پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے پٹرول بحران کا معمہ ابھی  حل نہیں کہ ایک بار پھر  تیل  بحران کے بادل سر پر منڈلانے لگے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق  وزارت پٹرولیم  کی جانب سے  ایک نوٹی فکیشن  جاری ہوا ہے جس میں آئل  مارکیٹنگ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ  یکم اگست سے  صرف  یورو فائیو پٹرول درآمد کریں گی جبکہ  یکم  جنوری 2021 سے یورو فائیو  ڈیزل  درآمد کیا جا ئے گا۔ 

وفاقی وزیر  برائے  منصوبہ بندی  اسد عمر کی سربراہی میں اس سال 4 جون کو   کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا جس میں  پٹرولیم مصنوعات کو یورو فائیو ٹیکنالوجی  پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔23 جون کو وفاقی کابینہ نے اس  کی منظوری دی  جس کے بعد وزارت پٹرولیم نے  نوٹی فکیشن جاری کردیا ۔

پاکستان میں لوگ گزشتہ دو دہائیوں سے یورو ٹو پٹرولیم مصنوعات استعمال کر رہے  تھے جسے اب  یورو فائیو میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی جو پٹرول اور ڈیزل  اپنی موٹر سائیکل ، رکشہ ، گاڑی وغیرہ میں ٖڈالتے ہیں وہ  ماحول دوست نہیں ہے، اس میں  کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور سلفر ہوتا ہے۔

یورو ون وہ معیار  ہے جس میں سلفر کی  تعداد ایک ہزار پارٹس فی دس لاکھ ہوتی ہے۔ یورو 2 میں یہ تعداد 500 پی پی ایم، یورو تھری میں تین سو پچاس، یورو فور میں پچاس جبکہ یورو فائیو اور یوروسکس میں سلفر صرف دس پی پی ایم ہوتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان چونکہ قدرتی  ماحول کو قائم رکھنے کے حوالے سے کافی  متحرک ہیں، درخت اور جنگلات لگانے کے حوالےسے  وہ ایسے اقدامات بھی کر رہے ہیں  جس سے ماحول کوکم سے کم  نقصان ہو۔

ملک کی پٹرولیم مصنوعات کو اپ گریڈ کرکے  یورو فائیو پر لے جانا اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں پٹرول کے تمام زرات جل جائیں گے اور فضا میں غیر ضروری  گیسوں کا اخراج  نہیں ہو گا جو آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ  فیول  گاڑی کے انجن کو بھی کم نقصان  پہنچا تا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک  یورو سکس سے ہائبرڈٖ پر منتقل  ہو گئے ہیں، جبکہ  یورپ 2030 تک  الیکٹرک ویکل   ٹیکنالوجی پر  منتقل ہو جائے گا ۔

پاکستان میں پانچ بڑی ریفائنری کام  کرتی ہیں جن میں  پارکو، اٹک  ریفائنری، بائیکو، نیشنل  ریفائنری  اور پاکستان  ریفائنری  شامل ہیں۔  اس کے علاوہ  پاکستان اسٹیٹ آئل ، ٹوٹل پارکو، شیل، اٹک پٹرولیم  اور حسکول آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں۔

پاکستان کی  پٹرولیم  کی  کل سالانہ ضرورت 19.68 ملین ٹن ہے اور اس میں سے  پٹرول 7.6 ملین ٹن ہے جو  30 فیصد بنتا ہے۔

ہم اپنی ضروریات میں سے  70 فیصد پٹرول اور 40 فیصد ڈیزل درآمد   کرتے ہیں ۔ باقی پرا ڈکٹس مقامی   ریفائنری تیار کرتی ہیں  لیکن جون میں پیدا ہونے والے بحران میں قوم  نے دیکھا کہ کس طرح  تیل کی قیمت کم ہونے پر اسے روک دیا گیا اور جب حکومت نے 26 جون کو  پٹرولیم   مصنوعات کی قیمیتں 25 روپے اضافہ کے بعد 100 روپے کردی تو  ایک دم پٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی  شروع ہو گئی۔

اوگرا کے مطابق  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 20 دن کا  تیل  ذخیرہ کرنے کی پابند ہیں ۔ اب جبکہ ان کمپنیوں کے  ذخائر سستے تیل سے بھرے ہوئے ہیں حکومت کی طرف سے یورو فائیو پٹرول درآمد کرنے کے فیصلہ  پر ان کمپنیاں  نے احتجاج کرنا شروع کردیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق  یورو فائیو کی فوری درآمد میں کئی رکاوٹیں ہیں، ان میں سب سے بڑی رکاوٹ کویت  پٹرولیم کارپوریشن ہے جس سے  ہم گزشتہ 40 سال سے سستا تیل  درآمد کر رہے ہیں جبکہ ہر شپمنٹ  کی ادائیگی 2 مہینے بعد کی جاتی ہے ۔

پاکستان کا اس سے معاہدہ  دسمبر 2020 تک ہے اگر پاکستان پرانے معیار کا تیل لینا بند کر دے تو اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی جس پر کویت  پاکستان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں بھی  جا سکتا ہے۔

دوسری  صورت میں پاکستان کو فوراً یورپ اور امریکا جانا پڑے گا اور یہاں پر ڈیل کرنا ، کاغذی کارروائی کرنا اور بحری  جہاز کے جانے اور آنے میں  اتنا وقت  لگ سکتا ہے کہ اس دوران  یکم  اگست کی تاریخ  بآسانی  گزر جائے گی ۔

تیسرا یہ کہ اخراجات بڑھنے سے  پٹرول کی  فی لٹر  قیمت میں 7 روپے تک اضافہ  ہوجائے گا جبکہ  درآمدی بل  میں بھی 25 سے 30  ارب روپے اضافہ ہو گا۔

آئل  ریفائنریز جو زیادہ تر فرنس  آئل کا کام کرتی ہیں انہیں تین سال  پہلے ہی اپنے پیداوارکو ماحول دوست ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا کہہ دیا  گیا تھا جس پر انہیں  بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ   کمپنیوں کی اسٹوریج پہلے ہی بھری ہوئی ہے جس سے نئے میعار کا  تیل  رکھنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت کے  فیول ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے اس فیصلہ کو سخت تنقید  کا نشانہ بنایا ہے اور امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں  میں ایک بار پھر  پٹرول پمپوں پر پٹرول نایاب ہو جائے گا اورعوام مہنگے پٹرول کے لئے مارے مارے پھر رہے ہوں  گے ۔   

شفقنا اردو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے