شفقبا اردو:  طرز زندگی سوشل سائنسز کا ایک اہم نظریہ ہے جس نے موجودہ دور میں بہت زیادہ مقبولیت و توجہ پائی ہے۔ یہ نظریہ انفرادی اور سماجی اقدار اور معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ درحقیقت کسی بھی فرد یا معاشرے کا طرز زندگی اس کے اقدار اور نظریات کا مجموعہ ہوتی ہے اور یہی نظریات کسی بھی فرد یا معاشرے کے نگران ہوتے ہیں۔ دنیا کو مادی نقط نظر سے دیکھنا ، لذتیات کی طرف مائل ہونا اور فائدہ مند طرز زندگی پر مبنی اقدار ایک مخصوص طرز زندگی کو جنم دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ہر شخص کا طرز زندگی اس کے عمومی اور حتمی مقاصد کے زیر اثر ہی پروان چڑھتا ہے۔

اس طرح تمام ربانی اور انسانی طرز فکر برتر طرز زندگی پیش کرنے کا دعوی کرتے ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے بڑھاو کےساتھ ساتھ آج کا جدید انسان ایک طرح کے بحران کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

دوسری طرف اسلام جو کہ ایک آفاقی مذہب ہےقرآن کی قیمتی ایات، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اور اماموں علیہ السلام کی روایات سے ایک نئے طرز زندگی کو پیش کرتا پے تاکہ انسانیت ابدی نمو اور تکمیل کے لیے روشنی حاصل کر سکے۔اس معاملے کی اہمیت اسلام میں اس قدر زیادہ ہے کہ اس میں انسان کے چھوٹےچھوٹے رویوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے اسلامی سکالرز اور کچھ مذہبی رحجانات رکھنے والے افراد کے باوجود ایرانی معاشرہ بہت ساری اسلامی روایات کو خیر باد کہہ کر مغربیت کی طرف مائل ہو رہا ہے ۔

یہ بات زہن میں رہے کہ مغربی روایات سے جڑنے کا مطلب اسلامی طرز زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہے ۔یہ سارا عمل ہمارے معاشرے میں با آسانی اور بغیرکسی سوچ کے چل رہا ہے۔ دشمن اپنے طرز زندگی کو مسلط کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور اس کو عالمی سطح پر نافذ کر رہا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کےلیے بیدار رہنے اور اسلامی طرز زندگی کے نفاز کے لیے  کوششوں کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت کہ وہ کسی بہترین طرز زندگی ( اسلامی طرز زندگی) کا انتخاب کرے اور اس کی اشاعت میں اپنا کردار ادا کرے۔

.‎طرز زندگی کی مختلف اقسام

طرز زندگی انسان کی اندرونی اقدار کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اقدار کا اکٹھ انسان کے اندر جنم لیتا ہے اور انسان کو ایک مخصوص طرز زندگی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی حقیقت کےپیش نظر کسی بھی شخص کے دانشورانہ نقاط اور اندرونی اقدار میں اختلاف پایا جاتا ہے اور یہی مختلف طرز زندگی کا باعث بنتا ہے۔ باالفاظ دیگر لوگ ایک جیسے عقائد اور اصولوں کی پیروی نہیں کرتے اور جدید دنیا میں اس تنوع کے باعث ہر ثقافت میں ایک الگ ذیلی ثقافتی نظام پایا جاتاہے۔ ماضی میں ان ذیلی ثقافتوں کی بنیاد نسل، مذہب ، رنگ اور زیلی طبقات پر تھی مگر جدید دنیا میں اس کےتنوع میں عقائد، اقدار، رویوں، نظریات اور ضروریات کی بنیاد پر مزید وسعت ائی ہے۔

مغربی طرز معاشرت
طرز زندگی پر بنیادی بحث مغربی دنیا کی مرہون منت ہے کیوں کہ وہاں معاشرہ سماجی اور ساختی اعتبار سے قیام پزیر ہے۔ دوسرے لفظوں میں فکر کے میدان میں ، سیاسی عمل میں اور معاشی طرز عمل میں ان کی سوچ سائنسی بنیادوں پر کھڑی ہے اور استحکام پر ان کا ایمان بہت واضح ہے۔ در حقیقت طرز معاشرت مغربی تہذیب کی راہ کے اختتام پر متعارف کرایا گیا اور اس کا نتیجہ مغربیت اور جدیدیت کی شکل میں سامنے آیا۔ با الفاظ دیگر مغرب میں طرز معاشرت کا مفہوم اس کے سماجی ارتقا اور سماجی نقط نظر کے مختلف ارتقائی مراحل کے بعد اخری مقام کے بعد واضح ہوا۔ جب کہ جدیدیت کا اختتام بیسویں صدی کے اختتام پر امریکی آزاد سامراجی سماجی نظام کے وجود میں آنے سے ہوا۔ یہ وہ حالات تھے جنہوں نے مغربی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ۔

مغربی طرز معاشرت کے تناظر میں اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا” مغربی ثقافت ایک جارح ثقافت ہے یہ جب داخل ہو جائے تو قوموں کی شناخت تباہ کر دیتی ہے۔ مغربی تہذیب ازہان اور خیالات کو مادیت زدہ کر دیتی ہے۔ زندگی کا مقصد صرف پیسا اور دولت بن جاتی ہے ۔ اعلی و ارفع نظریات ، روحانی برتری اور روحانی بظریات کا وجود انسانی ذہنوں سے مٹ جاتا ہے۔یہی مغربی طرز معاشرت کی خصوصیات ہیں۔ مغربی طرز معاشرت کا ایک اور اہم پہلو تقصیر اور جنسی گناہ کو عام کرنا ہے۔ آج مغرب خود اس صورتحال کو ذلت آمیز خیال کرتا ہے ۔ اول برطانیہ اور امریکہ اور دیگر ممالک نے ہم جنس پرستی جیسے گناہ عظیم کو اہمیت دی ۔ وہ ایک وزیر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرستی اور ہم جنس پرستوں کے خلاف کیوں ہے۔ یہ ہے مغربی طرز معاشرت جہاں شراب اور نشہ آور ادویات کے استعمال سے عائلی زندگی تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔

اسلامی طرز معاشرت

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو زندگی کے سبھی پہلووں کا احاطہ کرتا ہے۔یہ وہ مذہب ہے جو زندگی کے سبھی مراحل اور ہر طرح کے حالات کے بارے آگاہی دیتا ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ دنیا کی مخصوص تصویر اور نظریات سامنے رکھتا ہے اور اس کو سامنے رکھ کر دینی زندگی کی بنیاد رکھتا ہے اور اگلے مرحلے میں مجلسی آداب کو پیش کرکے یہ بنی نوع انسان کے تمام پہلوؤں کے لیے ایک لائحہ عمل پیش کرتا ہے ۔ درحقیقت یہ طرز زندگی کو ایک مخصوص شکل میں ڈھالتا ہے۔

پہناوے، خوراک، بناو سنگھار، خاندان، پڑوسی ، مومنین ساتھی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے بارے میں طور طریقے اور پھر بین المذاہب تعلقات کے بارے میں راہنمائی درحقیقت مذہبی طرز زندگی کو تشکیل دینے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ درحقیقت اسلام نے زندگی کےہر شعبےکے بارے میں ہدایات دی ہیں اور اگر بنی نوع انسان اپنی زندگی میں ان ہدایات کو مدنظر رکھے تو سمجھو کہ اس نے اسلامی طرز معاشرت کے مطابق زندگی گزاری ہے۔
. ‎

توحید اسلامی طرز زندگی کی بنیاد ہے جس کے تحت رسالت، امام اور زندگی بعد الموت با معنی ہو جاتے ہیں ۔ جب توحید انفرادی زندگی پر غلبہ پا لے اس کی زندگی کے سبھی معاملات یعنی عبادات، تجارت، تعلیم، فراغت، معاشرتی تعلقات ، صحت، خوراک، بولنے کا طور طریقہ، جسمانی خوبصورتی اسلام کی راہ پر آ جاتے ہیں اور زندگی کے ہر پہلو کو الہامی خصوصیات عطا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سپریم لیڈر نے فرمایا کہ ” توحید نہ صرف واحد فلسفیانہ اور دانشوارانہ تھیوری ہے بلکہ بنی نوع انسان کے لیے زندگی کا راستہ ہے جس پر چل کر اللہ کے حکم کے تابع ہوا جا سکتا ہے اور مختلف طاقتوں کا رستہ روکا جا سکتا ہے۔

توحید اسلامی طرز زندگی کی بنیاد ہے جس کے تحت رسالت، امام اور زندگی بعد الموت با معنی ہو جاتے ہیں ۔ جب توحید انفرادی زندگی پر غلبہ پا لے اس کی زندگی کے سبھی معاملات یعنی عبادات، تجارت، تعلیم، فراغت، معاشرتی تعلقات ، صحت، خوراک، بولنے کا طور طریقہ، جسمانی خوبصورتی اسلام کی راہ پر آ جاتے ہیں اور زندگی کے ہر پہلو کو الہامی خصوصیات عطا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سپریم لیڈر نے فرمایا کہ ” توحید نہ صرف واحد فلسفیانہ اور دانشوارانہ تھیوری ہے بلکہ بنی نوع انسان کے لیے زندگی کا راستہ ہے جس پر چل کر اللہ کے حکم کے تابع ہوا جا سکتا ہے اور مختلف طاقتوں کا رستہ روکا جا سکتا ہے۔

لا الہ الللہ یعنی اللہ سے سوا کوئی معبود نہیں جو کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور دیگر پیغمبروں کا بنیادی پیغام ہے اور جس کا مطلب ہے کہ زندگی اور بنی نوع انسان کے رستے اور پسند و نا پسند ، ظالموں اور طاغوتی طاقتوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ اگر توحید کو حقیقی معنوں میں معاشرتی زندگی پر لاگو کر دیا جائے تمام معاشرہ درست طریقے سے راہ عمل پہ لگ جائےگا۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہو گا جو صحیح معنوں میں ارتقائی اور برتر ہو گا۔۔.

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے