شفقنا اردو: برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس چین سے پھیلنا نہیں شروع ہوا۔ یہ دنیا میں کہیں بھی موجود ہوسکتا ہے اور جب ماحولیاتی صورتحال اس کی نشوونما کے لیے درست ہو تو یہ ظاہر ہوتا ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے مطابق آکسفورڈ کے سینٹر فار ایویڈنس بیسڈ میڈیسین (سی ای بی ایم) کے سنیئر ایسوسی ایٹ ٹیوٹر ڈاکٹر ٹام جیفرسن نے زور دیا کہ ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ یہ وائرس ایشیا میں ابھرنے سے پہلے بھی دیگر مقامات میں موجود تھا۔ اس سے پہلے اسپین کے ماہرن نے بتایا تھا کہ اس وائرس کے آثار مارچ 2019 میں اکٹھے کیے گئے نکاسی آب کے نمونوں میں دریافت کیے گئے ہیں۔

جون میں اٹلی کے سائینسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ کورونا وائرس دسمبر کے وسط میں وہاں موجود تھا۔ وہاں پہلا کیس فروری میں سامنے آیا تھا۔ ماہرین نے برازیل میں اس وائرس کے آثار نومبر میں دریافت کیے تھے۔

ڈاکٹر ٹام جیفرسن کا ماننا ہے کہ متعدد وائرسز ایسے ہوتے ہیں جو اس وقت تک چھپے رہتے ہیں جب تک حالات ان کے لیے موزوں نہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ جس طرح آتے ہیں، اس طرح اچانک غائب بھی ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘سارس 1 کہاں گیا؟ وہ بس اچانک غائب ہوگیا۔ تو ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور ہمیں وائرس کے ماحول کے بارے میں تحقیق شروع کرنے کی ضرورت ہے اور سمجھنا چاہیے کہ وہ کیسے بنتے اور مختلف اقسام میں بدلتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا میرے خیال میں یہ نیا کورونا وائرس پہلے سے یہاں موجود تھا، یہاں سے مراد ہر جگہ ہے۔ موزوں ماحولیاتی صورتحال میں وہ متحرک ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک صدی قبل یعنی 1918 کے اسپینش فلو میں بھی حیران کن چیزیں ہوئی تھیں، جیسے مغربی سمووا کی 30 فیصد آبادی اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوگئی، حالانکہ ان کا باہری دنیا سے کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔

ان کے بقول اس کی وضاحت یہی ہوسکتی ہے کہ یہ وائرس ہمیشہ سے یہاں موجود تھا اور کسی طرح متحرک ہوگیا۔ شاید گنجان آبادی یا ماحولیاتی صورتحال اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ ہمیں اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ وائرس نکاسی آب کے نظام یا شیئر ٹوائلٹس سے بھی پھیل سکتا ہے اور صرف کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے ذرات ہی اس کی منتقلی کا واحد ذریعہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہم اس حوالے سے باریک بینی سے تحقیق کررہے ہیں۔ ماحولیاتی صورتحال کی جانچ پڑتال، ان وائرسز کے حوالے سے ابھی بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے۔ اپریل میں کیمبرج کی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ نوول کورونا وائرس کی وبا ممکنہ طور پر گزشتہ سال ستمبر کی وسط میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور چین کے شہر ووہان سے اس کا آغاز نہیں ہوا۔

کیمبرج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں کووڈ 19 کی وبا کی بنیاد ڈھونڈنے پر کام ہورہا ہے اور تحقیقی ٹیم کو توقع ہے کہ وہ اس پہلے فرد کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جو اس وائرس کا پہلا شکار بنا، جس کے بعد یہ آگے پھیلنا شروع ہوا۔ وائرس کے پھیلنے کے نیٹ ورک کا تجزیہ کرنے کے دوران وہ اب تک اس کے پھیلاؤ کا چارٹ بشمول جینیاتی تبدیلیاں جاننے میں کامیاب ہوچکے ہیں یعنی کیسے یہ وائرس چین سے آسٹریلیا، یورپ اور باقی دنیا تک پھیلا۔

اس تحقیق کے دوران کورونا وائرس کے 1 ہزار سے زائد مکمل جینومز کو دیکھا گیا جن کا سیکوئنس انسانی مریضوں سے تیار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جینیاتی تبدیلیوں کی بنیاد پر وائرس کو ٹائپ اے، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا اور ٹائپ اے وائرس ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے براستہ پینگولین انسانوں میں پہنچا تھا۔

ٹائپ اے کو چینی اور امریکی شہریوں میں دریافت کیا گیا جس کا تبدیلیوں والا ورژن آسٹریلیا اور امریکا تک پہنچا۔ تحقیق کے مطابق ووہان میں زیادہ تر کیسز میں ٹائپ اے وائرس نظر نہیں آیا بلکہ ٹائپ بی وائرس متحرک تھا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہاں کسی ایونٹ سے یہ بدلنا شروع ہوا۔

ٹائپ سی ورژن ٹائپ بی کے بطن سے نکلا جو یورپ کے ابتدائی کیسز میں نظر آیا جبکہ جنوبی کوریا، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں بھی اس کے مریض تھے مگر چین میں اس کے آثار نہیں ملے۔ محققین کے مطابق جمع شدہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا 13 ستمبر سے 7 دسمبر کے دوران پھیلنا شروع ہوئی۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وقت کا تخمینہ غلط بھی ہوسکتا ہے مگر فی الحال یہی تخمینہ درست لگتا ہے۔ اس حوالے سے مزید مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

تحقیقی ٹیم کے قائد پیٹر فورسٹر کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر اس وبا کا آغاز ووہان سے نہیں ہوا کیونکہ وہاں تمام مریضوں میں ٹائپ بی وائرس دریافت ہوا۔ البتہ ووہان سے 500 میل دور واقع صوبے گوانگ ڈونگ میں 11 میں سے 7 جینومز میں ٹائپ اے کو دیکھا گیا۔ یہ تعداد بہت کم ہے کیونکہ وبا کے ابتدائی مرحلے کے جینومز کی تعداد بہت کم تھی۔

وائرس کی اصل بنیاد کی شناخت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسا ہونے سے بچا جاسکے اور اس سے یہ معلوم ہوگا کہ وہ کونسے عوامل ہیں جس کی وجہ سے کووڈ 19 پھیلا۔ سائنسدانوں نے پہلی بار اس وائرس کی بنیاد جاننے کے لیے قدیم زمانے کے انسانوں کی ہجرت کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو ٹریک کیا۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ مارچ میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس وائرس کا پہلا کیس 17 نومبر کو سامنے آیا تھا۔ یہ بات ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے چینی حکومت کے کورونا وائرسز کے کیسز کے تجزیے کے حوالے سے بتائی تھی۔ چینی حکومتی ڈیٹا کے مطابق 17 نومبر کو یہ ممکنہ پہلا مریض سامنے آیا تھا۔

اس کے بعد روزانہ ایک سے 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 15 دسمبر تک کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی تھی جبکہ 17 دسمبر کو پہلی بار 10 کیسز رپورٹ ہوئے اور 20 دسبمر کو مصدقہ کیسز کی تعداد 60 تک پہنچ گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق چینی حکومت کا یہ ریکارڈ عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا، مگر اس سے ابتدائی دنوں میں مرض کے پھیلاﺅ کی رفتار کے بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک چین میں کتنے کیسز رپورٹ ہوچکے تھے۔

سائنسدان اس پہلے مریض کی تلاش اس لیے بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ نئے کورونا وائرس کا باعث بننے والے ذریعے کا سراغ لگایا جاسکے، جس کے بارے میں ابھی سوچا جاتا ہے کہ یہ کسی جانور سے ایک اور جانور میں گیا اور پھر انسانوں میں منتقل ہؤا۔

حکومتی ڈیٹا کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے کیسز نومبر سے بھی پہلے رپورٹ ہوئے ہوں جن کی تلاش کا کام ہورہا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے