اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ایڈز کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایڈز سے وابستہ اموات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ دیر سے تشخیص اور علاج کی ناقص صورتحال سے اموات اور مزید پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع ضائع ہوجاتے ہیں۔

منگل کو شائع ہونے والے ‘گلوبل ایڈز اپ ڈیٹ 2020’ کے مطابق یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا، میانمار، تھائی لینڈ اور ویتنام میں ایچ آئی وی کے انفیکشن میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم پاکستان اور فلپائن میں انفیکشن میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آسٹریلیا، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں کامیاب ٹیسٹنگ اور علاج کے پروگرامز کی وجہ سے 2010 کے بعد سے ایڈز سے وابستہ اموات میں 29 فیصد کمی آئی ہے جنہوں نے 90-90-90 کے اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم پاکستان، افغانستان اور فلپائن میں ایڈز سے وابستہ اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

‘سیزنگ دی مومنٹ’ نامی رپورٹ میں کہا گیا کہ نیڈل سرنج پروگرام کی پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشییا اور تھائی لیڈ میں کوریج بہت مختصر ہے اور پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں اوپی آئیڈ سبسٹی ٹیوشن تھراپی سروسز یا تو دستیاب نہیں ہے یا پھر اس کی کوریج صرف 10 فیصد یا اس سے بھی کم ہے۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے