شفقنا اردو: پچھلے کئی دنوں سے اس بارے لکھنے کا سوچ رہا تھا۔ سہیل وڑائچ صاحب کی خبر ہے کہ عمران خان کے متبادل کے طور پر پرویز خٹک کا نام زیر غور ہے۔ وڑائچ صاحب نے جب نواز کے لئے ’پارٹی از اوور‘ لکھا تو واقعی نواز کی پارٹی اوور ہوگئی اور دوسری پارٹی شروع۔ وڑائچ صاحب کی خبر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میں کوئی صحافی نہیں لیکن پرویز خٹک کی سیاست بچپن سے دیکھتا آیا ہوں۔ سیاست پرویز خٹک کے لئے فقط کرسی اور اختیار کا نام ہے۔

سیاسی حرکیات سے خوب آگاہ ہیں اور اپنے سماج کی نفسیات پر پرویز خٹک کی گرفت انتہائی مضبوط ہے۔ کس کو کب اور کیسے جیب میں ڈالنا ہے ؛ پرویز خٹک سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ عام ووٹر ہو کہ گلی محلے کی سطح کا ورکر، یونین کونسل کا کونسلر ہو کہ اسمبلی کا ممبر۔ وزیر ہو کہ کرنل، جنرل؛ کس کو کیسے رام کرنا ہے، یہ خٹک کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت بن رہی تھی تو پرویز خٹک کی اولین ترجیح دوبارہ وزیراعلی کے منصب کا حصول تھا۔ تاکہ نوشہرہ سے نکل کر مزید علاقے فتح کرنے کی مہم جوئی شروع کی جائے۔ اس مقصد کے لئے اس نے مرکزی قیادت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے گھر صوبائی ممبران کا ہجوم اکٹھا کیا، تاکہ اپنی ’اکثریت‘ ثابت کرے۔ اس پر کافی لے دے ہوئی۔ خٹک انتہائی پوزیشن لینے کے موڈ میں تھے کہ جہانگیر ترین کا جادو کام کر گیا۔ حکومت قائم کرنے کے لئے جہانگیر ترین کے جہاز کی آنیاں جانیاں جاری تھیں، اس لئے پرویز خٹک اپنی مرضی کی وزارت پر مان گئے۔ خٹک نے وزارت داخلہ کی فرمائش داغ دی۔ وزارت داخلہ چونکہ عمران خان خود رکھنا چاہتے تھے کہ وہ یہ وزارت کسی کو دے کر پی ٹی آئی میں کوئی چوہدری نثار بننے سے خائف تھے۔

پرویز خٹک کو صدر پاکستان سمیت کوئی بھی عہدہ چننے کا اختیار دیا گیا۔ خٹک کی طائرانہ نگاہ وزارت دفاع پر پڑی کہ یہاں مقتدر حلقوں کے قرب کا احساس مستقبل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے بننے کے دو مہینے ہی ہوئے تھے کہ پرویز خٹک کے ایک انتہائی قریبی آدمی نے مجھے بتایا کہ خٹک کی اگلی منزل وزارت عظمی ہے۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو اس نے جواب میں کہا، ’جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے، خٹک صاحب کی سوچ کی پرواز وہاں سے اڑان بھرتی ہے‘ ۔

خٹک اور عمران دونوں ایچی سن میں اکٹھے پڑھتے تھے، خٹک عمران سے سینئر تھے اور بھلا کے اتھلیٹ تھے۔ دھواں خوری سے پیروں کی سرعت ماند پڑ گئی لیکن سیاسی دوڑ برابر جاری رہی۔ سیاست میں کبھی تیزی سے دوڑنے کی کوشش نہیں کی اور جب بھی جہاں بھی رخ تبدیل کرنے کی نوبت آئی، ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ایک سو اسی کے زاوئے پر گھوم گئے اور سر پٹ دوڑ پڑے۔ ضیاء کے مارشل لاء میں ڈسٹرکٹ کونسل کے الیکشن میں قسمت آزمائی کی لیکن آج کل غیر معروف عزت خان بابر سے ہار گئے۔

بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو خٹک نے نصیر اللہ بابر کا دامن تھاما اور ممبر صوبائی اسمبلی اور بعد ازاں وزیر منتخب ہوئے۔ اگلے الیکشن میں اپنے گاؤں کے طارق حمید خٹک سے ہار گئے، اگلی دفعہ پھر جیت گئے اور اگلے الیکشن میں ہار ایک دفعہ پھر مقدر ٹھہری۔ جنرل مشرف نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو پرویز خٹک کو مشرف کا ساتھ دینے میں ذرا تامل نہیں ہوا، مشرف کے آشیرباد سے ضلع ناظم منتخب ہوئے۔ اگلے انتخابات سے پہلے ’استخارے‘ میں شیرپاؤ کا دامن تھامنے کا اشارہ ملا۔

سیدھا شیرپاؤ پہنچے اور افتاب شیرپاؤ کے ٹکٹ اور ایم ایم اے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے زور پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مشرف کا سورج غروب ہوا تو آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ خٹک برادری کے طارق حٹک پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نیشنل اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے تھے۔ دونوں خٹکوں نے آپس میں ساز باز کرکے پیپلز پارٹی کے صوبائی امیدوار کو دغا دیا اور دونوں فاتح ٹھہرے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو پرویز خٹک سیدھا نواب شاہ پہنچے اور زرداری کے قدموں میں پائے گئے۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں وزیر آبپاشی بن بیٹھے۔ ساڑھے چار سال وزارت کی ’ذمہ داریاں‘ نبھا کر استعفی دیا اور عمران خان کے ساتھ تبدیلی کے سفر پر نکل پڑے۔ کمال یہ کیا کہ ساز باز سے ایک صوبائی سیٹ نکالنے والے پرویز خٹک پورے نوشہرہ کے ان داتا بن گئے۔ اب حال یہ ہے کہ نوشہرہ سے دو قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں، ضلعی اور تحصیل نظامت ان کے گھر میں ہیں اور ایک اور نشست آیندہ ماہ پکے ہوئے پل کی طرح جھولی میں گرنے کو ہے۔

مجھے ذاتی طور پر کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر پرویز خٹک عمران خان کو روند کر وزیراعظم بن گئے۔ حق یہ ہے کہ سیاسی حرکیات اور عوامی نفسیات سے زیادہ آگاہی کے باعث عمران سے بہتر وزیراعظم ثابت ہو سکتے ہیں۔ حٹک صاحب کے وزیراعظم بننے میں کوئی قباحت نہیں بس اتنا خیال رکھیں کہ ملکی سطح پر بی آر ٹی جیسا منصوبہ شروع کرنے سے باز رہیں۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے