اسلامی نقط نظر سے شادی کے لیے عمروں کا مناسب فرق کتنا ہے؟

اسلام کے مطابق شادی کے لیے نہ تو کہیں مخصوص عمر کا ذکر ہے اور نہ ہی مرد اور عورت کے مابین عمر کا کوئی مخصوص فرق بتایا گیا ہے اور نہ ہی اس بات کا کہیں ذکر ہے کہ شادی کے لیے لڑکا لڑکی سے عمر میں زیادہ ہو یا لڑکی لڑکے سے عمر میں بڑی ہو۔ اگرچہ ان باتوں‌کا کہیں مخصوص حوالہ موجود نہیں تاہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، آئمہ کرام اور معصوم اماموں علیہ السلام سے منسوب روایات اور ان کی زندگیوں سے ہمیں یہ ثبوت ملتا ہے کہ شادی کے لیے جلدی کرنی چاہیے۔ تاریخی شواہد اور معصومین کی سوانح عمریوں سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے سن بلوغت اور قریبا 20 برس کی عمر تک پہنچتے ہی اس فریضے کو سر انجام دیا۔ ان کے پوتوں اور نواسوں کے بارے میں بھی یہی بات درست پائی جاتی ہے۔ عموما سن بلوغت ہی کو شادی کے لیے بنیادی عمر تسلیم کیا جاتا ہے اور پھر اگر کسی شخص کو یہ لگے کہ اس عمل سے دیر میں‌وہ کسی گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے توپھراس عمر میں شادی اس کے لیے فریضہ بن جاتی ہے۔

 

اگر معصومین کی سوانح عمریوں اور تاریخی شواہد پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اماموں اور انبیا علیہ السلام ماسوائے چند ایک مثالوں کے جیسے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شادی، جس میں‌ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا عمر میں‌حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عمر میں بڑی تھیں باقی بہت کم ایسی مثالیں دیکھنے میں‌آئی ہیں۔ اس لیے شادی کے بارے میں‌کہا جاتاہے کہ بہتر یہی ہے کہ مرد عورت سے عمر میں زیادہ ہو تاہم اس میں بھی یہ فرق مخصوص نہیں کہ دونوں کی عمروں میں کتنا تفاوت ہو۔ اس وقت یہ کوئی ایسا اہم معاملہ نہیں تھا اس لیے اماموں کا اپنی ازواج سے عمروں کا فرق مختلف تھا اور یہ فرق کوئی مخصوص نہیں تھا۔

دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کی بلوغت میں عمومی فرق دو سے چھ سال تک کا ہوتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ شادی کے لیے ان کی عمروں‌میں بھی اتنا ہی فرق ہو کیونکہ سائنسی تحقیق اور نفسیاتی و معاشرتی نتائج اس بات کو ثابت کر چکے ہیں ۔ اگر لڑکی کی عمر لڑکے کی عمر سے کم ہو تو وہ عمرکی وجہ سے تابعدار بننے کی کوشش کرتی ہے جیسے جیسے عمروں کا فرق بڑھتا ہےعورتوں میں مادریت اور سرپرستی کا احساس بڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک عورت جو کہ 15 سال کی ہے یا اپنے شوہر سے عمر میں بڑی ہو اپنے شوہر کے ساتھ ماں یا بڑی بہن کی طرح کا سلوک کرے گی۔ دوسری جانب اگر مرد عورت سے بڑا ہوتو وہ اس پر بھروسہ کرے گی ۔ اسی طرح مرد کے لیے خاندان کی دیکھ بھال اور عورت کی کشش قائم رہے گی اور دونوں‌کے مابین باہمی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوگا۔

چوں کہ معصومیں کی تعلیمات اور ان کی عملی زندگی ہمارے لیے بہترین ثبوت ہیں اور سائنسی نتائج جن کو عقل تسلیم بھی کرتی ہے اور مذہب بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ پس لڑکے اور لڑکی کی شادی کے عمروں کے مناسب تفاوت کے لے نہ صرف ہم سائنسی دلائل کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ مقدس اور پاک ہستیوں‌کی زندگی سے بھی سیکھ سکتے ہیں‌۔ پس اب یہ بات واضح ہے کہ لڑکی کی عمر لڑکے سے کچھ سال کم ہونا ضروری ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے