہنچ جاتی ہے جس کی موجودہ دنیا میں‌عام مثال پاکستان اور بھارت کا اختلاف، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کا اختلاف یاایران اور روس کے اختلافات۔ ان تمام اختلافات کے باوجود ایک انتہائی اہم بات کہ دنیا کے کسی ملک نے کسی دوسرے ملک کی مذہبی شناخت یا مذہبی نظریات کو تختہ مشق نہیں بنایا ۔ کجا مذہبی شناخت ایسا شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملا ہو کہ کسی مقتدر مذہبی شخصیت جس کو سیاست یا دنیاوی معاملات سے کوئی دلچسپی نہ ہو نشانہ بنایا گیا ہو۔

پوپ فرانسس ہوں یا ہندوں کے یوگی یا وید، یہودیوں کے ربی ہوں یا مسلمانوں کے کوئی عالم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان کا حکومتی سطح پر کہیں‌مذاق اڑایا گیا ہوحتی کہ دنیا کے مختلف مذاہب کے لوگ اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بارے گستاخانہ سوچ کے حامل نہیں‌ہوسکتے تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ سعودی عرب مسلمان ملک ہونے کے باوجود اخلاقی زوال کی اس سطح‌پر گرچکا ہے جس میں‌شاید ہی کوئی اور ملک گرا ہو کیونکہ مسلمان ملک ہونے کے باوجود ایک مسلمان عالم کی تضحیک نہ صرف انتہائی قبیح بلکہ ذہنی پستی کا حقیی عکاس ہے۔

حال ہی میں سعودی اخبار الشرق الاوسط نے ایک کارٹون کے ذریعہ آیت اللہ سیستانی کی جو توہین کی ہے اس کے لیے مذمت کا لفظ انتہائی چھوٹا ہے کیونکہ ایسا کئی دفعہ ماضی میں‌بھی ہو چکا ہے بلکہ بارہا ہو چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آل سعود اس کو باقاعدہ ایک پالیسی کے طور پر اپنا چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ شاید وہ خوف ہے جو شیعہ مراجیعت کی طرف سے آل سعود کی سامراجی سوچ کے لیے خطرہ ہے۔

سعودی عرب کی یہ فرقہ وارانہ سوچ دنیا کے کئی ممالک میں‌کھل کر سامنے آئی ہے جہاں سعودیہ نے اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے فرقہ واریت کو ہوا دی ہے اور اس کو باقاعدہ فنڈ کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان ہے جسے سعودی عرب نے ایران کی مخالفت میں فرقہ واریت کا اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ سعودی فرقہ واریت اور آل سعود کے نظریات کی ترویج ہی وہ مقصد تھا جس کی خاطر سعودیہ نے یمن میں‌بے گناہ بچوں‌کے خون سے ہاتھ رنگے اور شام میں لاکھوں مسلمانوں‌کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی۔

مزید برآں‌ تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں اہلِ تشیع کی اکثریت ہے اور وہ طویل عرصے سے ملک کے حکمران سنّی خاندان کے ہاتھوں امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ آل سعود نے قطیف اور دیگر ملحقہ علاقوں‌میں موجود شیعہ عوام کو نہ صرف جبری طور پر جیلوں میں‌بند کیا ہوا ہے بلکہ بہت سارے بے گناہ افراد کو سزائے موت کو مرتکب بھی قرار دیا گیا ہے۔ 2016 میں‌سعودیہ نے معروف شیعہ عالم باقر النمر کو صرف اس لیے سزائے موت سنادی تھی کیونکہ وہ صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے تھے ۔

واضح رہے کہ سعودی وزارتِ مذہبی تعلیم کے نصاب میں التوحید یا واحدانیت پر ایمان جو پرائمری مڈل اور ثانوی سطح پر پڑھایا جاتا ہے۔ شیعہ مذہبی طرزِ عمل کو ڈھکی چھپی زبان میں بد نام کرتے ہوئے شرک یا غلو (مبالغہ آمیزی) سے تعبیر کیا ہے۔

سعودی مذہبی تعلیمی نصاب میں شیعہ اور صوفیا کی قبروں اور مذہبی مزاروں پر حاضری کو تنقید کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس میں پیغمبر اور اہل بیت کو اللہ تعالیٰ کے درمیان ثالث مانا جاتا ہے۔ درسی کتب میں یہ بتایا گیا کہ سُنی اور شیعہ شہری دونوں کا طرز عمل ان کو شیعہ ثابت کرتا ہے۔ ان کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے لیے کافی ہیں اور ہمیشہ کے لیے ان کو جہنمی قرار دیا جاتا ہے۔

جرار علی

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے