شفقنا اردو: پاکستانی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سندھ کے علاقوں میں ہونے والے حملوں کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ بلوچ اور سندھی علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے درمیان قریبی رابطہ ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کو کسی قسم کا اتحاد قرار دینا ابھی قبل از وقت ہو گا۔

گذشتہ ماہ کے اواخر میں کراچی میں پاکستان سٹاک ایکس چینج کی عمارت پر ہونے والے حملے میں دو گارڈز کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نامی علیحدگی پسند گروہ نے قبول کی تھی۔ اس گروپ کو امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

اس حملے سے چند ہفتے قبل سندھ میں ہونے والے تین دھماکوں میں دو رینجرز اہلکاروں سمیت چار افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ان حملوں کی ذمہ داری سندھو دیش ریولوشنری آرمی نامی گروپ نے قبول کی تھی۔ یہ گروپ سندھ کی پاکستانی وفاق سے علیحدگی کا حامی ہے۔

حکومت کی جانب سے ایس آر اے اور دو مزید سندھی گروہوں پر مئی میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل عمر احمد بخاری کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا گیا تھا کہ ان حملوں کے تانے بانے دشمن ایجنسیز سے ملتے ہیں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ سندھی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان اتحاد کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق جاری تحقیق میں یہ بات بلا شک و شبے کے واضح ہو جائے گی۔

عرب نیوز کے مطابق سٹاک ایکس چینج حملے کے بعد میڈیا کو بھیجی جانے والی ای میل میں بی ایل اے نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اسے سندھی گروہوں کی جماعت سے مکمل حمایت حاصل ہے۔

بلوچستان میں بھی علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان طویل عرصے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت پر بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت کا الزام عائد کیا جاتا ہے جب کہ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

گذشتہ مہینے سٹاک ایکس چینج کی عمارت پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی شک نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسی انٹیلی جنس رپورٹ موصول ہوئیں تھیں جس میں انہیں اور ان کی کابینہ کو ان خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔

سندھی علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے اس سے قبل ٹرینوں کی پٹڑیوں کو حملہ کر کے تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ بلوچستان میں ہونے والے حملے اس سے شدید نوعیت کے تھے۔ حکام کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کے بعد اب سندھی علیحدگی پسند گروہوں کے حملوں میں بھی شدت آ سکتی ہے۔

ایک پولیس افسر جو ایسے کسی ‘ممکنہ اتحاد اور اس کی بھارتی پشت پناہی’ کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا۔
‘ہمیں خطرہ ہے کہ اگر یہ اتحاد نہ توڑا گیا تو مستقبل میں اس سے زیادہ خطرناک ماورائے قانون واقعات ہو سکتے ہیں۔ بلوچ گروپوں کے پاس پہلے بھی کچھ نہ کچھ حملہ آور صلاحیت تھی لیکن اگر واقعی یہ اتحاد ہو جاتا ہے تو یہ خطرناک بات ہو گی۔’
نام ظاہر نہ کرنے کی ہی شرط پر ایک سینئیر اٹیلیجنس افسر کا بھی یہ کہنا تھا کہ ‘حملوں کی تعداد میں اضافہ اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب حملہ کرنے والوں کی مدد نسبتا مضبوط ہاتھ کر رہے ہیں۔’
سندھ رینجرز کے سربراہ کے مطابق سندھی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہ متحدہ قومی موومنٹ لندن کے ساتھ بھی قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند گروہوں اور ایم کیو ایم کے درمیان اگر کوئی تعلق ہے تو وہ پائیدار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایم کیو ایم کے ورکرز نے کبھی سندھی قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ مستقبل میں ایسا کر سکتے ہیں۔

کئی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکا کہ یہ اتحاد قائم کو چکا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک اور تجزیہ کار سہیل سانگی کا کہنا ہے کہ ‘سیاسی طور پر سندھی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان قربت ہو سکتی ہے لیکن عسکریت پسندانہ عزائم کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے یہ تسلیم کرنے کے لیے ہمیں مزید ثبوت درکار ہوں گے۔’

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار انور سجادی کا کہنا ہے کہ ‘ایسا اتحاد ممکن ہے کیونکہ یہ اتفاق نہیں ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے بعد اب سندھی گروہ بھی سی پیک کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم ان کے موقف میں یکسانیت دیکھ رہے ہیں۔ سی پیک جیسے موضوعات پر ان کا ایک موقف ان کو قریب لا سکتا ہے۔’

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے