وزیراعظم عمران خان نے 15 جولائی کو پاکستان کے سب سے بڑے آبی منصوبہ دیامر بھاشا ڈیم کی سائٹ کا دورہ کیا ۔ عسکری قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ اس ڈیم میں 10.5 کیوبک کلو میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ پاکستان کے لئے یہ منصوبہ یقیناً خوش آئند ہے۔ اس عظیم منصوبہ کی بدولت تربیلا ڈیم کی زندگی میں 35 سال اضافہ ہوگا دوسری طرف ملک میں 4500 میگاواٹ یومیہ ہائیڈور بجلی کی پیداوار ممکن ہو گی جس کی فی یونٹ قیمت تین روپے ہوگی، ڈیم سے سیلاب کا خطرہ ٹل جائے گا اور بے روزگاری کے اس آڑے وقت میں ساڑھے16 ہزار ملازمتوں کی نوید پی ٹی آئی حکومت کی عوام دوستی کا ڈنکا بجائے گی۔

دیامر بھاشا ڈیم کا یہ سنگ بنیاد پہلی بار نہیں رکھا گیا ۔ 1998 میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے اس منصوبہ کا پہلی بار افتتاح کیا تھا جبکہ اس کے قیام کی تجویز 1980 میں سامنے آئی تھی ۔ 2004 اور 2008 میں پہلی اور دوسری فزیبلٹی رپورٹ کے بعد 2011 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس کا سنگ بنیاد رکھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب چین کی ایک کمپنی سی ٹی جی پی سی نے سنگل بیڈ کی بنیاد پر ڈیم کے لئے اپنی مالی مدد پیشکش کی۔لیکن کرپشن کے الزامات کے خوف سے حکومت اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ کرنے سےہچکچاتی رہی ۔اسی دوران بھارت کی شرارت نے بھی اپنا اثر دکھا دیا تھا۔

انتہائی بلندی پر ضلع کوہستان اور ضلع دیامر کے درمیان دریائے سندھ پر بننے والے اس ڈیم کے لئے ماضی میں ورلڈ بینک اور ایشین بینک دونوں ہی اس کی معاونت سے انکاری رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھارت کا پراوپیگنڈہ تھا کہ گلگت بلتستان کا علاقہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ ہے۔ بھارت کے وزارت خارجہ کے ترجمان انوج سی ویشوا نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ اس علاقہ پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے ۔ یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے نئی دہلی اس علاقہ میں سی پیک کے تحت شروع ہونے والے تمام منصوبوں کی مذمت کرتا ہے۔

مودی سرکار دیا مر بھاشا ڈیم کو بھارت کی سالمیت اور خودمختاری پر حملہ قرار دیتی ہے لیکن اس کا اصل درد اس بات سے ہے کہ 8 سال میں تعمیر ہونے والے اس منصوبہ سے پاکستان میں ترقی کی رفتار بڑھ جائے گی۔ اس کے ساتھ اسے سب سے بڑی تشویش اس ڈیم میں چین کی شمولیت ہے ۔ چائنا پاور اور ایف ڈبلیو او کے مابین تیس اور ستر فیصد کے حساب سے شراکت داری ہے۔ چین کی موجودگی کے علاوہ مقامی طور پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کی حمایت سے بھارت پریشان ہے اس کے علاوہ لداخ میں بھارت کے ساتھ جو ہوا اور جو ہونے جا رہا ہے اس پس منظر میں پاکستان کی ترقی کی طرف بڑھتے قدم سے بھارت کو بڑی تشویش ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کے اقدامات پر جس طرح اقوام عالم خاموش ہے اسی طرح لداخ میں بھارت کی درگت پر بھی دنیا نے چپ سادھ رکھی ہے ایسی صورتحال میں اگر بھارت دیامر بھاشا ڈیم پر شور مچاتا بھی ہے تو دنیا اس کو سنجیدہ نہیں لے گی اس کی بڑی وجہ پاکستان حکومت کے وہ تمام اقدامات ہیں جو اسے عالمی قوانین اور کنونشن کے تحت حاصل ہیں۔

چلاس سمیت گلگت بلتستان میں اس عظیم الشان منصوبہ سے خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی جس سے یہاں کے رہنے والے عوام کا مرکزی حکومت پر اعتماد مزید بڑھےگا اور اس کا اظہار گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں یقیناً ہو گا۔

وزیر اعظم عمران خان کے اس عملی قدم میں پاک فوج بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت کا اس طرح ایک صف پر ہونا جہاں ملکی مفاد میں ہے وہیں یہ دشمن کے سینہ پر مونگ دل رہی ہے جبکہ چین کی دوستی بھی بھارت کے جارحانہ عزائم میں بڑی رکاوٹ ہے۔

وفاقی حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو سی پیک کا حصہ بنا کر فنڈنگ روکنے کی تمام گزشتہ کوششوں کا جواب بھی دے دیا جو وہ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور امریکا کے ذریعے کرتا رہا۔ دوسری طرف چین کی وزارت خارجہ نے بھی بھارت کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ۔ دنیا کی سیاست پر نظر رکھنے والے پاکستان اور چین کےدرمیان بڑھتی قربت کو خوش آئند قرار دیتے ہیں جبکہ اب چین ایران میں بھی 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہاہے۔ چا بہار ریل منصوبہ سے بھارت کو الگ کرنا بھی مودی حکومت کے لئے اہم پیغام ہے کہ وہ دوسروں کے لئے کنواں کھودنے کے بجائے اپنے عوام کی فکر کرے جو ہر حکومت کا بنیادی کام ہے بجائے اس کے کہ ٹوئٹر پر نو ڈیم آن انڈس ریور کے ہیش ٹیگ سے جعلی ٹرینڈ چلائے اور خطے میں مزید نفرت پیدا کرنے کے بھاشن کےبیج بوئے۔

تحریر: ٹی اے شمس

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے