شفقنا اردو:‌ یہ اس زمانے کی بات ہے جب بچپن نے آنکھیں موند کر ہمیں لڑکپن کے سپرد کیا تھا۔ کراچی میں آمد کے بعد جب پہلی مرتبہ محرم وارد ہوا تو پتہ چلا کہ شام پانچ بجے نشتر پارک میں مجلس ہو گی۔ دوبئی سے آئے ہوئے لڑکے کے لئے مجلس کا وقت اور جگہ دونوں حیرت کا باعث تھے۔ بھلا یہ کون سا وقت ہے مجلس کا اور وہ بھی پارک میں۔ ۔ ! یہ بھی شنید تھی کہ طالب جوھری خطاب کریں گے۔

سینٹرل جیل کے دروازے کے سامنے سہ راھے پر واقع ایرانی بیکری سے کچھ فاصلے پر، جہاں مجید بھائی پھلوں کا ٹھیلا لگایا کرتے تھے، پانچ نمبر بس کا اسٹاپ تھا۔ اسی میں چار آنہ کا ٹکٹ لے کر سوار ہو گئے۔ یہ اس عہد کی کہانی ہے جب سکہ رائج الوقت آنہ کی عنان، پیسے نے نہیں تھامی تھی۔

بس میں تنہا ہم ہی نہ تھے جس کی منزل قائد کے مزار کے سامنے نمائش کا اسٹاپ تھا۔ بے ہنگم شاعری اور اس سے کہیں زیادہ سماع خراش موسیقی کے بجائے ندیم سرور کا نوحہ ”ایں شب شب ماتم حسین“ محرم کی ابتدا کا اعلان کر رہا تھا۔ رواداری کا زمانہ تھا۔ گوکہ ناصبیت کی تخم ریزی شروع ہو گئی تھی البتہ تکفیریت کی بالیاں ابھی تک نہیں پھوٹیں تھیں۔ اہلبیت سے محبت کا تعلق مسلک سے نہیں، شرافت و وقار انسانی سے تھا

نمائش کے سٹاپ پر بس رکی تو عجب سماں دیکھنے میں آیا۔ دکھ کی چادر اوڑھے سوگوار بوڑھے، بچے، مرد اور خواتین ایک ازدھام کی صورت تیز قدموں سے لاؤڈ اسپیکر سے آتی ہوئی آواز کی جانب رواں دواں تھے۔

گلیوں میں لگائے اسٹالز پر ٹیپ ریکارڈ موجود تھے اور سامنے ترتیب سے رکھے ہوئے کیسٹس، جن پر نوحہ خوانوں کی تصاویر کے ساتھ ساتھ ان کی انجمن کا نام نمایاں لکھا ہوا ہوتا تھا۔ نوحہ خوانی باعث عزوشرف سمجھی جاتی تھی نہ کہ معاش کا ذریعہ۔ اس عہد کے فرزق تجارت سے نابلد تھے۔ ابھی تک نوحہ خوانی، تجربات اور کچھ نیا کر دکھانے کے جنون سے محفوظ تھی۔ بال لمبے رکھ کر ان کو مخصوص انداز سے جھٹکنے کی ادا رائج نہیں ہوئی تھی کہ نوحہ لکھا اور سنایا جاتا تھا، فلمایا نہیں جاتا تھا۔

ایک جانب مذہبی کتابوں کا اسٹال تھا کہ کتب بینی اس دور میں تعجب کا سبب نہ تھی۔ دوسری طرف جا بجا میزوں کو جوڑ کر انہیں سفید پیرہن پہنایا گیا تھا اور ان پر پلاسٹک کے جگ اور گلاس رکھے ہوئے تھے۔ اس سادہ سے انتظام کو ایک پیاسے کی پیاس سے موسوم کر دیا

گیا تھا۔ چودہ سو سال پہلے دشت کربلا میں نوے سال کے اوسجہ سے لے کر چھ ماھے اصغر کی زخم دریدہ لاشیں اٹھانے والے پیاسے حسین کے نام۔ ۔ ۔ وہاں پہنچے تو مائیک پر اشرف عباس کی پردرد آواز گونج رہی تھی۔ لگ رہا تھا کہ فضا مرثیہ پڑھ رہی ہے۔ پارک کیا تھا، ایک بہت بڑا سا گراؤنڈ تھا جو نارنجی، زرد اور سرخ رنگ کے شامیانوں میں گھرا ہوا تھا۔ جانے اس وقت کسی کو یہ خیال کیوں کر نہ آیا کہ سوگ کے اس پورے ماحول میں یہ شوخ رنگ شامیانے اپنے آپ سے کس قدر شرمندہ ہوتے ہوں گے۔

اشرف عباس منبر سے اترے تو پاک محرم ایسوسیشن کے منتظم نے کچھ گزارشات پیش کیں۔ اس کے بعد ایک شور سا بلند ہوا اور ایک با رعب شخصیت منبر پر جلوہ فگن ہوئی۔ سفید کرتا شلوار، کالی شیروانی اور سر پر جناح کیپ۔ علامہ صاحب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ مجلس کی روایت ہے کہ ابتدا عربی زبان میں خطبہ سے کی جاتی ہے اور مجلس کے موضوع کا تعین، سرنامۂ کلام کے لئے منتخب کی گئی آیت یا حدیث کرتی ہے۔ دو سے ڈھائی دقیقوں پر محیط یہ عرصہ علامہ صاحب نے اپنی مجلس میں روایت کی پاسداری کے لئے رکھا ہوا تھا۔ وہ محرم کی پہلی مجلس تھی لہذا علامہ صاحب نے آیت کا ترجمہ کرنے سے پہلے کچھ دیر توقف کیا۔ محض اتنا کہا کہ ”عزیزوں! محرم کا چاند افق پر نمودار ہو گیا ہے“ ۔ گو کہ یہ بات سبھی جانتے تھے، اسی لئے تو یہاں جمع بھی ہوئے تھے مگر جانے کیا کرب تھا اس جملے میں کہ مجمع تڑپ اٹھا۔ آنسوؤں سے بھیگی آوازیں نالوں میں ڈھلنے لگیں۔ علامہ صاحب نے دو تین جملے مزید ادا کیے اور پھر تقریر کا رخ بدل دیا۔

اگر خطابت ایک جوھر ہے تو علامہ صاحب بلاشبہ ایک نایاب گوھر تھے۔ اگر یہ فن ہے تو انہوں نے یقیناً اس کو توقیر بخشی ہے۔ منبر پر اس شان سے بیٹھتے کہ گویا بنا ہی ان کے لئے ہو۔ منبر سے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمع سے جس سہولت سے مخاطب ہوتے تھے، اسے دیکھ کر گھر کے مہمان خانے میں آمنے سامنے بیٹھ کر برسوں سے شناسا شخص کے ساتھ گفتگو کرنا شاید زیادہ دشوار لگنے لگتا۔

ہوش سنبھالنے کے بعد جب ہم پہلی مرتبہ کراچی آئے تو ہمارے لئے سب سے زیادہ تعجب کا سبب بالوں میں سفیدی اوڑھے خاندان کی وہ خواتین تھیں جو ہاتھوں میں دو سلائی تھامے گھنٹوں بے تکان گفتگو کرتی رہتیں۔ اس دوران ان کے ہاتھ غیر محسوس انداز سے سلائیوں کو مستقل حرکت دیتے رہتے اور محفل کے برخواست ہونے تک ست رنگی اون کے گولے تخلیق کے عمل سے گزر کر شاہکار بن چکے ہوتے۔ بعینیہ مجلس میں گزارے گئے ان ساٹھ دقیقوں پر بھی ہمیں یہی گمان ہوا۔ مجلس کیا تھی گویا استدلال، براہین اور آیات قرآنی کے دھاگوں کو تہذیب و خطابت کی سلائیوں میں پرونے کا حیران کر دینے والا تخلیقی معجزہ۔ ۔ !

باوجود اس کے کہ علامہ خطیب یگانہ تھے، جملہ معترضہ ہی سہی مگر خطابت ان کا خاصہ نہیں تھی۔ وہ تو گھر کی ادنی سی باندی تھی، ہاتھ جوڑے جنبش ابرو کی منتظر۔ مبہوت کر دینے والی ایسی یاداشت کے مالک تھے کہ ایک مجلس میں پچاس پچاس آیتوں کو انتہائی سہولت سے بیان کرتے۔ فرماتے کہ ”جب سے بزرگوں نے کہا ہے کہ قرآن کافی ہے تو ہم نے بھی طے کیا ہے کہ جواب قرآن سے ہی دیں گے“ ۔

ہمیں منبر سے کافی دور جگہ ملی تھی۔ اتنی دور کہ علامہ صاحب کی آنکھوں میں در آنے والی ذہانت کی چمک ہماری نظروں سے اوجھل تھی۔ محض چشمہ نطق سے جاری فصاحت و بلاغت سے سیرابی ممکن تھی۔

پچھلے سال ہم کو نیاگرا فال دیکھنے کاموقع ملا۔ اگست کا مہینہ تھا۔ شہر پہنچے تو سورج سوا نیزے پہ تھا۔ کرنیں نیزے کی انی کی طرح بدن میں چبھ رہی تھیں۔ گاڑی پارک کی اور آبشار کے قریب آئے۔ اس قربت میں بھی گو کہ فاصلہ عمیق تھا۔ مگر چار سو پھیلی پانی کے قطروں میں سمٹی دھند کی ٹھنڈک روح تک اتر آئی۔ علامہ صاحب کی مجالس میں ہم ہمیشہ فاصلے پر بیٹھتے رہے، مگر ان کی تقریر میں توحید و نبوت کے معارف کی چھاؤں نے ہمیشہ ہمیں الحاد و گمرہی کی دھوپ سے محفوظ رکھا۔

مجلس حسین محض مذہبی روایت کے نبھانے کا نام نہیں ہے۔ یہ زبان و تہذیب کے ارتقاء کی مہاری بھی ہے۔ علامہ کی مجالس نے بلاشبہ سامعین کے شعور کی عمومی سطح کو بلند کیا ہے۔ قرآن فہمی کے ذوق کو اوج بخشا ہے۔ دلیل دینے کا اسلوب سکھایا ہے۔ علامہ صاحب پورا سچ بولنے کے عادی تھے۔ ان کی مجالس اس امر کی گواہ ہیں۔ ان تمام نکات کی جانب اشارہ ضرور کرتے جو امت مسلمہ میں تفرقے اور خرابے کا باعث بنے۔ البتہ اشارے اس قدر لطیف ہوتے کہ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے سمجھ جاتے اور نہ جاننے والے کی تشنگئی علم میں اضافہ ہوتا۔

بہت عرصے بعد ان کی صاحبزادی کے گھر جب ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو صوفے میں پاؤں سمیٹے شخص کے گرد جانے کس شے کا ہالہ تھا جو ان سے کھل کر گفتگو کرنے میں حاجب رہا۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم اتنی قدآور شخصیت سے محو کلام ہوئے۔

تہذیب ہو، ثقافت ہو یا پھر مذہب، اپنے اوپر نقوش چھوڑ جانے والی شخصیات کے احسان کو تاریخ میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ منبر، اردو خطابت، اور قرآن فہمی کے دروس، آنے والے تمام ادوار میں طالب جوھری کے حوالے کے بغیر نامکمل رہیں گے۔

سید عباس رضا

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے